"سعود بن عبدالعزیز آل سعود" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: خودکار درستی املا ← امریکا، سے، گزاری، سے، علما، کر دیں، \1 رہی
(←‏top: درستی املا)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← امریکا، سے، گزاری، سے، علما، کر دیں، \1 رہی)
شاہ سعود کے عہد حکومت کا ایک بڑا کارنامہ [[مسجد نبوی]] اور [[مسجد الحرام|حرم کعبہ]] کی توسیع ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر پر 35 کروڑ روپے صرف ہوئے اور تعمیر کا کام 1955ء میں مکمل ہوا۔ جس سے مسجد فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار بن گئی اور دنیا کی بڑی اورخوبصورت ترین مساجد میں شمار ہونے لگی۔ حرم کعبہ کی مسجد کی توسیع کا کام مسجد نبوی کی تکمیل کے فورا{{دوزبر}} بعد شروع کیا گیا۔
 
شاہ سعود کے زمانے میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کی طرف بھی توجہ دی گئی۔ 1957ء میں دار الحکومت [[ریاض]] میں عرب کی پہلی جامعہ قائم ہوئی جس میں فنون، سائنس، طب، زراعت اور تجارت کے شعبے قائم کیے گئے۔ 1959ء میں لڑکیوں کے لیے بھی مدارس قائم ہونا شروع ہو گئے۔ مکہ میں شریعت کالج قائم کیا گیا اور 1960ء میں مدینہ میں اعلی{{ا}} دینی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ کے نام سے دینی یونیورسٹی قائم کی گئی جہاں دینی تعلیم کے علاوہ طلبہ کو افریقہ میں اسلام کی کی تبلیغ کے لیے بھی تربیت دی جاتی تھی۔ 1957ء میں شاہ سعود نے امریکہامریکا کا دورہ کیا اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہامریکا سے اسلحہ کی خریداری شروع کی۔
 
حالانکہ شاہ سعود کے دور میں سعودی عرب میں تیزی سے ترقی ہوئی لیکن شاہی خاندان کے افراد کی بے قید زندگی اور فضول خرچیوں نے ملک کے لیے بہت سے مسائل پیدا کردیے۔ ان میں سب سے سنگین مسئلہ مالیات کا تھا۔ پٹرول سے ہونے والی کثیر آمدنی کے بوجود سعودی عرب کی مالی حالت خراب ہوتی جارہیجا رہی تھی اور ریال کی قیمت گر گئی تھی۔ اس کے ساتھ شاہ سعود کے زمانے میں عرب دنیا میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں آرہیآ رہی تھیں۔ عربوں میں انتہا پسندانہ قوم پرستی، نسل پرستی، مذہب سے بیزاری، [[بعث پارٹی]] کے غیر اسلامی افکار اور سوشلزم کا عروج کا یہی دور تھا۔ مشرق کے عرب ممالک جن کا سرخیل [[مصر]] تھا، ان نظریات کی وجہ سے سعودی عرب کے دشمن بن گئے اور سعودی حکومت کو [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کا ایجنٹ کہہ کر بدنام کرنے لگے۔ شاہ سعود میں اتنا تدبر اور صلاحیت نہیں تھی کہ وہ ملک کو ان اندرونی اور بیرونی خطرات سے نجات دلا سکتے۔ یہ صلاحیت ان کے دوسرے بھائی [[شاہ فیصل|فیصل]] میں موجود تھی جو شاہ سعود کے دور میں [[حجاز]] کے گورنر اور ملک کے وزیر خارجہ تھے۔ چنانچہ شاہی خاندان اور علماءعلما کے دباؤ کے تحت [[24 مارچ]] 1958ء کو شاہ سعود نے تمام ملکی اختیارات شہزادہ فیصل کے سپرد کردیے اور شاہ سعود کی حیثیت صرف آئینی بادشاہ کی رہ گئی۔
 
مکمل انتظامی اختیارات سنبھالنے کے بعد شہزادہ فیصل نے جو اصلاحات کیں ان سے ان کی انتظامی صلاحیت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ انہوں نے شاہی خاندان کے اخراجات پر پابندی عائد کی اور دوسری معاشی اصلاحات کیں جن کی وجہ سے سعودی عرب کی اقتصادی و مالی حالت مستحکم ہو گئی۔
 
اسی زمانے میں شہزادہ فیصل نے غلامی کی رسم کو جو اب تک سعودی عرب میں رائج تھی، ختم کر دیا۔ شہزادہ فیصل کے بڑھتے ہوئے اثرات سے شاہ سعود نے اپنے لیے خطرہ محسوس کیا اور اپنے بھائی کی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔کر دیں۔ آخر ایک مجلس نے جو شاہی خاندان کے ایک سو افراد اور ستر علماءعلما پر مشتمل تھی، 29 اکتوبر 1964ء کو شاہ سعود کو تخت سے اتار دیا اور امیر فیصل کو ان کی جگہ بادشاہ نامزد کر دیا۔
 
اس کے بعد شاہ سعود نے یورپی ممالک میں زندگی گذاریگزاری جن میں سب سے پہلے انہوں نے [[جنیوا]]، [[سویٹزرلینڈ|سوئٹزرلینڈ]] کا انتخاب کیا تاہم نے انہوں نے دیگر شہروں میں بھی قیام کیا اور 23 فروری 1969ء کو 67 سال کی عمر میں [[ایتھنز]]، [[یونان]] میں انتقال کر گئے۔
 
{| align=center border=1 cellspacing=0 cellpadding=4 style="background: #f9f9f9; text-align:center; border:1px solid #aaa;border-collapse:collapse;font-size:95%"
108,050

ترامیم