"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، نشان دہی، سے، سے، کر دیں، \1 رہا، اور، پڑ گئے، موروثی، ہو گئی، یا)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
کلنگا کی فتح نے اشوک کے دماغ پر گہرا اثر دالا۔ کیوں کہ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ جنگی تباہ کاریاں دیکھ کر اشوک سخت متاسف ہوا اور اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ کبھی جنگ نہ کرے گا۔ اس واقع کے بعد اس نے اپنی بقیہ زندگی اخلاقی تعلیمات پھیلانے، برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں سے آشنا کرنے میں صرف کردی۔
اشوک نے دور دراز کے ملکوں مثلاََ لنکا، برما، سیام، سماٹرا، شام، مقدونیہ اور مصر میں اپنے مغلبین بھیجے۔ انہوں نے جنوبی ملکوں میں شاندار کامیابی حاصل کیں۔ اشوک نے بدھ کی اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے انہیں پتھروں کی سلوں کی پر کندہ کرا کر انہیں شاہراؤں پر نصب کروائے۔ اس کی تعلیمات جو بدھ سے ماخذ ہیں ان میں عدم تشد، جانداروں کی زندگی کی تحریم، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، ماں اور باپ اور استادوں کی تعظیم، راست گوئی، عام ہمدردی اور فیاضی پر ذور دیا گیا ہے۔ اس نے مختلف مقامات پر مسافر خانے، کنوئیں اور شفاخانے تعمیر کرائے۔ نیز جانوروں کو ہلاک کرنا ممنوع قرار دیا۔ اشوک نے اپنی حکومت کے چوبیسویں سال مقدس مقامات کی زیارت کی اور گوتم کی یاد میں لمبنی باغ قریب جہاں گوتم پیدا ہوا تھا ایک مینار نصب کرایا۔ علاوہ ازیں اشوک نے بدھ مت کے فرقوں کے اختلاف ختم کروانے کے لیے ایک مجلس منعقد کروائی۔
اشوک کو عمارتیں بنوانے کا شوق تھا۔ اس نے مختلف مقامات پر عالی شان محلات، خانقائیں اوراسٹوپے Stups تعمیر کروائے جن کے نشانات اب نہیں ملتے ہیں۔ اس نے سنیاسیوں کی عبادت کے لیے گیا کے قریب برابر کے پہاڑوں میں چٹانوں کو کاٹ خوب صورت اور بہت ہی صاف سفاف خانقائیں بنوائیں جو اب بھی باقی ہیں۔ مگر اس کی تمام یادگاروں میں اہم اس کے کتبہ ہیں جو تعداد میں تیس ہیں۔ یہ کتبہ زیادہ تر چٹانوں کی سلوں، غاروں کی دیواروں اور ستونوں پر کندہ ہیں برصغیر کے بہت سے حصوں میں پائے گئے ہیں۔ ان کی زبان پراکرت ہے، یعنی وہ مقامی زبانوں میں ہیں۔ ان کتبوں میں دو کا رسم الخط وہ ہے جسے آج کل کروشتھی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہہیں۔ یہ رسم الخظ قدیم آرامی رسم الخظ سے ماخوذ ہے اور دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا۔ بقیہ کتبے براہمی حروف کے کسی نہ کسی شکل میں کندہ۔ یعنی ان حروف میں ہیں جن سے موجودہ دیوناگری رسم الخط نکلا ہے۔ یہ حروف دائیں سے بائیں لکھے جاتے تھے۔ یہ کتبات شاہی فرامین ہیں اور زیادہ تر اخلاخی اصول بدھ کی عام تعلیمات، نظم و نسق اور اصول سلطنت پر مشتمل ہیں۔
== موریہ سلطنت کا زوال ==
یہ حقیقت ہے جوحکومت قیام امن کے لیے قائم ہوتی ہے خود بغیر جنگ اور عسکری طاقت کے بغیر قائم رہے نہیں سکتی ہے۔ اشوک نے اپنی تمام زندگی میں عدم تشدد کی پر زور تبلیغ کی اور ان کے اصولوں سیاسی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے اور قابل عمل بنانے کی کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں کے اندر سطنت کی حربی طاقت ختم ہو گئی اور فوج کا جنگی جذبہ سرد ہو گیا، نظام حکومت کمزور ہو گیا اور اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں سے اٹھ گئی۔ ساتھ ہی ساتھ بدھ مت کی تبلیغ کی وجہ سے برہمنیت جاگ اتھی اور وہ نچ ذات کے بدھ فرمانروا کو اکھاڑ پھیکنے پر تل گئی۔ طاقت کے استعمال کا خوف تھا ہی نہیں اس لیے بڑی بیباکی کے ساتھ اعلیٰ اور ادنیٰ ذاتوں کا مسلہ کھڑا کر کے مذہبی جذبات بھڑکا دیا گیا، اشوک کے موت کے بعد موریاسلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ ایک طرف اشوک کے بیٹوں اور پوتوں نے حصہ بخرے کر لیے اور دوسری طرف بعض حوصلہ مندوں نے بعض مقامات پر قبضہ جمالیا اور یہ بتانا مشکل ہو گیا کہ اشوک کے بعد اس کا جانشین کون ہوا۔ پران کی روایت میں کنال kunak جو اشوک کا بیٹا تھا پہلا جانشین بتاتا ہے۔ مگر کشمیر کے واقع نگار ایک شخص جلوک Jalauka اس کا بیٹا اور جانشین کہتے ہیں۔ تیسری بدھ مت کی روایتں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑھاپے میں اشوک کا انہماک مذہب کی طرف اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ حکومت کے کاموں سے غفلت برتنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کے سلطنت کے کل پرزے ڈھیلے پڑ گئے اور آمدنی بے جا طور پر صرف ہونے لگی۔ یہ حالات دیکھ کر وزراء نے اشوک کے اختیارات سلب کر کے اس کے پوتے سمپری Samprti جو کنال کا بیٹا تھا تخت پر بیٹھا دیا۔ ان روایات کے مطابق سمپرتی کے بعد موریا خاندان کے چار اور حکمران برشین Brashisin، پسی Pushydrman دھرمن اور پشی متر Pushidhrman تخت پر بیٹھے۔ جین روایت بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ سمپرتی اشوک کا جانشین ہوا۔ ان روایات کے پہلو بہ پہلو وہ کتبے ہیں جو ناگرجنیNagarjuni کے پہاڑ کے غاروں میں کندہ ہیں جو اشوک کے پوتے دسرتھ Dasartha نے بنوائے تھے۔ یہ غار اشوک کے کھدوائے ہوئے برابر پہاڑ Brabar Hillکے غاروں کے قریب واقع ہیں۔ ان کتبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشوک کی موت کے بعد دسرتھ تخت پر بیٹھا یا کم از کم مشرقی صوبوں میں اس کا جانشین ہوا۔ دسرتھ اشوک کے ایک بیٹے تیور Tivra کا بیٹا تھا جو شاید باپ کی زندگی میں مر گیا تھا، کیوں کہ اشوک کے بعد اس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ حلانکہ اشوک کا یہی ایک بیٹا تھا جس کا ذکر کتبوں میں آیا ہے۔ وشنو پران کی روایات کے مطابق موریا خاندان کے چار حکمران شالی شوک Sali suka، دیو ورمن Devavarman، ستمدہنوس Satamdhmus اور برہدرتھ Brihadrtha پاٹلی کے تخت پر بیٹھے۔ ہر نیا حکمران سابق حکمران سے کمزور تر نکلا۔ آخر انحاط اس حد تک پڑھا کے فوج کے سالار پشی متر Pushyammitra نے راجہ (برہدرتھ) کو قتل کرکے موریا خاندان کا خاٹمہ کر دیا۔
عدلیہ کے تمام اعلیٰ اختیارات حکمرانوں کو حاصل تھے۔ وہی ملک کا سب سے بڑا قاضی تھا۔ اس کے فیصلے پر کسی کو نظر ثانی کا حق حاصل نہیں تھا۔ وہ دربار عام میں میں مقدمات کے فیصلے کرتا اور اپنے فیصلے صادر کرتا تھا۔ ان کی فیصلے میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔ کیوں کہ وہ خدائی ارادہ کا مظہر نہیں تھی۔ توقع کی جاتی تھی کہ وہ مذہبی آئین و قوانین کے تحت فیصلے کرے گا۔ مگر وہ اس کا پابند نہیں تھا۔ ارتھ شاستر میں اس کے حکم کو تمام قوانین سے بالاتر بتایا ہے۔
راجہ کی عدالت کے بعد صوبوں اور ضلعوں کی عدالتیں تھیں۔ جہاں مہامانز Mahamatsa یعنی حاکم شہر اپارک Uparika یعنی صوبہ دار پرا دیواک Pradvavaka یعنی قاضی اور راجوک یعنی حاکم ضلع مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ عدالتی نظام انتظامیہ علاحدہ نہیں تھا۔ اس لیے اس کے اندر بے انتہا خرابیاں تھیں۔ اکثر تین یا پانچ قاضیوں پر مشتمل ایک مجلس عدلتی فرائض انجام دیتی تھی۔ مگر ایسی مجلسوں میں مقامی سیٹھ Seth اور کائستھ Kaystha ہوتے تھے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے تھے عدالتی بد عنوانیوں کے حوالے اور تذکرے ملتے ہیں۔ جن سے ظااہر ہوتا ہے کہ یہ محکمہ ابتدائی حالت میں تھا۔
دیہاتوں میں پنچایت ہی مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی، مگر لوگوں کو عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔اشوکتھا۔ اشوک کے عہد تک منو سمرتی کی تالیف نہیں ہوئی تھی اور اس وقت تک دھرم سترہ پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس میں بھی ذات کی تفریق کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا تھا اور قانون کی نظر میں سب برابر نہیں تھے۔ پھر بھی اس میں شدت نہیں تھی۔ اشوک نے اس تفریق کو پسند نہیں کیا اور اس کے عہد میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حثیت وہ نہیں رہی جو دھرم شترہ اور دھرم شاستر میں تھی۔ اشوک نے حاکموں کو حکم دیا کہ عدالتی کارروائی میں مساوات کو ملحوظ رکھیں۔ اگرچہ اس پر عمل بہت کم ہوتا تھا۔
موریہ دور میں مختلف جرائم کی مختلف سزائیں جن میں جرمانہ، قطع اعضاء، جلاوطنی، جائداد کی ضبطی اور قتل کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہلاک کرنے کے مختلف طریقہ رائج تھے۔ مثلاً پھانسی، قتل، پانی میں ڈبو دینا اور جلا دینا۔ مگر اشوک کے دور میں یہ سزئیں برقرار رہیں۔ البتہ اس نے سزائے موت کے مجرموں کو انتی رعایت ضرور دی تھی کہ ان سزا پر تین دن کے بعد عمل کیا جاتا تھا۔
== تعمیرات و سنگ تراشی ==
چینی سیاح فاہیان نے بھی اس شہر کو دیکھا۔ وہ بھی اس کی خوبصوری کا مداح تھا۔ اس کے عہد تک اشوک کا محل قائم تھا۔ وہ اس کے متعلق کہتا ہے کہ شاہی محلات اور ایوان شاہی شہر کے بیچوں بیچ قائم ہیں۔ اس کو ان طاقتوں (غیر بشری) نے تعمیر کرایا جو اشوک کا ملازم تھے۔ انہوں نے ہی اس کو پتھروں سے چنا تھا اور دیواریں اور دروازے کھڑے کیے تھے اور ایسی خوبصورت پچکاری کا کام تھا جو انسانی طاقت سے باہر تھا۔
فاہیان نے ان راہب خانوں اور اسٹوپوں کا بھی ذکر کیا جو اشوک نے اس شہر میں تعمیر کرائے تھے۔
اشوک کے عہد کے سنگ تراشی کے نمونے ستونوں اور غاروں کی شکل میں اب بھی موجود ہیں ۔برابر۔ برابر کے پہاڑ کے غار اشوک سنگ تراش کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی دیواریں اور فرش اتنے صاف اور اتنے چکنے ہیں کہ آئندہ بھی چمکتے رہیں گے۔ اس کے ستونوں میں سارتھ کا ستون خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے اوپر چار بڑے کوفناک شیروں کی شکلیں بنی ہوئی ہیں، جن کی پشت ایک طرف ہے اور وہ ہوشیار کھڑے ہیں۔ ان کے پاؤں کے نیچے دوسرے جانوروں کی چھوٹی شکلیں کھدی ہوئیں ہیں۔ اس طرح اشوک کے وہ ستون جو ایک چٹان سے تراشے گئے ہیں۔ سنگ تراشی کے بہترین نمونے ہیں۔ ان میں بعض پچاس فٹ اونچے اور پچاس ٹن وزنی ہیں۔
اشوک نے اپنے عہد میں کثرت سے اسٹوپے تعمیر کرائے ہیں۔ جن میں صرف نیپال کا اسٹوپہ اپنی اصل شکل میں رہ گیا ہے۔ اس کا داخلی حصہ خام انیٹوں سے اور بیرونی حصہ پختہ حصوں سے بنا ہوا ہے، نیز اس پر موٹی استرکاری ہے۔ سانچی ریاست بھوپال کے اسٹوپے کے متعلق لوگوں کا خیال کہ وہ اشوک کا تعمیر کردہ ہے۔ پہلے یہ چھوٹا سا تھا بعد میں اس کو وسیع کیا گیا۔ اس قطر 121 فٹ اور بلندی ستر 70 فٹ ہے۔ یہ ایک سنگین چار دیواری سے گھرا ہوا ہے، جس میں چار دروازے ہیں مذکورہ اسٹوپہ کے علاوہ چار اور اسٹوپے اس مقام پر ہیں جو بوعد میں تعمیر ہوئے۔
== زراعت ==