"نکاح حلالہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← \1 رہی، دریابادی، سے، ائمہ، سے
(درستی املا)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← \1 رہی، دریابادی، سے، ائمہ، سے)
== نکاح حلالہ کی تین صورتیں ==
=== 1۔عمومی===
ایک عورت کو طلاق دی گئی عدت گذارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے یہ دوسرا شخص حق زوجیت کے بعد اپنی مرضی سے طلاق دے دوسری عدت کے بعد پہلے خاوند کے لیےحلال ہو گی یہ نکاح حلالہ کیا نہیں جاتا ہو گیاہے اس کے جائز ہونے پر تمام آئمہائمہ کا اتفاق ہے
=== 2۔ارادی ===
ایک شخص نے طلاق دی عدت گذارنے کے بعد بغیر کسی شرط دوسرے شخص سے نکاح کرے لیکن اس شخص کے دل میں یہ ارادہ ہو کہ پہلا خاوند اسے واپس لینا چاہتا ہے بچے چھوٹے ہیں انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں میں نکاح کر کے چھوڑ دونگا تاکہ اجڑا گھر آباد ہو ایسی صورت میں
فقہ حنفی کےمطابق نکاح حلالہ صحیح ہےاگر پہلے خاوند اور بیوی کے درمیان میں صلح کرانا مقصود ہو تو باعث ثواب ہے اگر یہ مقصد شہوت پوری کرنا یا طلاق دینا ہو تو مکروہ تحریمی اور اس عمل میں شریک لوگ گناہگار ہونگے۔لیکن نکاح صحیح اور پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائیگی ۔اگر اجرت مقرر کرتا ہے تو یہ عمل حرام اور اجرت مقرر کرنےوالالعنت کا مستحق ہے
=== 3۔مشروط ===
مطلقہ سے نکاح کرتے وقت یہ شرط رکھی کہ جماع کے بعد طلاق دیگا تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے یہ طریقہ تمام آئمہائمہ کے نزدیک حرام ہے۔البتہ امام شافعی امام مالک امام حنبل کے نزدیک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کےلیے عورت جائز ہو جاتی ہے<ref>تحقیق حلالہ محمد صدیق ہزاروی،صفحہ 7،کرمانوالہ بک شاپ</ref>
== قبل از اسلام ==
اسلام میں پہلے [[عرب]] میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص بیوی کو [[طلاق]] دے دیتا اور پھر اس سے شادی کرنا چاہتا تو جب تک وہ کسی دوسرے شخص س عقد کرکے طلاق نہ پاتی ، پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی تھی۔ [[اسلام]] نے اس طریقہ کوباقی رکھا تاکہ لوگ آسانی سے بیویوں کو طلاق نہ دے سکیں۔ مگر تین طلاق دینے کی صورت میں ، ایک اور دو طلاق دینے کی صورت میں یہ حکم نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں کو تین مغلظہ طلاقیں دے دیتے ہیں وہ اگر اس عورت سے پھر [[نکاح]] کرنا چاہیں تو پہلے وہ عورت کسی سے [[نکاح]] کرے پھر اس سےطلاقسے طلاق لے کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اور اس کے لیے [[حلال]] ہے۔<br />
== لعنت کا مستحق ==
[[احادیث]] میں حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ [[عمر فاروق]] ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے۔ <br />
"حدیث میں محلل یعنی وہ دوسرا شوہر جو نکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہدہ کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتا ہے۔ اور محلل لہ یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدہ نکاح کی اہمیت، سنجیدگی وتقدیس خاک میں ملائی جارہیجا رہی ہے، ان دونوں پر لعنت آئی ہے۔ اور اکثر فقہا کے ہاں یہ نکاح، نکاح فاسد کے حکم میں آتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں ایسا نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یعنی اس کا نفاذ قانونی ہو جائے گا، اگرچہ اس سے گناہ عائد ہوگا"<ref>تفسیر ماجدی عبدالماجد دریا آبادی،سورۃدریابادی،سورۃ البقرہ،آیت230</ref><br />
بعض ائمہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور بعض نے [[حرام]] ، مگر جن لوگوں نے اسے [[حلال]] قرار دیا ہے وہ بھی اسے اچھا نہیں کہتے ۔
== حلالہ اور متعہ میں فرق ==
111,622

ترامیم