"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← سے، رہیں، سے
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، رہیں، سے)
 
====== رحمان اور رحیم ======
اسم رحمان، غضبَان اور سَکران کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور اسم رحیم، علیم اور کریم کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رحیم کے مقابل میں رحمان میں زیادہ مبالغہ ہے اس وجہ سے رحمان کے بعد رحیم کا لفظ ان کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے فَعۡلان کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور فعیل کا وزن دوام و استمرار اور پائیداری و استواری پر۔ اس وجہ سے ان دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی برائے بیت نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اس کے دوام و تسلسل کو۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ خدا کی رحمت اس خلق پر ہے بھی اسی نوعیت سے۔سے ۔ اس میں جوش ہی جوش نہیں ہے بلکہ پائیداری اور استقلال بھی ہے۔ اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا تو پیدا کر ڈالی ہو لیکن پیدا کر کے پھر اس کی خبرگیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو بلکہ اس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ بندہ جب بھی اسے پکارتا ہے وہ اس کی پکار سنتا ہے اور اس کی دعاؤں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ پھر اس کی رحمتیں اسی چند روزہ زندگی تک محدود نہیں ہیں بلکہ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہی ںرہیں گے ان پر اس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ یہ ساری حقیقت اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اس کو ظاہر نہ کریں۔
 
===== 4- قرآن میں اس آیت کی جگہ =====
111,622

ترامیم