"سال بیلو" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
(درستی املا)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
انتقال:2005ء
 
[[Image:Salboo.JPG|framepx|thumb|left|سال بیلو]]امریکی نوبل انعام یافتہ [[حادث|ناول]] نگار۔ [[مانٹریال]] کےعلاقےکے علاقے کیوبک میں ہوئی۔ 1924 میں ان کا خاندان [[شکاگو]] منتقل ہو گیا۔سترہگیا۔ سترہ سال کی عمر میں والدہ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا- 1933 میں بیلو نے شکاگو یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن دو ہی سال میں دوسری جگہ نارتھ وسٹرن میں اس لیے چلے گیئے کہ یہ جگہ نسبتاً سستی تھی۔ وسکونسن یونیورسٹی میں گریجویشن ادھوری چھوڑ دی۔
 
سال بیلو کا شمار جنگ عظیم کے بعد کے عظیم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ سال بیلو کا تصنیفی سفر تقریباً آدھی صدی پر محیط ہے۔ شاید یہ بھی ایک سبب ہے کہ وہ اپنے ہم عصر ناول نگاروں میں کافی نمایاں رہے۔سالرہے۔ سال بیلو کی تخلیقات کے تنوع کو دیکھتے ہوئے 1976 میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔انہوںگیا۔ انہوں نے اپنے ناول ’آگی مارچ کی مہمات‘ (1953)، ’ہینڈرسن دی رین کنگ‘ ( 1959) اور ’ہرزوگ‘ (1964) کے ذریعے بڑے کرداروں کو جنم دیا اور ان کے ذریعے وسیع موضوعات اور تھیم پر لکھا۔
 
ان کی تخلیق کی سب سے نمایاں بات ان کے ناولوں کے کردار ہیں۔ جن میں[[ہرزوگ]] کو خاص مقام حاصل ہے۔ ہرزوگ ایک ایسا دانشور کردار ہے جسے بیلو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہرزوگ کے ذریعے بیلو نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس ’ہی مین‘ والے عہد میں ایک دانشور نامرد کی طرح ہے جو سوچتے رہنے کی علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا۔ بیلو کے بیشتر کردار دانشوروں کے اسی قبیلے سے ہیں۔ جن میں ایک خاص قسم کا مزاح بھی ہے۔ناقدینہے۔ ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے بیلو کے ناولوں کو مختلف پیرائے، بیانیہ اور مابعد جدیدیت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن [[ایڈورڈ سعید]] اور [[چامسکی]] جیسے قد آور ناقدوں اور دانشوروں نے بیلو کے فکشن اور غیر فکشن دونوں طرح کی تخلیق میں ان کے سیاسی نظریے کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیلو مشرق وسطی کے مسئلے پر کسی حد تک صیہونیت کے حامی اور علم بردار ہیں۔ایکہیں۔ ایک زمانے تک سال بیلو نے خود کو ’یہودی-امریکی ادیب‘ کے لیبل سے آزاد اور الگ رکھنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم یہ اب ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کے ناولوں میں یہودیت ایک عام بحث کا موضوع ہے۔
 
بیلو کے ہم عصر مالکیم بریڈبری کا خیال ہے کہ ’بیلو کی علمی، ادبی اور اخلاقی شہرت کا دارو مدار ان کے بڑے خیالات اور موضوعات پر ہے جسے انہوں نے آگی مارچ، ہینڈرسن، ہرزوگ اور ہمبولٹس جیسے کرداروں کے ذریعے پیش کیا، جو اپنے شعور، خودی اور انسانی برتری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بروکلین میں ان کا انتقال ہوا۔