"حدیث قدسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار درستی+ترتیب (9.7))
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
{{علم مصطلح الحدیث}}
[[علم حدیث]] کی اصطلاح میں ’حدیث قدسی‘ رسول اللہﷺسے منسوب اس روایت کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺروایت کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں، یعنی اس کی سند اللہ تعالیٰ تک بیان کی جاتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالٰی کے لیے ”متکلّم“ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ احادیث ِ قدسیہ کی تعداد دو سو سے زیادہ نہیں ہے ۔<ref>خلیل الرحمان چشتی،حدیث کی ضرورت و اہمیت، الفوز اکیڈمی، اسلام آباد صفحہ114َ</ref>۔
 
=== حدیث قدسی اور قرآن میں فرق ===
# بعض اوقات راوی حدیث قدسی کو اس طرح بیان کرتا ہے: {{عربی| ’’قال اللہ تعالیٰ فیما رواہ عنہ رسولہ‘‘}} یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا جسے اس کے رسول ﷺ نے راویت کیا۔
=== حدیث قدسی سے متعلق مشہور تصنیف ===
اس ضمن میں عبدالروؤفعبد الروؤف المناوی کی "الاتحافات السنیۃ بالاحادیث القدسیۃ" تصنیف کی گئی ہے۔ اس میں انہوں نے 272 احادیث جمع کی ہیں ۔۔۔<ref>الطحان، ڈاکٹر،محمود، تیسیرمصطلح الحدیث، مکتبہ قدوسیہ</ref>
 
۔
 
== حوالہ جات ==