"محسن الملک" کے نسخوں کے درمیان فرق

5 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← ھیے، سے، سے، \1 رہی، تنازع، \1 رہے)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
}}
 
آپ [[حیدرآباد، دکن|حیدر آباد دکن]] کے فنانشل اور پولیٹیکل سیکرٹری تھے۔ [[علی گڑھ کالج]] کے بھی سیکٹری رہے۔ مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ہیںہیں۔<ref>حیات محسن از امین زبیری</ref>۔ محمڈن ایجوکیشن کالج کی اہم مبلغ بھی۔ نواب صاحب کئی خصوصیات,خصوصیات، وجاہت، ذہانت ،ذہانت، خوش بیانی اور فیّاضی کے مالک تھے جن میں سب سے پہلا ذکرو جاہت کا ہے۔ محسن الملک ایک وجیہہ شخص تھے جس سے ملنے والا بہت جلد مرعوب ہوجاتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص ان سے ذرا دیر کو بات چیت کرے تو ان کی خوش بیانی اور ذہانت و فیاضی کا قائل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد مصنف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ انسان کا نام رکھتے وقت اس کی خصوصیات اور خوبیوں کو نہیں دیکھا جاتا کیونکہ اس وقت ایسی خصوصیات سامنے ہی نہیں آتی۔ لہذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نام کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے اور اس شخص میں خوبیاں اور خامیاں دوسری قسم کی ہوتی ہیں۔ وہ تمام لوگوں کے لیے اپنے دل میں ہمدردانہ جذبات رکھتے تھے اور ایک ہی ملاقات میں ان کو مرعوب کردیتے۔ اسی لیے لوگ انہیں اپنا محبوب جانتے اور انہیں محسن الملک کہہ کر پکارتے.پکارتے۔ آپ نے عملی،، تقریری اور تحریری ہر طرح سے اردو زبان کی خدمت کی.کی۔
 
==مسلم لیگ كا قیام==
اردو زبان كی مخالفت كے نتیجے میں مسلمانوں پر ہندو ذہنیت پوری طرح آشكار ہو گئی۔ اس تحریك كے بعد مسلمانوں كو اپنے ثقافتی ورثے كا پوری طرح احساس ہوا اور قوم اپنی تہذیب و ثقافت كے تحفظ كے لیے متحد ہوئی۔
 
1900میں یوپی کے لیفٹنینٹ گورنر سر انٹونی میکڈانل نے اردو کے خلاف مہم شروع کی تو نواب محسن الملک نے اس کا جواب دینے کے لیے لکھنؤ میں ایک بڑا جلسہ کیا۔ '''محسن الملک''' نے س جلسے میں جس جوش و خروش سے تقریر کی۔اسکی۔ اس کی نظیر نہیں ملتی۔یوںملتی۔ یوں سمجھیے کہ الفاظ کا ایک لاوا تھا جو ابل ابل کر پہاڑ سے نکل رہا تھا۔آخرتھا۔ آخر میں نواب محسن الملک نے یہ کہتے ہویے کہ:
{{اقتباس|'''اگر حکومت اردو کو مٹانے پر ہی تل گئی ہے تو بہت اچھا۔ہم اردو کی لاش کو گومتی دریا میں بہا کر خود بھی ساتھ ہی مٹ جائیں گے'''}}
اور والہانہ انداز میں یہ شعر پڑھا۔