"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← ارتقا، ہو گئے، سے، کیے، سے، کر دیں، \1 رہا، امرا، ہو گئی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
یہاں شاہی دربار وحشیانہ اور عیش و عشرت کی شان سے نمودار تھا۔ سونے کے آّفتابے اور پیالے جن میں بعض چھ چھ فٹ ہوتے تھے۔ نہایت عمدہ مرصع اور شاہانی کرسیاں۔ تانبے کے برتن جو جوہرات سے ہوتے تھے اور زر بفت کے زرق برق لباس ہر طرف نظر آتے تھے اور ان کی وجہ سے عام درباروں کے مواقع کی چہل پہل اور شان و شوکت زیادہ ہو جاتی تھی۔ جب کبھی بادشاہ مہربانی کرکے شاہی جشنوں کے کے موقع پر رعایا کے سامنے ظاہر ہوتا تو وہ سونے کی ایک پالکی میں سوار ہوتا تھا۔ جس میں موتیوں کی جھالر ٹکی ہوتی تھی اور خود بادشاہ کا ملبوس خاص نہایت باریک ململ ہوتی تھی، جس پر قرمز اور سونے کا کام ہوتا تھا۔ جب کبھی چھوٹے سفر پر کہیں جاتا تھا تو گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ لیکن مسافت اگر ذرا طولانی ہوتی تھی ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جس کا ساز و سامان سونے کا ہوتا تھا۔ راجہ ہمیشہ سانڈوں، مینڈھوں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دوسرے جانوروں لڑائیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ دو آدمیوں کی لڑائیاں بھی اس کے لیے تفریح و طبع کا باعث ہوتی تھی۔ ایک عجیب و غریب سامان تفریح بیلوں کی ڈور تھی۔ اس میں شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ بادشاہ نہایت دلچسپی سے اس کا تماشاہ دیکھا کرتا تھا۔ اور بیلوں کو گاڑیوں میں جوت کر ڈوراتے تھے اور ان کے علاوہ گھوڑے بھی گاڑیوں میں جوت کر انہیں بھی ڈوراتے تھے۔
راجہ کا سب سے بڑا سامان تفریح شکار تھا۔ یہ نہایت تکلف اور نمود سے کیا جاتا تھا۔ ایک گھرے ہوئے میدان میں جانور چبوترے تک جانور لائے جاتے تھے، جہاں راجہ بیٹھتا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ان کا شکار کرتا تھا۔ لیکن اگر شکار کھلے میدان ہوتا تھا راجہ ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جب وہ شکار کے لیے شکار پر جاتا تھا تو اس کے ہم رکاب عورتوں کی فوج کا ایک دستہ ہوتا تھا۔ جن کو دوسرے ملکوں سے خرید کر لائے تھے اور یہ تمام ہندی راجاؤں کے دربار کا ایک ضروری جزو ہوا کرتی تھیں۔ شاہی گزر کی سرکوں کو دونوں جانب رسی بنی ہوتی تھی اور اس کے پار جانے کی سزا موت تھی شاہی شکار کے دستور کو چندرا گپتا کے پووتے اشوک نے ۹۵۲ ق م میں موقوف کر دیا تھا۔
عام طور پر راجہ محل میں زیادہ رہتا تھا اور عورتوں کی فوج اس کو گھیرے رہتی تھی۔ محل سے باہر صرف بھینٹ چرھانے یا فوج کشی یا شکار کے موقعوں پر نکلا کرتا تھا۔ غالباً توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم ہر روز ایک مرتبہ رعایا کے سامنے آئے، جو عرائض پیش کریں وہ سنے اور بذات خود ان کے مقدمات کا تصفیہ کرے۔ راجہ کو چمپی کرانے میں خاص لطف آتا تھا اور دستور یہ تھا کہ جب وہ رعایا کے سامنے ظاہر ہو تو ساتھ چمپی کرتا جاتا تھا۔جبتھا۔ جب وہ لوگوں کے مقدمے سنتا تو چار نوکر آبنوس کے تکیوں سے اس کو چمپی کرتے جاتے تھے۔ ایرانی دستور کے مطابق جس کا اثر ہندی درباروں اور نظم و نسق پر بھی پڑا تھا۔ راجہ اپنی سالگرہ میں نہایت تزک و احتشام سے اپنے سر کے بال دھوتا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر بڑی عید منائی جاتی تھی اور اس موقع بڑے بڑے امرا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بیش بہا نذرانے راجہ کی خدمت میں پیش کریں۔
اس تزک و احتشام اور شان اور شوکت اور ہر قسم کی حفاظت کے باوجود راجہ کبھی بھی سازشوں اور بغاوتوں سے بے خوف نہ ہوتا تھا۔ راجہ کی زندگی سازشوں کی وجہ سے اس طرح متواتر خطرے میں رہتی تھی کہ وہ دن کے وقت سونے یا دو راتوں کو لگاتار ایک ہی کمرے میں سونے کو خطرناک سمجھتا تھا۔ (ناٹک نویس نے ہمارے سامنے نہایت بین طور پر وہ سین کھنچ دیا ہے کہ کس طرح زیرک اور تیز فہم برہم مشیر ساشوں اور زہر خوانی کا سوراخ لگایا کرتا تھا اور کس طرح ان بہادر لوگوں کا کھوج لگایا کرتا تھا جو زیر زمین راستوں میں چھپے رہتے تھے)۔ جو چندرا گپت کے سونے کمرے میں جاتے تھے تاکہ رات کے وقت اس میں داخل ہو ہوں اور سوتے ہوئے اسے قتل کر دیں۔