"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے، اس ک\1
(صفائی بذریعہ خوب, replaced: ہوجائے ← ہو جائے)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے، اس ک\1)
* سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لیے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘<ref>بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبتہ ممايدل علي قدم راسخ، ص236</ref>
* وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہونگی۔ <ref name="رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ ،صفحہ 157، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکااس کا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکیاس کی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref>
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔ <ref name="کتاب اللمع">کتاب اللمع فی التصوف ،شیخ ابو نصر سراج ،صفحہ 498 ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref>
وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان میں ہوتی ہے۔<ref name="کشف المحجوب">کشف المحجوب ،علی بن عثمان الہجویری،471،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref>
104,215

ترامیم