"جنگ یرموک" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: اضافہ مساوی زمرہ جات)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
== پس منظر ==
 
[[اردن]] میں [[دریائے یرموک|یرموک]] نام کا ایک [[دریا]] ہے جہاں پر مسلمانوں اور رومی فوجوں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی تھی، رومیوں نے چونکہ مسلمانوں کے ہاتھوں لگاتار شکستیں کھائیں تھی اور شامات سے ہٹنے کیلۓکیلئے مجبور ہو‎ئے تھے اس لیے اس کوشش میں لگے ہوے تھے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑ کر انتقام لیں،لیں اور اس بار ایک لاکھ فوجی قوت کو اکٹھا کر کے اور ایک روایت کے مطابق تین لاکھ نفوس پر مشتمل لشکر کو یرموک کی میدان میں مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔
 
== تاریخ ==
== میدان جنگ ==
 
یرموک کا میدان ہے رومیوں کا بہت بڑا لشکر سامنے ہے ابوعبیدہ کو اطلاح ملی کے رومیوں کا ساٹھ ہزار نصرانی عرب کا لشکر جنگ کے لیے آ گیا ہے ابو عبیدہعبید ہ بن جراح نے لشکر کو تیاری کا حکم دیا پر خالد بن ولید نے پکارا اے مسلمانوں ٹھہر جاو توقف کرو رومیوں نے ساٹھ ہزار عرب بھیجے ہیں میں آج ان کی ناک خاک آلود کروں گا میں تیس 30 آدمیوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کروں گا یہ بات سن کر سب مجاہد تعجب میں پڑ گیے کہ شاید خالد خوش طبعی کے طور پر بات کر رہے ہیں ابو سفیان نے پوچھا کیا واقعی آپ 30 آدمی لے کر جائیں گے تو خالد نے کہا ہاں واقعی میرا یہی ارادہ ہے ابو سفیان نے کہا مجاہدوں سے میری محبت کی وجہ سے میری درخواست ہے تم 30 کی بجائے 60 آدمی لے جا ابو عبیدہعبید ہ نے بھی تائید کی تو خالد مان گئے اب یہ 60 کا لشکر 60000 کے لشکر سے جنگ کرنے جا رہا ہے جبلہ بن ایہم غسانی نے جب دیکھہ کے مسلمانوں کا ایک گروہ آ رہا ہے تو سمجھا مسلمان ڈر کے صلح کرنے آ رہے ہیں اور خالد بن ولید کو بولتا ہے کہ میں اپنی شرائط پر صلح کروں گا مگر خالد نے جواب دیا ہم تجھ سے جنگ کرنے آے ہیں صلح نہیں جبلہ بن ایہم بولا جا اپنا لشکر لے کر آ خالد نے مجاہوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ ہے میرا 60 افراد کا لشکر جبلہ بن ایہم نے کہا میں نہیں چاہتا عرب کی مائیں طعنہ دیں کہ جبلہ بن ایہم نے 60000 کے لشکر سے 60 آدمیوں پر چڑھائی کر دی خالد بن ولید نے کہا ہمارا ایک مرد تیرے ایک ہزار کے برابر ہے تو حملہ کر پھر دیکھ تیراکیا حشر ہوتا اللہ ہمارے ساتھ ہے یہ بات سن کر جبلہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے لشکر کو حملے کا حکم دیا
60000 کا لشکر 60 افراد پر ٹوٹ پڑا اور چاروں طرف سے گھیر لیا لگتا تھا یہ سمندر ان کو بہا کر لے جائے گا لیکن اسلام کے یہ شیر دل بہادر مجاہد اس سیلاب کے سامنے ڈٹے رہے اور تیز رفتار تلوار زنی کر کے دشمن کو پاس نہ آنے دیا مجاہدین نعرہِ تکبیر بلند کر کے ساتھیوں کو جوش دلاتے مگر اس رومی لشکر کے شور میں یہ آواز دب جاتی خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں ضرار بن ازور ۔زبیر۔ زبیر بن عوام ۔عبداللہ۔ عبد اللہ بن عمر۔ عبدالرحمٰنعبد الرحمٰن بن ابی بکر۔ فضل ابن عباس نے حصار کی صورت گھوڑے ملا لیے اس طرح ایک دوسری کی حفاظت کرتے خود کو اور اپنے ساتھی کو دشمن کے وار سے بچاتے اور دشمن کو قتل کرتے رہے صبح سے شام ہو گئی رومی سپاہی نڈھال ہو گئے مگر مجاہدین تازہ دم لگ رہے تھے
جب شام تک ابو عبیدہعبید ہ کو کچھ خبر نہ آئی تو لشکر کو حملے کا حکم دینے لگے تو ابو سفیان نے کہا اے ابو عبیدہعبید ہ اب رک جا اور اللہ کے فیصلے کا انتظار کر انشااللہ وہ دشمن پر غلبہ پا لیں گے
تھوڑی دیر بعد جبلہ کا لشکر پیٹھ دیکھا کر بھاگا اور مجاہدین نے آواز بلند کی لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یہ لشکر یوں ڈر کے بھاگا گویا کسی آسمانی مخلوق نے ڈرایا ہو اور جبلہ بن ایہم سب سے آگے تھا
فتح الشام از علامہ واقدی صحفہ 209
 
یرموک میں مسلمانوں کی قیادت [[ابوعبیدہ ابن الجراح]] ؓ کر رہے تھے، جس نے مسلمانوں کی پہلی فوجی دستے کو یرموک روانہ کیا تھا اس کے بعد [[سعید بن عامر]] کی قیادت میں مسلمان [[محاہد|مجاہدین]] کا دوسرا دستہ انکی مدد کے لیے روانہ کیا، دونوں فوجوں میں شدید جنگ چھڑ گئی، رومی فوج  ہزاروں میں ہلاک ہوئے یا قیدی بنائے گئے اور کامیابی مسلمانوں کو حاصل ہوئی اور رومی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی، جب اسکیاس کی خبر رومی بادشاہ [[ہرقل]] کو دی گئی جو [[انطاکیہ]] کے شہر میں بیٹھ کر اپنی فوج کی سربراہی کر رہا تھا، خبر سنتے ہی وہ وہاں سے بھاگ کر [[قسطنطنیہ]] ([[استنبول]]، [[ترکی]]) چلا گیا اور بڑی حسرت کے ساتھ کہا:
{{اقتباس|{{ع}}علیک یا سوریہ السلام و نعم البلد ھذا للعدوا {{ڑ}} {{سطر}} '''ترجمہ:''' الوداع اے سر زمین شام، کتنی خوابصورت سر زمین دشمنوں کے ہاتھ لگ گئی۔}}
 
== نتیجہ ==
 
تاریخ دانوں کے مطابق اس میں عيسائيوں کو بے انتہاءانتہا جانی و مالی نقصان ہوا .اور واضع فتح مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔ اس جنگ میں [[عمرو بن سعید]]، [[ابان بن سعید بن العاص|ابان بن سعید]]، [[عکرمہ بن ابوجہل]]، [[عبداللہ بن سفیان]]، [[سعید بن حارث]]، [[سہیل بن عمرو]]، [[ہشام بن العاص]] ( [[عمرو ابن العاص|عمرو بن العاص]] کا بھائی) جیسے مسلمان شهيد ہو گئے۔ <ref>{{حوالہ کتاب
| نام = تاریخ ابن خلدون | مصنف = | مصنف ربط = | صفحہ =489| صفحات = | باب =| ناشر =| جلد =1| مقام اشاعت = <!-- مقام اشاعت (شہر ، قصبہ) -->| تاریخ اشاعت = | سال اشاعت = | اصل سال اشاعت =}}</ref><ref>{{حوالہ کتاب| نام = تاریخ خلیفہ بن خیاط| مصنف = عصفری| مصنف ربط = | صفحہ =88| صفحات = | باب =| ناشر =| جلد =| مقام اشاعت = <!-- مقام اشاعت (شہر ، قصبہ) -->| تاریخ اشاعت = | سال اشاعت = | اصل سال اشاعت =}}</ref>