"ساغر جیدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

12 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، سے، شعرا، اجرا، تہ، ہیئت
(درستی املا)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، سے، شعرا، اجرا، تہ، ہیئت)
 
==ادبی سفر==
ابتدا میں آپ تلگو زبان میں نظمیں لکھیں اس میں آپ کو کسی استاد کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ جتنی دلچسپی آپ کو ہندی اور تلگو زبان سے ہے اتنی ہی دلچسپی بلکہ یہ کہا جاے تو غلط نہ ہوگا کہ اس سے بہت زیادہ دلچسپی [[اردو]]، [[فارسی]] اور [[عربی]] سے ہے ۔ اس نسبت سے آپ نے عربی و فارسی میں بنیادی معلومات حاصل کرنے کی غرض سے کڈپہ کے جید عالم حضرت سید یعقوب صاحب باقوی قادری مرحوم کے آگے زانوئے ادب تہہتہ کیا ، پھر 1978ء میں ڈپلومہ ان پرشین (Diploma in Persian ) کی سند حاصل کی ۔آپ کا شعری سفر غالباََ 1968ء کوشروع ہوا ۔ علم عروض ، علم شعر و سخن کی فنی لوازمات حاصل کرنے کی غرض سے مشہور استادَ سخن ابر حسن گنوری کے آگے زانوئے ادب تہہتہ کیا ۔ موصوف نے مختلف اصناف پر سہ زبانوں (اردو ، ہندی اور تلگو )میں اپنی تخلیقات شائع کیں۔ جن کی تعداد پچیس ہے ۔ "لہجے " آپ کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو سنہ 1974ء کو منظر عام پر آیا ۔ یہ ایک اشترکی شعری مجموعہ ہے ۔
 
==ساغرؔ جیدی کی غزل گوئی==
ساغرؔ جیدی کے کل تین غزلوں کے مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔1974ء میں ایک اشتراکی شعری مجموعہ ’’لہجے‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا تھا۔ یہ کل پانچ شعراءشعرا کا اشتراکی مجموعہ ہے جس میں عقیل جامدؔ ، اشفاق رہبرؔ ، راہیؔ فدائی، ساغرؔ جیدی کی غزلیں اوریوسف صفیؔ کی نظمیں شامل ہیں۔ یہ مجموعہ ضلع کڈپہ کی ادبی تاریخ میں جدید رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس مجموعہ کے ذریعہ ساغرؔ جیدی نے ببانگ دُہل یہ اعلان کیا کہ جدیدیت کو اپنا نے میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور یہ بات بھی وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان شعراءشعرا نے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ قدم ملایا ہے اور اپنے اشعار میں جدیدیت کے تمام فنی لوازمات و قواعد کو اپنایا ہے۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’انتسللہ‘‘(اشتراکی مجموعہ) 1978ء میں شائع ہوکر اہل ذوق سے داد و تحسین حاصل کرچکا ہے۔ ان کا تیسرا مجموعہ غزل ’’اثبات‘‘ ہے جو1991 ؁ء میں منظرِ عام پر آیا ہے، ان کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے نئے الفاظ کی تراکیب کو اپنایا ہے اور اپنے خیالات و جذبات کو مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے پیش کیا ہے۔
موصوف کی غزلوں میں نئے الفاظ کی تراکیب، علامت نگاری، اظہار بیان کی آزادی پائی جاتی ہے۔ یوں تو ان کی شاعری موضوع ،اسلوب اور ہئیتہیئت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ ان کی غزل میں علائم کی فراوانی پائی جاتی ہے ۔ندرت خیال پیش کرنے میں موصوف پیش پیش ہیں۔ مثلاً زاغِ ہوس، صداؤں کا ہتھوڑا، راتیں، ضیاء پتھروں کے درخت، قطراتِ شبنم، نبض شرر، پیاسی شعائیں وغیرہ جیسے الفاظ کی چُست بندش سے موصوف نے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے، چند شعر ملاحظہ ہوں ؂
{{اقتباس|بھٹکتا رہے گا وہ تاریک شب میں
جو احساس ساغرؔ سحر سے ہے خائف}}
 
==ساغرؔ جیدی کی دوہا گوئی==
ہمہ اصناف کے پروردہ ساغرؔ جیدی نے نہ صرف صنف غزل کو اپنا یا بلکہ دوہے جو ہندی صنف سخن سے تعلق رکھتے ہیں اردو میں تخلیق کی ،نہ صرف تخلیق کی بلکہ ان تخلیقات کو کتابی شکل میں پیش کیا۔ ان کے اب تک پانچ دوہوں کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔1990 ؁ء میں’’ ثبوت‘‘کے نام سے ایک دوہوں کا مجموعہ جس میں ایک دیوان(بغیر الف) ’’دو نیم‘‘ کے نام سے اور دوسرا مجموعہ ، ’’تحویل‘‘ جن کی رسم اجراءاجرا آندھرا پردیش کے گورنر سر جیت سنگھ برنالہ کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ ان تین مجموعوں کے علاوہ2005 ؁ء میں مرن مئی کے نام سے ہندی میں شائع ہوچکا ہے جس میں دوہوں کے ساتھ ساتھ دوہا گیت بھی موصوف نے تخلیق کی ہے۔2009 ء میں اردو اکاڈمی آندھرا پردیش کی مالی اعانت سے ’’کیسر کیسر دوہے‘‘ کے نام سے ایک اور دوہوں کا مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے۔ علاوہ ازیں محبی ڈاکٹر وصی اللہ بختیاری ،ڈگری لکچرر، ڈگری کالج پلمنیر نے موصوف کے دوہوں کے مجموعوں پر ایک تحقیقی(ناکہ تنقیدی) جائزہ لیتے ہوئے ایک کتاب ’’ڈاکٹر ساغر جیدی کی دوہا گوئی‘‘ کے نام سے شائع کی۔ جس میں ڈاکٹروصی اللہ نے موصوف کی دوہا گوئی پر عمدہ بحث کی ہے اور تمام فنی لوازمات کو اجاگر کیا ہے۔
موصوف کے دوہوں میں تشبیہات، استعارات، علامت نگاری اور طنز و مزاح جیسی خصوصیات پائی جاتی ہے، انہیں اوصاف کو گنواتے ہوئے ڈاکٹر وصی اللہ بختیار ی لکھتے ہیں۔
’’ ڈاکٹر ساغر جیدی کی دوہا گوئی بھی تشبیہات سے مغتنم ہے۔ آپ کے دوہوں میں تشبیہ کارفرما نظر آتی ہے۔ بسا اوقات دوہے کا ایک مصرع مشبہ اور دوسرا مصرع مشبہ بہ معلوم ہوتا ہے۔ آپ کی تشبیہوں میں طنز کی ایک لطیف تہہتہ داری پائی جاتی ہے۔ تحیر آفرینی اور بصیرت افروزی کی فضاء اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ رونق افروز ہے‘‘۔
 
{{اقتباس|ساغرؔ ! بہتے وقت کا ایسا ہے ٹھراؤ
 
==ساغر ؔ جیدی کی نظم گوئی==
ساغرؔ جیدی کے کل تین نظموں کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں جس میں دو تلگو زبان میں اور ایک نظموں کا مجموعہ اردو زبان میں شائع ہوچکا ہے۔ پہلا تلگو نظموں کا مجموعہ ’’لتھا پرتھاننی‘‘ کے نام سے1997سے 1997 ء میں دوسرا تلگو نظموں کا مجموعہ1998 ء میں ’’تلاوارالیدو‘‘ شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ2007 ء میں ’’عماد‘‘ کے نام سے اردو آزاد نظموں کا مجموعہ شائع ہوکر اہل سخن سے داد و تحسین حاصل کرچکا ہے۔ جس میں کل241طویل اور چھوٹی نظمیں شامل ہیں۔ طویل آزاد نظموں میں ’’بارود کی بدبو، شاہی کرّوفر اور خشک چشمہ ‘‘ کے عنوان سے شامل ہیں۔ موصوف نے ان نظموں میں خصوصاً موجودہ دور کے نا اہل ناقدین و محققین پر طنز کیا ہے ان کی نظمیں آنے والی نسل کے لیے ایک پیغام ہیں۔ غرور کے تعلق سے موصوف نے یہ نظم تخلیق کی ہے ؂
 
{{اقتباس|غرور کیا ہے
 
==ساغر ؔ جیدی کی رباعیات==
رباعی ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں فلسفیانہ حکیمانہ، صوفیانہ، اخلاقی اور عشقیہ مضامین کے علاوہ مختلف سماجی مسائل اور موضوعات بھی پیش کئےکیے جاتے ہیں۔ اکثر شعراءشعرا اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ کسی بھی وزن میں چار مصرعے کہہ کر رباعی لکھی جاسکتی ہے۔ جبکہ ماہرین عروض نے رباعی کے لیے مخصوص اوزان کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ رباعی کے ہر مصرع میں ’’مخصوص وزن‘‘ کے چار چار کن ہوتے ہیں اور یہ چار اراکین بیس ماتراؤں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ان اراکین کو عروضِ اصطلاح میں افاعیل بھی کہتے ہیں، عرو ض داں نے رباعی کے چوبیس اوزان کو دو گروہوں میں ’’شجرۂ اخرب‘‘ اور ’’شجرۂ اخرم‘‘ میں برابر بانٹا ہے۔ ان سب فنی لوازمات کو ہنر مندی کے ساتھ برتنے میں ساغرؔ جیدی بے انتہا کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی رباعیات میں انسانی اقدار، اخلاقی معیار، سادگی، سلاست، روانی، سوز و گداز، جدت، ندرت، شگفتگی اور شائستگی جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس نوعیت کے چند رباعیات ملا حظہ ہوں ؂
{{اقتباس|مٹی کا کٹورا بھی نہیں ہے گھر میں
اک دوسرا کُرتا بھی نہیں ہے گھر میں
* ۔1990 ؁ء میں’’ ثبوت‘‘کے نام سے ایک دوہوں کا مجموعہ جس میں ایک دیوان(بغیر الف) ’’دو نیم‘‘ کے نام سے اور دوسرا مجموعہ
* 2005 ء میں مرن مئی کے نام سے ہندی میں شائع ہوچکا ہے
* پہلا تلگو نظموں کا مجموعہ ’’لتھا پرتھاننی‘‘ کے نام سے1997سے 1997 ؁ء میں
* دوسرا تلگو نظموں کا مجموعہ1998 ؁ء میں ’’تلاوارالیدو‘‘ شائع ہوچکا ہے۔
* 2007 ء میں ’’عماد‘‘ کے نام سے اردو آزاد نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔
111,622

ترامیم