"قصور" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، اس ک\1، سے، علاحدہ
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، سے، اس ک\1، سے، علاحدہ)
 
'''قصور'''
[[صوبہ پنجاب]] [[پاکستان]] کا ایک قدیم [[ضلع قصور]] کا مرکزی شہر اور ضلعی [[دارالحکومت]] ہے،[[ضلع]] کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے یہ [[لاہور]] کی ایک [[تحصیل]] تھی،انگریز حکومت نے قصور کو 1867ء میں میونسپلٹی کا درجہ دیا، یکم جولائی 1976 ءکو [[ضلع لاہور]] سے [[تحصیل قصور]] کو علاحدہ کر کے [[ضلع]] کادرجہ دے دیاگیا ، جو [[لاہور]] سے [[جنوب]] کی طرف55[[کلومیٹر]] دور واقع ہے، اس کا کل رقبہ 3995 مربع کلومیٹر ہے،سطح سمندر سے اسکیاس کی اوسط بلندی 218 میٹر ہے۔
 
قصور کا ماضی شاندار ہے، یہ مذہبی ، ثقافتی اور روحانی روایات کا امین ہے، یہ شہر ہماری ملی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس نے اسلامی تہذیب وتمدن اور مسلم ثقافت کی ترقی اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔قصور کی تاریخ لاہور کے مقابلے میں اتنی پرانی نہیں ہے مگر یہ صدیوں سے لاہورشہر سے منسلک شہر ہے اس لیے [[لاہور]] سے بہت مشابہت رکھتا ہے، لاہور پاکستان کا دل ہے تو قصور اس کی آنکھ ہے۔
قصور شہر اپنی مزیدار مٹھائیوں اور مسالے دار مچھلی کی وجہ سے مشہور ہے، کھانے پینے کے حوالے سے قصوریوں کی حسِ ذائقہ نہایت قابلِ رشک ہے،ملک بھر میں قصوری فالودہ کی ایک جداگانہ شناخت ہونے کے ساتھ ساتھ قصوری اندرسا، بھلے پکوڑیاں، اوجڑی اور ناشتے میں دہی کلچہ نہایت مرغوب سمجھے جاتے ہیں۔ ملن ساری، زندہ دلی اور محنت یہاں کے لوگوں کے امتیازی اوصاف ہیں۔
 
[[ہندوستان]] میں [[مغل سلطنت]] کےبانی [[ظہیرالدین بابر]] نے1526ء میں ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد افغانوں کی خدمات کے صلے میں قصور کا علاقہ ان کو عنایت کر دیا ،یہاں پر زیادہ تر منظم حکومت [[افغانستان]] کے پٹھانوں کی رہی ہے جنہیں دہلی یا لاہور حکومت کی طرف سے مقرر کیا جاتا تھا لیکن وہ مقامی طور پر خود مختار حیثیت رکھتے تھے ، کہا جاتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں [[چین]] کا ایک مشہور سیاح ہیون تسانگ یہاں پہنچا اور یہاں کے حالات بھی تحریر کئے،کیے، اس کی تحریر سے ہمیں آثار قدیمہ کے بارے میں بہت سی معلومات ملتی ہیں، اس سے قبل قصور کا تاریخی حوالے سے تذکرہ مفقود ہے۔
 
قصورکا لفظ [[عربی]] زبان کے لفظ قصر کی جمع ہے جس کا معنی محل ہوتا ہے ، قصورشہر کو[[شہنشاہ اکبر]] کے دور میں کندھار کے پٹھان امرا نے آباد کیا اور یہاں پر اپنے خاندانوں کی رہائش کے لیے علحیدہ علیحدہعلاحدہ قلعہ نما محل تعمیر کروائے، انہی محلات کی وجہ سے قصورکا نام معرض وجود میں آیا،پہلے زمانے میں ان کے بڑے بڑے دروازے تعمیر کیے گئے تھے، اب ان کے صرف آثار باقی ہیں یہ محلات بعد میں کوٹ کے نام سے مشہور ہوئے بہت سے کوٹ اب بھی انہی پرانے ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔مثلاً [[کوٹ حلیم خاں]]، [[کوٹ فتح دین خاں]]، [[کوٹ عثمان خاں]] ، [[کوٹ غلام محمد خاں]]، [[کوٹ رکن دین خاں]] ،[[کوٹ مراد خاں]]،[[کوٹ اعظم خاں]]، [[کوٹ بدردین خاں]] ، [[کوٹ پیراں]] ، [[کوٹ بڈھا]] ،[[کوٹ میربازخاں]]، [[کوٹ شیربازخاں]] ، [[دھوڑکوٹ]] ، [[روڈ کوٹ]] اور [[کوٹ علی گڑھ]] وغیرہ۔
 
قصورکا[[گنڈا سنگھ والا]]بارڈر مشہور ہےیہ انڈیا اور پاکستان کے بارڈر کو ملاتا ہے ،اس کا تقسیم [[ہند]] سے قبل قصور کے مضافاتی قصبات میں شمار ہوتا تھا۔یہاں پر[[پاکستان]] اور[[بھارت]] کی مشترکہ پرچم کشائی کی تقاریب ہوتیں ہیں،جب کہ اس بارڈر کے دوسری طرف بھارت کا شہر[[فیروزپور]]ہے اسی طرح ۱۹۶۵ء کی پاک [[بھارت]] جنگ میں فتح ہونے والابھارتی شہر [[کھیم کرن]] بھی ہے یہاں پر ایک بڑی ٹینکوں کی جنگ کے مقام کی وجہ سے ٹینکوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔
111,622

ترامیم