"سلطنت غزنویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
م درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
سطر 44:
|stat_area1 = 3400000
}}
'''سلطنت غزنویہ''' 976ء سے 1186ء تک قائم ایک حکومت تھی جس کا دار الحکومت [[افغانستان]] کا شہر [[غزنی]] تھا۔ اس کا سب سے مشہور حکمران [[محمود غزنوی]] تھا جس نے [[ہندوستان]] پر 17 حملے کئےکیے اور سومنات پر حملہ کرکے بطور بت شکن خود کو تاریخ میں امر کر دیا۔
 
== قیام ==
 
جب [[دولت سامانیہ|سامانی]] حکومت کمزور ہوگئیہو گئی اور اس کے صوبہ دار خودمختارخود مختار ہو ہوگئےگئے تو ان میں ایک صوبہ دار [[سبکتگین]] (366ھ تا 387ھ) نے [[افغانستان]] کے دار الحکومت [[کابل]] کے جنوب میں واقع شہر [[غزنی]] میں 366ھ میں ایک آزاد حکومت قائم کی جو تاریخ میں '''دولت غزنویہ''' اور '''آل سبکتگین''' کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بعد میں سبکتگین کا خراسان پر بھی قبضہ ہو گیا۔ اسی سبکتگین کے زمانے میں مسلمان پہلی مرتبہ [[درۂ خیبر|درہ خیبر]] کے راستے [[پاکستان]] میں داخل ہوئے ۔
 
اس زمانے میں [[لاہور]] میں ایک ہندو راجہ [[جے پال]] حکومت کرتا تھا اس کی حکومت [[پشاور]] سے آگے [[کابل]] تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کی سرحدیں سبکتگین کی حکومت سے ملی ہوئی تھیں۔ راجہ جے پال نے جب دیکھا کہ سبکتگین کی حکومت طاقتور بن رہی ہے تو اس نے ایک بڑی فوج لے کر غزنی پر حملہ کر دیا لیکن لڑائی میں سبکتگین نے اس کو شکست دے دی اور جے پال کو گرفتار کر لیا گیا۔ جے پال نے سبکتگین کی اطاعت قبول کرکے اپنی جان بچائی اور سالانہ خراج دینے کا وعدہ کیا۔ اب سبکتگین نے جے پال کو رہا کر دیا اور وہ لاہور واپس آ گیا لیکن اس نے وعدے کے مطابق خراج نہیں بھیجا جس کی وجہ سے سبکتگین نے حملہ کر دیا اور وادی پشاور پر قبضہ کر لیا۔
سطر 60:
سبکتگین کا 20 سال کی حکومت کے بعد انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا محمود غزنوی تخت پر بیٹھا۔ محمود خاندان سبکتگین کا سب سے بڑا بادشاہ ہوا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مشہور حکمرانوں میں سے ایک محمود ہندوستان پر 17 حملوں کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔
 
محمود بچپن سے ہی بڑا نڈر اور بہادر تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکا تھا۔ بادشاہ ہونے کے بعد اس نے سلطنت کو بڑی وسعت دی۔ وہ کامیاب سپہ سالار اور فاتح بھی تھا۔ شمال میں اس نے [[خوارزم]] اور [[بخارا]] پر قبضہ کر لیا اور [[سمرقند]] کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے اس کی اطاعت قبول کرلی۔ اس نے پہلے بخارا اور سمرقند [[کاشغر]] کے [[ایلک خانی]] حکمرانوں کے قبضے میں تھے اور خوارزم میں ایک چھوٹی سے خودمختارخود مختار حکومت آل مامون کے نام سے قائم تھی۔ جنوب میں اس نے [[ر|رے]]، [[اصفہان]] اور [[ھمدان|ہمدان]] فتح کرلئے جو [[بنی بویہ]] کے قبضے میں تھے ۔تھے۔ مشرق میں اس نے قریب قریب وہ تمام علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جو اب [[پاکستان]] کہلاتا ہے ۔
 
محمود عدل و انصاف اور علم و ادب کی سرپرستی کے باعث بھی مشہور ہے۔ اس کے دور کی مشہور شخصیات میں [[فردوسی]] اور [[ابو ریحان البیرونی|البیرونی]] کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
سطر 72:
== سلطان ابراہیم ==
 
دور زوال کے غزنوی حکمرانوں میں [[سلطان ابراہیم]] (451ھ تا 492ھ) کا نام سب سے نمایاں ہے ۔ہے۔ اس نے اپنے 40 سالہ دور حکومت میں سلطنت کو مستحکم کیا، سلجوقیوں سے اچھے تعلقات قائم کئےکیے اور [[ہندوستان]] میں مزید فتوحات حاصل کیں۔ اس کے عہد میں ہندوئوں نے مسلمانوں کو [[پنجاب]] سے بے دخل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ہوئے۔ ابراہیم نے [[دلی|دہلی]] تک تمام علاقہ غزنی کی سلطنت میں شامل کر لیا اور اس کی افواج نے [[بنارس]] تک کامیاب حملے کئےکیے ۔
 
ابراہیم بڑا دیندار اور رعایا پرور حکمران تھا۔ رات کو غزنی کی گلیوں میں گشت کرتا اور محتاجوں اور بیوائوں کو تلاش کرکے ان کی مدد کرتا۔ وہ اعلیٰ درجے کا خوشنویس تھا۔ ہر سال ایک [[قرآن]] مجید لکھتا جسے ایک سال [[مکہ]] معظمہ اور دوسرے سال [[مدینہ منورہ|مدینہ]] منورہ بھیجتا۔ اس کو محلات سے زیادہ ایسی عمارتیں بنانے کا شوق تھا جن سے عوام کو فائدہ پہنچے چنانچہ اس کے عہد میں 400 سے زائد مدارس، خانقاہیں، مسافر خانے اور مساجد تعمیر کی گئیں۔ اس نے غزنی کے شاہی محل میں ایک بہت بڑا دوا خانہ قائم کیا جہاں سے عوام کو مفت ادویات ملتی تھیں۔ اس دوا خانے میں خصوصاً آنکھ کی بیماریوں کی بڑی اچھی دوائیں دستیاب تھیں۔
سطر 82:
== اہمیت ==
 
غزنوی حکمرانوں کا دور پاکستان کی تاریخ میں خاص طور پر بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ہے۔ پاکستان تقریباً 200 سال تک غزنی کی سلطنت کا حصہ رہا اور اس زمانے میں اسلامی تہذیب کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ [[کوہ سلیمان]] کے رہنے والے پٹھانوں نے اسی زمانے میں اسلام قبول کیا اور [[لاہور]] پہلی مرتبہ علم و ادب کا مرکز بنا۔
 
== علم و ادب کی سرپرستی ==
سطر 88:
غزنوی حکمران علم و ادب کے بڑے مربی و سرپرست تھے۔ خصوصا محمود غزنوی کے دور کے [[فردوسی]] اور [[ابو ریحان البیرونی|البیرونی]] کے کارنامے دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔
 
فردوسی کا [[شاہنامہ]] فارسی شاعری کا ایک شاہکار سمجھاجاتا ہے اور دنیا اسے آج تک دلچسپی سے پڑھتی ہے ۔ہے۔ البیرونی اپنے زمانے کا سب سے بڑا محقق اور سائنس دان تھا۔ اس نے [[ریاضی]]، [[فلکیات|علم ہیئت]]، [[تاریخ]] اور [[جغرافیہ]] میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔
غزنویوں کے دور میں لاہور پہلی مرتبہ علم و ادب کے مرکز کے طور پر ابھرا۔ اس زمانے میں [[فارسی زبان|فارسی]] کے کئی ادیب اور شاعر یا تو [[لاہور]] میں پیدا ہوئے یا یہاں آکر آباد ہوئے ۔ہوئے۔ یہاں کے شاعروں میں [[مسعود سعد سلمان]] اور [[عوفی]] بہت مشہور ہیں۔ ان کا شمار فارسی کے صف اول کے شعراءشعرا میں ہوتا ہے ۔ہے۔ یہ دونوں شاعر سلطان ابراہیم اور اس کے جانشینوں کے زمانے میں تھے ۔
 
لاہور کے علماءعلما میں حضرت [[علی ہجویری|علی بن عثمان ہجویری]] (400ھ تا 465ھ) بہت مشہور ہیں۔ وہ ایک بہت بڑے ولی تھے جن کی وجہ سے لاہور کے علاقے میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور بہت سے ہندو مسلمان ہوئے ۔ہوئے۔ حضرت ہجویری آجکلآج کل [[داتا گنج بخش]] کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے 40 سال تک اسلامی دنیا کے بہت بڑے حصے کی سیر کی اور آخر میں لاہور آکر رہنے لگے ۔لگے۔ ان کا مزار لاہور میں موجود ہے ۔
 
حضرت ہجویری ”[[کشف المحجوب]]“ نامی ایک کتاب کے مصنف ہیں۔ یہ علم تصوف میں [[فارسی زبان]] کی پہلی کتاب ہے اور تصوف کی سب سے اچھی کتابوں میں سے ہے ۔ہے۔ یہ کتاب انہوں نے لاہور میں لکھی تھی۔ اس کتاب کا [[اردو]] ترجمہ بھی ہو گیا ہے ۔
 
عہد غزنوی کی دو عظیم ہستیاں [[ابو سعید ابوالخیر]] (357ھ تا 440ھ) اور [[جزیرہ نما سینا|سنائی]] (465ھ تا 545ھ) ہیں۔ ابوالخیر اپنے عہدے کے بڑے صوفی اور ولی تھے ۔تھے۔ ان کی شہرت زیادہ تر رباعیوں کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ فارسی زبان کے پہلے بڑے رباعی گو شاہر تھے ۔تھے۔ ان کی یہ رباعیاں آج بھی مقبول ہیں اور خدا سے محبت اور اخلاقی تعلیم ان کا خاص موضوع ہے۔
 
سنائی غزنویوں کے آخری دور کے سب سے بڑے شاعر ہیں اور فارسی میں صوفیانہ شاعری کے بانی ہیں۔ ان کا کلام سوز و گداز اور اخلاقی تعلیم سے بھرا ہوا ہے ۔ہے۔ ابو سعید ابوالخیر کا تعلق [[خراسان]] سے تھا اور سنائی کا شہر [[غزنی]] سے ۔
 
عربی زبان کا مشہور ادیب [[بدیع الزماں ہمدانی]] (متوفی 1007ء ) بھی اسی زمانے سے تعلق رکھتا ہے ۔ہے۔ وہ ہرات کا رہنے والا تھا۔ اس کی کتاب ”مقامات“ عربی انشا پردازی کا اعلیٰ نمونہ سمجھی جاتی ہے ۔
 
== آل سبکتگین ==
سطر 195:
|colspan=4 align="middle"| '''[[سلطنت غوریہ]]''' نے '''سلطنت غزنویہ''' کو ختم کر دیا ـ
|}
* '''[[دولت سامانیہ]]''' کے زیر سایہ جو حکمران تھے، وہ '''سبز خانوں''' میں نمایاں کیۓکیئے گئے ہیں ـ
** '''نیلے خانوں''' میں وہ افراد ہیں جو مختصر عرصے کے لیے '''دعویدار''' تھے حکومت کے ـ
{{-}}
سطر 223:
* '''محمود غزنوی''' از پروفیسر حبیب (اردو ترجمہ)
* '''محمود غزنوی''' از نصیر احمد جامعی
* '''آثار الکرام''' از حکیم سید شمس اللہ قادری (حیدرآباد دکن) ۔ یہ عہد غزنویہ کی علمی و ادبی تاریخ ہے
* '''شعر العجم''' حصہ اول از شبلی نعمانی