"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← سے، رہیں، سے
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، رہیں، سے)
== پس منظر ==
حضرت عثمان اسلام کے تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ کے دور میں یہودیوں نے "منافقت " کا راستہ بڑے پرعزم طریقے اور منصوبہ بندی سے اختیار کیا۔ طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی [[عبداللہ بن سبا]] نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور درود وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔
جب اس نے دیکھا کہ علی نبی {{درود}} کے بہت قریبی رشتہ دار ہیں اگر ان کے نام پر عثمان کے خلاف کام کیا جائے تو بڑا کامیاب ہوگا۔ عرب میں عبد ﷲ بن سبا اپنا کام نہ کرسکا کیونکہ یہاں صحابہ کی کافی بڑی تعداد موجود تھی اس لیے اس نے عراق کے علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن یہاں پر اب بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت تھی۔ وہاں جاکر عبد اﷲ بن سبا نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیا بات کہ نبی {{درود}} کے رشتہ دار یعنی علی تو یوں ہی بیٹھے رہی ںرہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ ابھی وقت ہے کہ عثمان کو ہٹا کر علی کو خلیفہ بنادو۔ لیکن چونکہ بصرہ عراق میں صحابہ کی بہت ہی تھوڑی تعداد تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے کوئی عبد ﷲ بن سبا کی باتوں کا جواب نہ دے سکتا اگر وہ ہوتے تو کچھ جواب دیتے لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متاثر ہوکر عثمان کے خلاف ہوتے گئے۔ جب بصرہ کے گورنر عبد ﷲ بن عامر کو عبد ﷲ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی تو اس کو بصرہ سے نکال دیا اور یہ پھر کوفہ پہنچ گیا۔ وہاں سے بھی نکلوادیا گیا پھر یہ شام پہنچا لیکن وہاں معاویہ گورنر تھے جنھوں نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔ عبد ﷲ بن سبا کو چونکہ تمام اسلام دشمن لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لیے وہ اس کام کو چلانے کے لیے پروپیگنڈہ کرتا رہا۔ عبد ﷲ بن سبا شام سے نکالے جانے کے بعد مصر پہنچا اور وہاں کام شروع کیا اور ایک اچھی خاصی جماعت بنالی جو عثمان کے خلاف ہو گئے۔
عبد اللہ بن سباحجاز، بصرہ، کوفہ، شام، مصر میں لوگوں کو اپنے بناوٹی تقویٰ سے متاثر کر چکا تھا وہ خصوصاً ان لوگوں کی ٹوہ میں رہتاجنہوں نے موقع پرستی کے لیے اسلام کا لیبل اپنے اوپر لگا لیا تھا لیکن دراصل وہ اس کی جڑیں کاٹنے کے درپے تھے۔ جب اس نے ایسے بہت سے افراد جمع کرلیے تو اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا جو سادہ مگر دور رس اثرات کا حامل تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی وہ اس کے اشارے کے منتظر رہی ں۔رہیں۔ اس نے ایک خط تیار کیا جو ہر علاقے میں اس کے معتمدینِ خاص کو دوسرے علاقوں کے معتمدینِ خاص کی طرف سے پہنچایا گیا۔ اس میں لکھا تھا "پیارے بھائی۔ آپ خوش قسمت ہیں آپ کے علاقے میں اسلام زندہ ہے۔ گورنر دیانت دار ہے، انتظامیہ منصف مزاج ہے جبکہ میرے علاقے میں اسلام مردہ ہوچکا ہے۔ کوئی شخص اس پر عمل پیرا نہیں۔ گورنر شرابی اور عورتوں کا رسیا ہے۔ انتظامیہ بدعنوان ہے۔ بہتری کا کوئی امکان نہیں۔"
اس طرح کے خطوط مسلسل مدینہ سے ہر شہر میں آئے اور اس کے معتمدین نے نمازوں کے بعد مساجد میں پڑھ کر سنائے اور اسی طرح ہر شہر سے ایسے ہی خطوط مدینہ آئے۔ پہلے پہل تو لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی لیکن جب اس طرح کے خطوط مسلسل آنے لگے تو عوام میں ناراضی پھیلنے لگی۔ بعض نے یہ اطلاعات خلیفہ(حضرت عثمانؓ) تک بھی پہنچائیں۔ اپنے معمول کے مطابق انہوں نے فوراً کارروائی کی اور لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہئیے۔ فیصلہ ہوا کہ مدینہ سے با اعتماد اور غیر جانبدار لوگوں کو ان علاقوں کے دورے پر بھیجا جائے جہاں کے بارے میں شکایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام سے دور ہو گئے ہیں اوریہ لوگ خود مشاہدہ کرکے الزامات کی تحقیقات کریں۔ بظاہر یہ لوگ گروپوں کی شکل میں نہیں گئے بلکہ ہر ایک اپنے لیے مقرر علاقے کی طرف گیا۔ طبری کے مطابق تمام نمائندے اپنے مقررہ وقت پر دار الحکومت پہنچ گئے اور یہی خبر لائے کہ نامعلوم افراد کی طرف سے عاید کیے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور حالات بہت اچھے اور معمول کے مطابق ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے صوبوں میں اس قسم کا کوئی انتظام نہ کیا گیا جہاں لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں پر مسلسل یقین کرتے رہے۔ صرف مصر جانے والے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ واپس نہ آئے اور مصر ہی میں ٹھہر گئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد گورنر مصر نے خلیفہ کو رپورٹ بھجوائی کہ یہاں کچھ لوگوں نے عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو چکر دے کر ساتھ ملا لیا ہے اور ان کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں جن میں عبد اللہ بن السودا بھی شامل ہے۔ خلیفہ نے رواداری کا مظاہرہ کیا۔ طبری نے لکھا ہے کہ "شوال 35 ہجری میں ابن سبا نے مصر سے مدینہ کا سفر اختیار کیا۔ اس کے 600 کے لگ بھگ فدائی اس کے ساتھ تھے۔ اپنے آپ کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا رکھنے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی بصرہ اورکوفہ سے بھی سبائی مدینہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ بلاشبہ یہ سب یہودی النسل نہیں تھے۔ ان میں بعض مخلص مسلمان بھی تھے جو اپنی سادگی کے باعث ان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ سبائی پراپیگنڈہ کام دکھا رہا تھا اور ان سب کا مطالبہ یہ تھاکہ خلیفہ کو معزول کیا جائے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے لیکن ان میں یہ اتفاق رائے نہیں ہو رہا تھا کہ خلیفہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو معزول کرکے کسے ان کی جگہ لایا جائے۔ مصریوں کا مطالبہ تھاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔ بصرہ کے سبائی حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں تھے جبکہ کوفی حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بن عوام کے حامی تھے۔ عامۃ المسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے زمین بڑی احتیاط سے ہموار کی گئی۔ جو خطوط مدینہ سے بھجوائے گئے ان پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کیے گئے تھے۔ جن میں مصریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مدینہ آئیں اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت کی گدی سے اتارنے میں ان کی مدد کریں <ref name="طبری">طبری</ref>۔ دوسرے خطوط پر بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دستخط تھے جن میں صوبوں کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا تھا ۔<ref>ابن سعد i, III صفحہ 574</ref> جبکہ بعض خطوط پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کیے گئے ۔<ref>ابن کثیر III، 175</ref>
جب شام اور فلسطین کے گورنر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مشکوک افراد کے قافلوں کی مختلف مقامات سے مدینہ روانگی کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے خلیفہ کو مطلع کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں اپنے کچھ قابل اعتماد فوجی دستے دار الحکومت بھجوانے کی اجازت دے دیں مگر خلیفہ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
اسی اثناء میں سبائیوں کی طرف سے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسری ازواجِ مطہراات کو خط بھجوائے گئے جن میں الزام لگایا گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا دینے سے انکاری ہیں اور امہات المومنین ہونے کی حیثیت سے آپ کا یہ حق اور فرض ہے کہ آپ اپنے "بچے" عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتلوں کے سروں کا مطالبہ کریں۔ بصرہ سے آنے والے خطوط میں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر امہات المومنینؓ بصرہ آئیں وہ تو وہ انہیں ہر ممکن مدد کے لیے حاضر پائیں گی۔
کچھ عرصہ بعد طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ جانے کے لیے مدینہ سے روانہ ہو گئے۔ ان کی منزل بصرہ تھی۔ مورخوں کا کہنا ہے کہ ان کی روانگی سے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر انہوں نے بصرہ کے خزانے پر قبضہ کر لیا اور وہاں کی فوج ان سے مل گئی تو وہ حکومت کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے بھی عراق جانے کا قصد کر لیا۔ ادھر ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ان کے بھائی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل زور دے رہے تھے کہ وہ سیاست میں سرگرم حصہ لیں۔ اسی اثناء میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنے کچھ قریبی عزیزوں کے ہمراہ عراق تشریف لے گئیں۔ بصرہ کے نزدیک ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد جمع ہوجانے والوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
سبائیوں کی خطوط مہم سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لے چکی تھیں۔ بعض مخلص اور غیر جانبدار مسلمانوں نے مصالحت کی کوششیں شروع کر دیں اور جلد ہی یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں۔ حقیقت یہ تھی کہ نہ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا دینے کے خلاف تھے اور نہ ہی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے کوئی ذاتی عزائم تھے۔ امن معاہدہ ہو گیا اور دونوں طرف کے لوگ پہلی بار سکون کی نیند سو گئے۔ بظاہر ابن سبا کے کھیل کی بساط الٹ چکی تھی۔ مگر وہ حوصلہ ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔ رات کے آخری پہر اس کے کچھ آدمی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کیمپ میں داخل ہو گئے اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج پر حملہ کر دیا۔ قدرتی طور پر علی رضی اللہ تعالی عنہ کے کیمپ میں یہی سمجھا گیا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور دھوکا سے حملہ کر دیا ہے۔ تاہم جلد ہی ان کے فوجیوں نے صورت حال پر قابو پا لیا۔ ادھر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کیمپ کو گمان ہوا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس ساری صورت حال میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتہائی جرأت مندی سے صورت حال کا مقابلہ کیا اور آخر تک اپنی اونٹنی پر سوار رہی ں۔رہیں۔ جمل کا مطلب اونٹ ہے اور اسی لیے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں۔ لڑائی کے دوران علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد گھیرا ڈال دیا اور عملاً وہ مخالف فوج کی حراست میں آگئیں۔ ان کے آدمی موقع سے فرار ہو گئے۔ حضرت علی نے ان پر غلبہ پانے کے بعد اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ وہ بلبلا کر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد جب صورت حال واضح ہوئی تو بہت دیر ہو گئی تھی۔ اس موقع پر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے حریف معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف مدد کی پیشکش کی تاہم علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انتہائی احترام سے ان کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ واپس مدینہ تشریف لے چلیں اوران کی شایانِ شان واپسی کے انتظامات بھی کر دیے۔ یہ لڑائی کوفہ کے باہر [[خریبہ]] کے مقام پر ہوئی تھی۔
انہی دنوں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ایک خط مشتہر ہو گیا جس میں انہوں نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بغاوت پر بھڑکایا تھا۔ شہادتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد جب یہ خط ان کے علم میں آیا تو انہوں نے کہا: " قسم اس ذات کی جس پر ایمان لانے والے یقین رکھتے ہیں اور فتنہ گر انکار کرتے ہیں، میں نے اس جگہ بیٹھنے تک کبھی ان لوگوں کو کچھ نہیں لکھا<ref>ابن سعد، 1/3 صفحہ 57</ref>)۔ طبری کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا "اگر آپ کو(ناجائز) کوڑا بھی مارا جائے تو میں اس کی حمایت نہیں کرسکتی۔ کیا میں اس ناجائز تلوار کی حمایت کرسکتی ہوں جس سے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا گیا۔ آپ لوگوں نے ان پر الزام لگائے لیکن جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ پاک صاف چینی کی طرح پاکیزہ ہیں اور ان کا کردار دھلے ہوئے کپڑے کی طرح بے داغ ہے تو تم لوگوں نے انہیں قتل کر دیا۔ مسروق کی روایت ہے کہ انہوں نے کہا "ام المومنین! یہ آپ ہی تھیں جنہوں نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کے خلاف کھڑا کیا تو انہوں نے فرمایا "میں قسم کھاتی ہوں اس ذات کی جس پر ایمان لانے والے یقین رکھتے ہیں اور فتنہ گر انکار کرتے ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو کبھی کچھ نہیں لکھا۔ الاعمش مزید روایت کرتا ہے کہ " اس طرح لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان کے نام سے جعلی خطوط لکھے گئے"۔
 
102,783

ترامیم