"ریاست بھوپال" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، اس ک\1، سے، اور)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
 
== ہندوستان کی ازادی کے بعد ==
[[بھارت]] کے 15 اگست [[1947ء]] کو آزادی حاصل کرنے کے بعد، بھوپال الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے والی آخری ریاستوں میں سے ایک تھی۔ آخری نواب حمید اللہ خان نے مارچ 1948 میں ریاست بھوپال کو ایک علاحدہ اکائی کے طور پر برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نواب کے خلاف احتجای تحریک دسمبر [[1948ء]] میں ہوئی اور شنکر دیال شرما سمیت اہم رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ بعد ازاں سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور نواب بھوپال نے 30 اپریل [[1949ء]] کو انضمام کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے۔ <ref name="SRBakshi_OPRalhan_2007">{{cite book | title = Madhya Pradesh Through the Ages | author = S. R. Bakshi and O. P. Ralhan | publisher = Sarup & Sons | year = 2007 | isbn = 978-81-7625-806-7 | page = 360 }}</ref>
 
نواب حمید اللہ خان کی سب سے بڑی بیٹی اور ممکنہ وارث [[پرنسز عابدہ سلطان|عابدہ سلطان]] نے تخت پر ان کا حق چھوڑ دیا اور [[1950ء]] میں [[پاکستان]] ہجرت کر گئیں۔ انہوں نے [[پاکستان]] کے محکمہ خارجہ میں بھی خدمات انجام دیں۔
 
لہذا، [[بھارت]] کی حکومت نے انہیں جانشینی سے خارج کر دیا گیا اور اس کی چھوٹی بہن بیگم ساجدہ سلطان کو خطاب عطا کر دیا۔ [[1995ء]] میں بیگم ساجدہ کے انتقال پر، خطاب ان کی سب سے بڑی بیٹی نوابزادی صالحہ سلطان بیگم کوعطا کر دیا گیا۔ <ref>{{cite web | url = http://members.iinet.net.au/~royalty/ips/b/bhopal.html | title = Bhopal (Princely State) | accessdate = 2012-12-05 | publisher = World of Royalty | author = Henry Soszynski | date = 8 March 2012 }}</ref>
 
== تصاویر ==
<gallery>
ملففائل:Dost Mohammad Khan, Nawab of Bhopal.jpg|دوست محمد خان بہادر، ریاست بھوپال کے بانی
ملففائل:Shahjahan begum yong.jpg|شاہجہاں بیگم
|نواب حمید اللہ خان
|بیگم ساجدہ سلطان ان کی بڑی بہن [[پرنسز عابدہ سلطان|بیگم عابدہ سلطان]] کے [[پاکستان]] ہجرت کے بعد خطابی حکمران بن گئیں