"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کے ارکان، اس ک\1، بے امنی، ہو گئے، کر دے، علما، \1 رہا، سے، غیر، سے، دار الخلافہ، ہو گئی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
1845ء میں وہ دریائے جمنا کی راہ دہلی پہنچا۔ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی میزان الحق تھی اور اُس نے علما اسلام کے ساتھ جامع مسجد میں مناظرہ کیا۔ 1851ء میں فینڈر اپنی بیوی اور بچوں کی بیماری کی وجہ سے پہلی دفعہ انگلستان گیا۔ وہاں اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر جرمنی میں اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کوگیا اور 1852ء کے آخر میں نہرسویز کی راہ سے بمبئی پہنچا۔ وہاں سے وہ بیل گاڑی میں سفر کرتا ہوا فروری 1853ء میں واپس آگرہ پہنچ گیا۔ جب فینڈر انگلستان میں چھٹی پر تھا اُن دنوں میں [[چرچ مشنری سوسائٹی]] نے [[والپی فرنچ|تھامس والپی فرنچ]] (Thomas Valpy French) کو 1851ء میں آگرہ میں مشن کالج کھولنے کے لیے روانہ کیا۔ آگرہ میں دوسال کے قیام کے بعد فرنچ نے فینڈر سے ملاقات کی اور فرنچ نے فینڈر کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کا مطالعہ کیا۔ اور تادم مرگ اُس کا مداح رہا۔ آگرہ میں پہنچ کر فینڈر نے دیکھاکہ جو بیج اُس نے بویا تھا وہ بے پھل نہیں رہا۔ اہل اسلام مسیحی کتب مقدسہ کا مطالعہ کرتے تھے۔ دو مسلمان رئیس مسیحیت کے حلقہ بگوش ہو گئے۔ اُس کی کتاب میزان الحق دُوردُور پہنچ گئی تھی۔
 
پشاور کے میجر مارٹن نے فینڈر کو لکھا کہ یہاں ایک ایرانی ہے جو بپتسمہ پانا چاہتا ہے۔یہہے۔ یہ ایرانی تہران کے ایک تاجر کا بیٹا تھا۔ ایک آرمینی نے اُس کو ایران میں میزان الحق دی تھی۔ یہ ایرانی نوجوان مذہبی کتب پڑھنے کا شوقین تھا۔ اُس نے پشاور میں کرنیل ویلیہ (Col. Whelle) کو بازاری منادی کرتے سنا تھا۔ وہ میزان الحق پڑھ کر دوسال تک مسیحیت و اسلام کے عقائد کا موازانہ کرتا رہا اور بلاآخر مسیحی ہو گیا۔
 
ایسٹر 1857ء میں آگرہ میں فینڈر کا معرکتہ آلار مباحثہ علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔ فرنچ اس کا مددگار تھا۔ فینڈر اس مباحثہ کی بابت لکھتا ہے:
"یہاں کے (آگرہ) کے علمائے اسلام دہلی کےعلماءکے علماء کے ساتھ مل کر گذشتہ دوتین سال سے کتابِ مقدس کا اورہماری کتابوں کا اور مغربی علما کی تنقیدی کتُب اورتفاسیر کا مطالعہ کر رہے تھے تاکہ وہ کتاب مقدس کو غلط اورباطل ثابت کرسکیں۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ دہلی کے عالم [[رحمت اللہ کیرانوی|مولوی رحمت اللہ]] اور دیگر علما نے کتابِ استفسار، ازالہ الاوہام، اعجاز عیسوی وغیرہ کتب لکھیں۔"
 
"جنوری 1854ء میں جب میں یہاں نہیں تھا تو مولوی رحمت اللہ آگرہ آیا تاکہ اپنے احباب کے ساتھ اُن کتب کو چھپوانے کا انتظام کرے اس اثناء میں وہ مذہبی گفتگو کے لیے فرنچ کے پاس چند دفعہ آیا اور مجھے نہ پاکر افسوس ظاہر کیا۔ جب میں آیا تو اُس نے اپنے ایک دوست کی معرفت مباحثہ کے لیے کہلوا بھیجا اگرچہ میں جانتا تھا کہ مباحثوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا پھر بھی میں نے مباحثہ کا چلینج منظور کر لیا مباحثہ کی شرائط طے پائیں کہ مولوی رحمت اللہ اہل اسلام کی طرف سے ڈاکٹر وزیر خان کی مدد کے ساتھ مباحثہ کرے اور مسیحیوں کی طرف سے میں مسٹر فرنچ کی طرف سے مباحثہ کروں۔ مضمون زیربحث یہ قرار پائے (1)مسیحی کتُب مقدسہ میں تحریف واقع ہوئی ہے اور وہ منسوخ ہوچکی ہیں(2) الوہیتِ مسیح اوتثلیث (3) رسالتِ محمدی:"
 
"بحث دودن تک رہی۔ پہلے روز تقریباً ایک سو مسلمان علما مولوی رحمت اللہ کی مدد کےلیےکے لیے جمع تھے۔ دوُسرے روز اُن کی اس سے دُگنی تعداد تھی۔ دوسری صبح پہلی تقریر میری تھی۔ میں نے کہا کہ قرآن انجیل کا مصدق ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیاکہ قرآن مروجہ انجیل کا مصدق نہیں کیونکہ وہ مُحرف ہے میں نے کہا کہ اچھا تم اُس انجیل کو پیش کرو جو غیر محرف ہے اور جس کا قرآن مصدق ہے اور یہ بتاؤ کہ تحریف کب اور کہاں واقع ہوئی۔ مولوی رحمت اللہ سے اس کا جواب بن نہ آیا اورکہنے لگے کہ مغربی علما مثلا ہارن (Horne) مکائلس (Michaelis) وغیرہ خیال کرتے ہیں کہ اناجیل میں اختلاف قرات موجو دہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انجیل محرف ہے۔میںہے۔ میں نے جواب دیا کہ اختلافِ قرات سے تحریف لازم نہیں آتی۔ اس کا جواب مولوی صاحب نہ دے سکے میں نے کہا کہ دو باتوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو یا اس کا امر کا اقرار کرو کہ انجیلی عبارت مصون و محفوظ ہے اور جب الوہیتِ مسیح اور تثلیث پر بحث ہو تو ہمارے عقائد کی تائید میں اُس کی عبارت کو مانو اور یا اگلے روز ثبوت پیش کرو جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ہماری مروجہ انجیل کے الفاظ احکام اور عقائد انجیل کے اُن نسخوں سے مختلف ہیں جو زمانہ محمد سے پہلے موجود تھے۔ مولوی صاحب نے دونوں باتوں سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے انکار کا یہ مطلب ہے کہ ہم مباحثہ جاری نہ رکھیں۔ مولوی صاحب نے بحث ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور جلسہ برخاست ہو گیا۔ اس پر اہل اسلام نے شور مچایا کہ اُن کی فتح ہو گئی ہے۔ لیکن مجھے یقین واثق ہے کہ گو جاہل مسلمان اپنی کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے اس مباحثہ میں اپنی فتح تصور کرینگے لیکن خدا اپنے طریقہ سے بہت لوگوں کو راہِ ہدایت پر لائيگا۔"
 
فینڈر کا یہ مباحثہ کامیاب رہا تھا۔ اس کی ایک تصنیف کے مطابق اُن علما اسلام میں سے جو مولوی رحمت اللہ کے حامی تھے دو علما اس مباحثہ کے چند سال بعد مسیحی ہو گئے یعنی ایک [[صفدر علی|مولوی صفدر علی]] اور دوسرا [[عماد الدین لاہز|مولوی عماد الدین]]۔
فینڈر کے مباحثہ نے شمالی ہند کے کونے کونے میں ہلچل مچادی۔ اُس کی کتاب میزان الحق کو پڑھ کر اُن لوگوں کے دل جو تحقیق حق میں سرگرداں تھے اسلامی تعلیم سے بدظن ہو گئے اور متعدد مسلمان مسیحی ہو گئے۔ اُن میں سید ولائت علی خاص آگرہ تاج گنج بستی کے تھے جو 1857ء میں دہلی میں ایامِ فساد میں قتل کردیے گئے۔
 
فرنچ فینڈر کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے "گو مرحوم ڈاکٹر فینڈر بزرگ ہنری مارٹن کا سا دماغ اور لیاقت نہیں رکھتے تھے تاہم میدان مباحثہ میں یکتا تھے وہ اپنے ہمعصر مشنریوں میں جو اہل اسلام میں کام کرتے تھے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے مرحوم خود وفات پایا گیاہے۔ لیکن اُس کا کام زندہ ہے اور کلیسیا کے لیے ایک غیر فانی وراثت چھوڑ گیا ہے۔ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے اُس کے آگے زانوئے شاگردی تہ کیا ہواہے۔ فینڈر کی یاد میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ فینڈر اور ڈف دوشخص ہیں جن کے کام نے مشنریوں کوسب سے زیادہ متاثر کیاہے۔خداکیاہے۔ خدا کرے کہ ہمارے مشنری قلم کے زور کے اثر کو محسوس کرکے اُس کام کو جاری رکھیں جو فینڈر نے شروع کیا ہے" سر ولیم میور نے 1854ء میں اس بابت لکھا کہ "اہل اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے والوں میں وہ لائق ترین شخص ہے"۔
 
آگرہ کی کلیسیا میں 1848ء میں فینڈر نے ایک پنچایت قائم کی یہ شمالی ہند میں موجودہ زمانہ کی طرز کی پہلی پنچائت تھی۔ فینڈر لکھتا ہے کہ "کلیسیا کے قیام کے لیے اور اپنی مدد کے لیے میں نے ایک پنچائت قائم کی ہے۔ پنچائت کے شرکاء کوک لیسیا منتخب کرتی ہے۔ پنچائت کے ارکان چرچ وارڈن کا کام بھی کرتے ہیں۔ اور تادیبی اُمور کو سر انجام دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص بپتسمہ چاہتاہے تو بپتسمہ دینے سے پہلے پنچائت کی صلاح لی جاتی ہے۔ گذشتہ دوسال سے جماعت کہ شرکاء باقاعدہ چندہ دیتے ہیں جس کا انتظام پنچائت کے ہاتھوں میں ہے"۔
"قسیس ڈاکٹر فینڈر صاحب۔ آپ کی مرسلہ کتابیں بغیر پڑھیں واپس کر رہا ہوں۔ خدائے اکبر نے ہم کو صراط مستقیم پر چلایا ہے اور ہمارا علمِ عقل اور مکاشفہ اندرونی اور بیرونی ثبوت پر قائم ہے۔ پس ہمیں گمراہ لوگوں کی جھوٹی کتابوں سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف میں وارد ہے کہ اُن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اوراُن کی آنکھوں پر پردہ چھاگیا ہے۔ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے"۔
 
پشاور میں ڈاکٹر فینڈر نے ایک اورکتاب تصنیف کی جس میں آگرہ اوردہلی کے علمائے اسلام کے اعتراضات کے مفصل جوابات تھے۔ مئی 1857ء کے بے امنی اور فساد کے ایام میں بعض احباب نے ڈاکٹر فینڈر کو یہ صلاح دی کہ وہ پشاور شہر میں برسرِ بازار تبلیغ کرنا چند ماہ کےلیےکے لیے بند کر دے تاکہ اُس کا جان ومال محفوظ رہے۔ اُس نے جواب دیاکہ وہ صرف مسیحی مذہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرے گا۔ چنانچہ اُن ایام میں اُس نے صرف دویا تین روز بازاری تبلیغ بند کی ورنہ وہ ہر روز برسرِ بازار اپنے دین کا پیغام لوگوں کو سناتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ خدا نے یہ ہولناک دن برطانوی گورنمنٹ پر اس لیے بھیجے کیونکہ وہ ہندوستان میں بُت پرستی کی معاون اور مسیحیت کی مددگار ہونے سے خائف رہی ہے۔
 
سر ہربرٹ ایڈورڈز نے ڈاکٹر فینڈر کی نسبت کہا "کون شخص ہے جس نے فینڈر کے پُرمحبت چہرہ کوایک دفعہ دیکھا ہو اوراُس کو دیکھ کر متاثر نہ ہوا ہو؟ خدا نے اُس کو مشنری ہونے کے لیے خاص لیاقت عطا فرمائی تھی۔ اُس کا دماغ بڑا زبردست تھا اورساتھ ہی وہ شیر دل واقع ہوا تھا۔ وہ ایک زندہ دل ،جفاکش اورمحنتی انسان تھا۔ اُس کو ایشیائی ممالک کے لوگوں کا تجربہ حاصل تھا۔ اورہندوستان بھر میں علمائے اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے میں وہ لاثانی تھا۔ وہ مسیحیت اورمسیحی عقائد کو ایشیائی نکتہ خیال سے لوگوں کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اُس کی کتابوں میں یورپین علما کے خیالات نظر تک نہیں آتے۔ خوش مزاجی اُس کے چہرے سے ٹپکتی تھی اور کوئی شخص اُس کے ساتھ دیر تک خفا نہیں رہ سکتا تھا"۔
1858ء میں چرچ مشنری سوسائٹی نے ڈاکٹر فینڈر کو قسطنطنیہ بھیجا۔ وہاں کے لوگوں نے اُس کی کتاب میزان الحق کے فارسی ترجمہ کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو اُس کو معلوم ہواکہ اُس کی کتاب کا جواب تیار ہو رہا ہے۔ قسطنطنیہ میں کُتبِ مقدسہ اور دیگر مذہبی کتابیں اُس جگہ فروخت کی جاتی تھیں جہاں [[یوحنا کریسوستوم|مقدس کرسسٹم]] نے کلیسیا کی ابتدائی صدیوں میں وعظ منادی کی تھی۔ اور جو اب مسجد بنادی گئی تھی۔ ایک روز ایک لخت بغیر کسی اطلاع کے سلطانِ ترکی کے حکم سے ترکی مسیحی قید کردیے گئے۔ مسیحی کتب مقدسہ ضبط کی گئیں اور مسیحیوں کی عبادت گاہوں اوردُکانوں پر جہاں ان کتب کی فروخت ہوتی تھی قفل لگادیے گئے۔ تُرکی گورنمنٹ نے ذیل کے احکام صادر کردیے:
 
"ترکی گورنمنٹ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ اسلام پر کسی طرح کا حملہ برسرِ بازار یا علانیہ کیا جائے۔ وہ مشنریوں کو یا اُن کے کارندوں کو اسلام کے خلاف منادی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اسدیتی۔ اس طرح کی کوشش ترکی گورنمنٹ کی نظر میں قومی مذہب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وہ کسی مباحثہ کی کتاب کو برسرِ بازار یا علانیہ طور پر تقسیم کرنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتی"۔ برطانوی سفیر نے ان احکام پر رضامندی ظاہر کردی۔ گو بعد میں بصد مشکل دکانیں کھلوائی گئیں لیکن اپنی جان کے ڈر کے مارے کوئی شخص اُن دُکانوں کے نزدیک نہیں پھٹکتا تھا۔ لیکن ان حالات میں بھی ڈاکٹر فینڈ اپنا کام برابر کرتا رہا۔ قسطنطنیہ میں اُس کی بیوی کی حالت نہایت خراب ہو گئی اور وہ 1865ء میں اپنے بیوی بچوں کو انگلستان چھوڑنے چلا گیا۔
 
== وفات ==
#طریق الحیات میں گناہ اورکفارہ پر مفصل بحث کی گئی ہے۔
#مفتاح الاسرار میں الوہیتِ مسیح اور مسئلہ تثلیث پر زبردست بحث کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں مولوی محمد ہادی نے جو لکھنؤ کے عالم تھے ایک رسالہ کشف الاستار لکھا جس کے جواب الجواب میں فینڈر صاحب نے 1847ء میں حل الاشکال کوتصنیف کیا جو 1884ء میں لدھیانہ سے شائع ہوئی۔
#مراسلات۔ اس رسالہ میں وہ خطوط درج ہیں جو فینڈر اور مولوی سید آل حسن نے ایک دوسرے کو ایک تحریری مناظرہ کے دوران میں 1844ء اور 1845ء میں لکھے تھے۔مراسلاتتھے۔ مراسلات میں مناظرہ کے مضامین یہ تھے: تحریف بائبل، الوہیت مسیح اور تثلیث، رسالتِ محمدی۔ یہ مراسلات حل الاشکال کے ساتھ شائع کیے گئے۔
#اختتام دینی مباحثہ۔ اس میں فینڈر نے آگرہ کے مباحثہ کے مضامین کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس کے آخر میں ضمیمہ کے طورپر دوخط ہیں جواُس نے مولوی رحمت اللہ کو اور ڈاکٹر وزیر خان کو 1854ء میں اُن کی کتاب" رسالہ مباحثہ مذہبی" کے جواب میں لکھے تھے۔ یہ کتاب 1855ء میں سکندرہ میں چھپی۔