"تاریخ افغانستان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار درستی+صفائی (9.7))
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
 
=== قبل از اسلام ===
افغانستان میں پچاس ہزار سال پہلے بھی انسانی آبادی موجود تھی اور اس کی زراعت بھی دنیا کی اولین زراعت میں شامل ہے۔ <ref>[http://encarta.msn.com/text_761569370___42/Afghanistan.html افغانستان ], مائکروسوفٹ انکارٹا انسائیکلوپیڈیا 2006 بزبان انگریزی</ref>
سن 2000 قبل مسیح میں آریاؤں نے افغانستان کو تاراج کیا۔ جسے ایرانیوں نے ان سے چھین لیا۔ اس کے بعد یہ عرصہ تک سلطنت فارس کا حصہ رہا۔ 329 قبل مسیح میں اس کے کئی حصے ایرانیوں سے [[سکندر اعظم]] نے چھین لیے جس میں [[بلخ]] شامل ہے مگر یونانیوں کا یہ قبضہ زیادہ دیر نہ رہا۔
642 عیسوی تک یہ علاقہ وقتاً فوقتاً [[ہن|ہنوں]]، [[مغول|منگولوں]]، [[ساسانی سلطنت|ساسانیوں]] اور [[ایران|ایرانیوں]] کے پاس رہا۔ جس کے بعد اس علاقے کو مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ مسلمانوں کی اس فتح کو تاریخ میں عربوں کی فتح سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ مسلمانوں میں کئی اقوام کے لوگ شامل تھے۔ اسلام سے پہلے یہاں کے لوگ بدھ مت اور کچھ قبائلی مذاہب کے پیروکار تھے۔