"معاہدہ لوزان" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
درستی
م خودکار: خودکار درستی املا ← سے، دیے، سے، دیے
سطر 40:
اس معاہدے کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی تھی اور ترکی نے تینوں براعظموں میں موجود خلافت کے اثاثوں اور املاک سے بھی دستبرداری اختیار کر لی تھی
’’معاہدہ لوزان‘‘ 100سال پر محیط تھا جو دراصل ترک عوام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کا ایک ایسا پھندا تھا جس نے ترکی کو ہاتھوں پائوں باندھ کر چاروں شانے چت کر دیا۔2023میں یہ معاہدہ اپنی مدت پوری کر کے غیر مؤثر ہو جائے گا
معاہدہ لوزان جنگ عظیم اول کی فاتح قوتوں کے درمیان طے پایا تھا ۔اس وقت صورت حال یہ تھی کہ فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصوں پر قابض ہو چکی تھیں۔ ان قوتوں میں سے برطانیہ نے وہ خطرناک اور ظالمانہ شرائط معاہدہ لوزان میں شامل کروائی تھیں جن کی رو سے ترکی کے ہاتھ پائوں باندھ دئیےدیے گئےتھےاور ترکی اگلے سو برس تک اس معاہدہ پر عملدرآمد کا پابند قرار پایا تھا
# معاہدہ لوزان کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم اور سلطان کو ان کے خاندان سمیت ترکی سے جلاوطن کر دیا گیا تھا
# خلافت کی تمام مملوکات ضبط کرلی گئی تھیں جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل تھیں
سطر 49:
== مذاکرات اور نتائج ==
 
ترکی کی جانب سے [[عصمت انونو]] مذاکرات کاروں کے سربراہ تھے اور الفتھیریوس وینزیلوس ان کے یونانی ہم منصب تھے۔ معاہدے کے تحت ترک جمہوریہ کی آزادی تسلیم کی گئی لیکن ترکی میں یونانی اقلیت اور یونان میں ترک مسلم اقلیت کو حقوق عطا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ترکی میں آباد دو لاکھ 70ہزار یونانی اور یونان کے علاقے مغربی [[تھریس]] کے 86 ہزار مسلمان معاہدے کے بعد مذکورہ ممالک کو ہجرت کر گئے۔ معاہدے کی شق 14 کے تحت امبروس اور تیندوس کے جزائر کو خصوصی انتظامی اختیارات دیئےدیے گئے جس حق کو [[17 فروری]] [[1926ء]] کو ترک حکومت نے ختم کر دیا۔ جمہوریہ ترکی نے [[سلطنت عثمانیہ]] کے جانشیں کی حیثیت سے [[قبرص]] کو [[سلطنت برطانیہ]] کے دامن میں ڈالتے ہوئے انگریزی قبضہ تسلیم کیا۔ صوبہ [[موصل (شہر)|موصل]] کی قسمت کا فیصلہ [[جمعیت الاقوام]] ([[جمعیت الاقوام|لیگ آف نیشنز]]) کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔
 
آرمینیائی انقلابی فیڈریشن اور [[آرمینیا]] کی کئی سیاسی جماعتوں نے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا۔