مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
 
== حالات زندگی ==
صلاح الدین احمد 25 مارچ، 1902ء کو لاہور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے<ref name="پاکستان کرونیکل">[[عقیل عباس جعفری]]: [[پاکستان کرونیکل]]، ص 230، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء</ref><ref name="bio-bibliography.com">[http://www.bio-bibliography.com/authors/view/7348 مولانا صلاح الدین احمد، ''سوانح و تصانیف ویب''، پاکستان]</ref>۔ ابتدا ہی سے انہیں ادبی صحافت کا بڑا اچھا ذوق تھا۔زمانہتھا۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے ایک وقیع اردو رسالہ خیالستان جاری کیا۔ پھر [[1934ء]] میں انہوں نے اردو کا ایک انتہائی اہم جریدہ [[ادبی دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]] کی ادارت سنبھالی۔ وہ '''اردو بولو، اردو لکھو، اردو پڑھو''' کی تحریک کے سرخیل تھے، اسی وجہ سے انہیں پنجاب کا بابائے اردو کہا جاتا ہے۔ <ref name="پاکستان کرونیکل"/>
 
== اردو کے لیے خدمات ==
مولانا صلاح الدین احمدکی اُردو کے لیے خدمات کا اگر ایمان داری سے احاطہ کیا جائے تو شاید اُن کی پوری سوانح عمری کو دُہرانا ہو گا کہ اُن کی زندگی کے شعوری حصے کا کوئی ایسا پل نہیں ہے، جو خدمتِ اُردو سے خالی ہو۔ اُردو زبان کی تحسین، فروغ، دفاع اور نفاذ اُن کی زندگی کا مقصدِ اوّل اور مدّعائے آخر تھا۔ اُردو اُن کی تہذیب تھی، اُن کا ماحول تھا، اُن کی ثقافتی فضا تھی، اُن کی وجہِ دوستی اور سبب عداوت تھی، اُن کا نظریہ تھا، اُن کا نظامِ خیال تھا حتیٰ کہ اُن کا جزوِ ایمان تھا۔<ref name="nlpd.gov.pk">[http://nlpd.gov.pk/uakhbareurdu/june2011/1.html مولانا صلاح الدین احمد کی اُردو خدمات، ڈاکٹر طارق ہاشمی، '''اخبار اردو'''، جون 2011ء، [[ادارہ فروغ قومی زبان]] پاکستان]</ref>
 
زمانی لحاظ سے اُن کی خدمات کا پہلا عرصہ [[قیام پاکستان]] تک کا ہے جب کہ اُردو اور ہندی کا تنازع اُسی طرح عروج پر تھا جیسا کہ [[ہندوستان]] کی دو بڑی اقوام کے مابین مذہب کا جھگڑا۔ اگرچہ یہ لسانی مناقشہ قطعی طور پر مصنوعی تھا اور اُس زبان کے خلاف ایک محاذ تھا جو عوام میں رائج اور مقبول تھی۔اُستھی۔ اُس وقت کی ہندوقیادت کا یہ خیال تھا : '''اُردو کا مستقبل مسلمانوں کے فرقے کا نجی معاملہ ہے اور اگر وہ اِسی زبان میں لکھنا پڑھنا چاہیں تو اُن پر کوئی پابندی مناسب نہ ہو گی۔ البتہ قومی سطح پر فوقیت ہندی یا ہندوستانی کو حاصل ہو گی۔'''
یہی وہ نقطۂ نظر تھا جس کے باعث اُردو کے قومی سطح پر فروغ یا نفاذ کے خلاف سرگرمیاں شروع ہوئیں اورہر سطح پر اُردو کے فروغ کا راستہ روکا گیا۔ ہندی نواز طبقہ اُردو دُشمنی میں ہر نوع کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُردو کے خلاف جلسے بھی منعقد کیے جانے لگے اور قراردادیں بھی پاس ہونے لگیں۔ الغرض کوئی موقع ضائع نہ کیا گیا۔ جون [[1945ء]] میں [[پنجاب ساہتیہ منڈل]] کا ایک جلسہ زیرِصدارت بہاری لال چاننہ منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد پاس کی گئی: ''چونکہ ریڈیو کی زبان [[عربی زبان|عربی]] اور [[فارسی زبان|فارسی]] الفاظ کی کثرت کے باعث حدِ درجہ ناقابلِ فہم ہے، اِسی لیے اِس محکمے کے عملے میں فوری تبدیلیاں کی جائیں اور پچھتّر فی صد اسامیاں ایسے لوگوں سے پُر کی جائیں جو ہندی دان طبقے کے نمائندے ہوں اور جو زبان کے معاملے میں ہم سے انصاف کر سکیں۔''
اُردو کے خلاف اِس محاذ کے باعث یہ ضروری سمجھا گیا کہ اِس لسانی مناقشے میں بھرپور دفاعی پالیسی اپنائی جائے۔ چنانچہ اُردو کے تحفظ کے لیے تمام مسلمانانِ ہند اور اُن کی نمائندہ جماعتیں ایک ہو گئیں اور اُسی شدومد کے ساتھ اُردو دفاع کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، جس قدر کہ جارحیت تھی۔ بقول ڈاکٹر [[فرمان فتح پوری]]: {{اقتباس|مسلم لیگ، [[محمڈن ایجوکیشن کانفرنس|مسلم ایجوکیشنل کانفرنس]]، [[خلافت کمیٹی]] اور [[انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اُردو]]نے اُردو کو برصغیر کے مسلمانوں کی ثقافتی رگ سمجھ کر اُس کو بچانے کی کوشش کی۔ [[آل انڈیا مسلم لیگ|مسلم لیگ]] نے سیاسی سطح پر اُردو کا دفاع کیا اور اپنے مطالبات میں اُردو کی حفاظت کو بھی شروع ہی سے پیشِ نظر رکھا۔}}
# اُردو زبان کے دفاع کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور ہر اُس عملی جہد کا حصہ بنے جو اُردو کی بقاءکے لیے ناگزیر تھی۔
 
[[قیام پاکستان]] کے بعد مولانا صلاح الدین احمدکی خدماتِ اُردو کا زاویہ تبدیل ہو گیا اور انہوں نے حالات کے نئے تناظرکی روشنی میں ایک الگ لائحہ عمل اختیار کیا۔ [[قیام پاکستان]] کے بعد یہ ایک حقیقت تھی کہ یہ زبان پاکستان کے باشندوں کی زبان بن کر رہ گئی۔ ایسا نہیں کہ اب [[بھارت]] میں اِس کی تہذیبی شناخت ختم ہو گئی بلکہ سیاست نے کچھ ایسا زاویہ اختیار کیا کہ وہاں کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کی روشنی میں ہندی کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا اور ذرائع ابلاغ و تعلیم میں ہندی زبان کی برتری قائم کر دی۔ یہی وہ دُکھ تھا جس سے مولانا صلاح الدین احمد مغلوب ہو گئے لیکن اب یہ قضا کا فیصلہ تھا جسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اُن کے خیال میں [[تقسیم ہند]] کے بعد اُردو کی عالمگیر حیثیت ختم ہو چکی ہے اور وہ زبان جو نہ صرف برعظیم ہند، [[ایشیا]]، [[یورپ]] اور [[افریقا]] کی ہر بندرگاہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی، اب ایک چھوٹے سے ملک بلکہ اُس کے ایک حصے کی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔اِسیہے۔ اِسی لیے انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ یہ زبان جس عجیب دوراہے پر کھڑی ہے، اِس میں سے پھوٹنے والا ایک رستہ چند ہی قدم پر ایک مہیب چٹان کے کنارے پہنچ کر ختم ہو جاتاہے اور دوسرا خم کھا کر دُور سے نظر آنے والے ایک جنگل کی طرف چلا جاتا ہے ،ہے، جہاں ایک غیریقینی مستقبل کا دُھندلکا چھا رہا ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
مولانا صلاح الدین احمد کی تمام تر زندگی اُردو کے تحفظ، فروغ، دفاع اور نفاذ کی کوششوں میں گزری۔ یہ کوششیں ایک ایسی زبان کے لیے تھیں جو ایک عظیم تہذیب کی ترجمان اور امانت دار تھی مگر جس ہوائے مخالف کو ورثے میں پایا اور تاحال اِس تندئ بادِ مخالف کا سامناکر رہی ہے، غنیمت نہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے شعبۂ اُردو کے لیے ایک مضبوط بادبان کا کام کیا ورنہ تو اِس کے دُشمنوں ہی نے نہیں بعض نادان دوستوں نے بھی اِ س کے ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
=== اُردو بولو تحریک ===
ہندی زبان کے مقابلے میں اُردو کے فروغ کے سلسلے میں مولانا صلاح الدین احمدکی ''اُردو بولوتحریک'' کا کردار بہت بھرپور ہے۔اگرچہہے۔ اگرچہ یہ تحریک ابتداً اُن مختصر فرمودات بلکہ نعروں( سلوگنز) پر مبنی ہے جو ادبی دُنیا کے صفحات پر خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے درج کیے جاتے تھے مگر اپنے اثر اور اُردو کے فروغ کے سلسلے میں خاصے کارگر ثابت ہوئے۔ بعد ازاں اِس کے لیے صفحہ مختص کر دیا گیا اور ادبی دنیا کا سرورق اُلٹتے ہی اِس تحریک کے نعروں پر نظر پڑتی جو جلی حروف میں درج ہوتے تھے۔ اِس تحریک کی اِبتدا کے بارے میں [[آغا بابر]] کا دعویٰ ہے کہ یہ اُن کی تجویز تھی۔ اِس سلسلے میں اُن کا کہنا ہے:
{{اقتباس|دو برس ہوئے جب ادبی دُنیا کا دفتر مال روڈ کی ایک عمارت میں تھا۔ میں نے ایک ملاقاتِ شام کے دوران میں ایڈیٹر ادبی دنیا سے کہا کہ آپ پرچے میں مضمون ختم ہونے پر [[میر تقی میر|میر]]،[[مرزا اسد اللہ خان غالب|غالب]] یا [[الطاف حسین حالی|حالی]] کا کوئی شعر چھاپ دیتے ہیں۔ یہ خانہ پری اچھی چیزہے مگر میری ایک تجویز ہے۔۔۔ یہ کہ کہیں لکھ دیا جائے اُردوبولوکہیں یہ کہ بچوں سے اُردو بولو۔}}
یہ مختصر سے نعرے (سلوگن) اپنے حلقہ اثر کے اعتبار سے بہت وسعت کے حامِل ثابت ہوئے اور یہ تحریک وقت کے ساتھ ساتھ اذہان میں ایک مثبت شعور اور تبدیلی کا باعث بنی۔اِنبنی۔ اِن اعلانات میں نہایت سادہ مگر پراثرانداز کے الفاظ شامل کیے جاتے، جن میں لسانی سطح کی ایک فکری دعوت ہوتی۔ یہ اعلانات اُردو کے حق میں ہوتے لیکن کوئی ایسا اعلان شائع نہ ہوا، جو ہندی کے خلاف ہو، جس کا مقصد یہ تھا کہ بغیر محاذ آرائی کی فضا پیدا کیے اُردو کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ چنانچہ صرف اُردو کے فروغ اور اہمیت پر اعلانات درج کیے گئے۔ ادبی دُنیا کے صفحات پر اِن اعلانات کی نوعیت کیا تھی۔ مناسب ہو گا کہ چند منتخب اعلانات درج کیے جائیں:
* اُردو بولو۔
* اُردو بولو تحریک کی مدد کیجیے۔
* اُردو کو انگریزی کی جگہ دے کر اپنا قومی وقار بڑھایئے۔ اُردو بولو۔
* [[پنجابی زبان|پنجابی]]،[[پشتو زبان|پشتو]]، سندھی سب ہمیں پیاری ہیں مگر اُردو، اُردو ہماری جان اور ایمان ہے۔
* اُردو بولو۔ اور ایک ہو جاؤ۔ اُردو۔اُردو۔اُردو۔اُردو۔ اُردو۔ اُردو۔
* ہم زبانی ہم دِلی کی پہلی شرط ہے۔ اُردو بولو۔اُردوبولو۔ اُردو بولو اور یک جان ہو جاؤ۔
* اُردو وہ جادو ہے جو سَر چڑھ کر بولتا ہے۔ اُردو بولو۔
یہ مختصر، بے ضرر مگر پراثر اعلانات بڑی سرعت کے ساتھ ذہنی بیداری کا باعث بنے۔ اِس تحریک کے اثرات کس قدر وسیع تھے۔ اِس سلسلے میں مولوی عبدالحقعبد الحق کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
{{اقتباس|آپ کی تحریک، اُردو بولو، نہایت قابلِ قدراور لائقِ عمل ہے۔ یوں تو [[پنجاب، پاکستان|پنجاب]] میں اور خاص کر لاہور میں بہت سی انجمنیں اور بزمیں ہیں اور کام بھی کرتی ہیں لیکن اِن سب کے کام مِلا کر بھی اِس تحریک کو نہیں پہنچتے۔ یہ بنیادی کام ہے۔ اِس وقت تو شاید لوگ اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب اِس کے حیرت انگیز نتائج کا قائل ہونا پڑے گا۔ اِس کی کامیابی پر ہمارے بہت سے مسائل کی کامیابی کا انحصار ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>}}
 
=== اکادمی پنجاب کی بنیاد ===
اُردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ''اُردوبولوتحریک'' کے علاوہ مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وسائل سے '''اکادمی پنجاب''' کی بنیاد رکھی۔اِسرکھی۔ اِس سلسلے میں اُن کو [[فقیر سید وحید الدین]]،اے ڈی اظہر اور [[وزیر آغا|ڈاکٹر وزیرآغا]] کا تعاون حاصل تھا۔ اِس اکادمی کے مقاصد میں اُردو زبان و ادب کی نشوونما کے لیے متنوع جہتوں میں کام کرنا تھا۔ '''اکادمی پنجاب''' کے مقاصد کا تعین کرتے ہوئے [[ڈاکٹر انور سدید]] نے درج ذیل پانچ نکات پیش کیے ہیں:
# قومی زبان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا۔
# اُردو کی ترقی اور فروغ کی علمی کامرانیوں میں اضافہ۔
 
=== اُردو یونیورسٹی کے قیام کی تجویز ===
مولانا صلاح الدین احمد نے اُردو یونیورسٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ تجویز دراصل بابائے اُردو مولوی عبدالحقعبد الحق کی وہ تمنا تھی، جس کے لیے وہ اپنے آخری ایامِ زندگی میں نہایت بے تاب اور بے چین رہ چکے تھے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>
 
== تصانیف ==