"شاہ احمد نورانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، علما، سے، بنا، رہے \1، دار العلوم
م (خودکار: اضافہ مساوی زمرہ جات)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، علما، سے، بنا، رہے \1، دار العلوم)
وہ [[1926ء]] کو [[میرٹھ]] میں مولانا [[عبد العلیم صدیقی|عبدالعلیم صدیقی]] کے گھر پیدا ہوئے۔ جن کا [[شجرہ نسب]] حضرت [[ابوبکر صدیق]] سے اور [[شجرہ طریقت]] امام [[احمد رضا خان]] قادری سے جا ملتا ہے۔
== تعلیم ==
انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل [[قرآن]] مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عربک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد الہ آباد يونيورسٹي سے فاضل عربی اور دارالعلومدار العلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔
== پاکستان آمد ==
قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔
== جمعیت علماءعلما پاکستان ==
[[متحدہ مجلس عمل]] کے مرحوم سربراہ۔ <br />
1948ء میں علامہ [[احمد سعید کاظمی]] نے [[جمیعت علمائے پاکستان]] کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا نورانی نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔<br />
[[ذوالفقار علی بھٹو]] کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ [[1972ء]] میں مولانا نورانی جمیعت علماءعلما پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہےـرہے ـ آپ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور دو مرتبہ سینٹر منتخب ہوئے۔
 
== قیادت ==
صفحہ [[تحریک ختم نبوت1974]]<br />
مولانا شاہ احمد نورانی نے [[30 جون]] [[1974ء]] میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور [[7 ستمبر]] [[1974ء]] سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی (2) دوسری ترمیم کے اصل محرک تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرارد دیا گیا۔ مولانا نے اس موقع پر قادیانیوں کے سربراہ ناصر مرزا کو مناظرے میں شکست فاش بھی دی تھی۔<br />
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت نورانی میاں کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئےکیے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ [[مرزا ناصر]] کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناءبنا پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا۔‘<ref>[http://khatm-e-nubuwwat.org/LeafLet/text/10Mujahdeen-kn/10-38.htm حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
== ملی یکجہتی کونسل ==
اتحاد بین المسلمین کے لیے انہوں نے [[1995ء]] میں ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ جس میں تمام مسالک کے علماءعلما کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔
== متحدہ مجلس عمل ==
مشرف کے دور حکومت میں [[2002ء]] دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انھیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے(متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔
103,971

ترامیم