"کارگل جنگ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← وزیر اعظم، کیے، سے، سے، امریکا، کر لیا، تنازع، دیے، کی بجائے، صورت حال)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
}}
 
'''کارگل جنگ''' کنٹرول لائن پر ہونے والی ایک محدود جنگ تھی جو [[پاکستان]] اور [[ہندوستان]] کے درمیان [[1999ء]] میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں واضح کامیابی کسی ملک کو نہ مل سکی۔لیکنسکی۔ لیکن پاکستانی فوج نے بھارت کے تین لڑاکا جہاز مار گرے اس کے علاوہ بھارتی فوج کارگل سیکٹر میں توازن کھو بیٹھی اور 700 سے زائد فوجی ہلاک کر دیے اس جنگ میں بھارت کو برا جٹکا لگا لیکن بعد میں دونوں فریقین جنگ بندی کا علان کیا
 
== کارگل کا جغرافیہ ==
لداخ اور سری نگر کا واحد زمینی راستہ یہاں سے گزرتا ہے۔ سیاح چین پر موجود بھارتی افواج کی کمک و رسد کے لیے کارگل کا راستہ ہی بہتر راستہ ہے۔ کارگل تا سیاچن تک کا راستہ سال کے دس مہینوں تک برف کی قید میں رہتا ہے اور صرف دو ماہ کے لیے یہ شاہراہ سیاچن کے برف پوش پہاڑوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔بھارتہے۔ بھارت کو انہی مہینوں میں فوجی چیک پوسٹس اور فوجی یونٹوں میں کام کرنے والے بھارتی لشکر کی خوراک اور دیگر ضروریات کو سیاچن کی چوٹیوں تک لیجانے کا ٹاسک پورا کرنا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں پہاڑیاں اور سیاچن پاکستانی ملکیت تھے جہاں بعد ازاں بھارتی فورسز نے قبضہ جمالیا تھا۔<ref name="اردو نیوز">[http://urdunews.net/details.asp?nid=300094 اردو نیوز]</ref>
 
== حقائق ==
 
=== واجپائی کا بیان ===
ایک بار اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم [[اٹل بہاری واجپائی|واجپائی]] پاکستانی دورے پر آئے اور [[لاہور]] میں انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم [[نواز شریف]] سے گلہ کیا کہ ہم آپکی میزبانی سے مستفید ہو رہے ہیں مگر آپ کی فوج نے کارگل پر قبضہ کرلیاہے۔ وزیر اعظم کی صدارت میں27 مئی 1998 کو پاکستان میں ہنگامی دفاعی اجلاس منعقد ہوا جس میں بحری، بری اور فضائی افواج کے سربراہان شامل تھے۔ بری اور فضائی سربراہان نے نواز شریف کو بتایا کہ ہمیں اس مہم جوئی کی بھنک تک معلوم ہے۔ <ref>[http://www.khabrain.net/frmNewsDetail.aspx?KBR_ID=6600&Cat=CAT-002 روزنامہ خبریں]</ref>
 
== نواز شریف کا بیان ==
اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم اور [[پاکستان مسلم لیگ ن|مسلم لیگ (ن)]] کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ کارگل جنگ کے ذمہ دار پرویز مشرف تھے، سیاسی خلاء ہمیشہ آمریت کے دور میں پیدا ہوتا ہے۔بھارتیہے۔ بھارتی میگزین [[تہلکہ]] کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کارگل جنگ کے ذمہ دار تھے۔ جب ان سے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد پاکستان میں سیاسی خلاء پیدا ہو جائے گا تو اس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ سیاسی خلاء ہمیشہ آمریت کے دور میں پیدا ہوتا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان امن عمل جاری رہنا چائیے، انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرے اور حل ایسا ہونا چائیے جسے خطے کے عوام قبول کریں۔ <ref name="اردو نیوز"/>
 
=== بھارتی جنرل کش پال کا اعتراف ===
 
=== بھارتی فوجی ٹریبونل کا کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھنے کا حکم ===
بھارت میں ایک فوجی ٹریبونل نے حکم دیا ہے کہ 1999 میں وقوع پزیر ہونے والی کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے۔ فوجی ٹریبونل نے یہ حکم اس انکشاف کے بعد دیا کہ کارگل جنگ میں [[باٹالیک]] سیکٹرمیں تعینات بریگیڈیر دیوندر سنگھ کی جنگ کی رپورٹس کو لیفٹیننٹ جنرل کشن پال نے تبدیل کر دیا تھا جس کے یہ رپورٹ فوجی تاریخ کا حصہ بن گئی۔بھارتیگئی۔ بھارتی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیر دیوندر سنگھ نے کہا کہ کارگل پر ان کی رپورٹ کو ان کے سینئر افسران نے غیر حقیقی قرار دے کر اس میں تبدیلیاں کی تھیں۔تاہمتھیں۔ تاہم گیارہ سال بعد فوجی ٹریبونل نے ان کی اصل رپورٹ کی حمایت کی۔ <ref>[http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=89461 روزنامہ جنگ]</ref>
 
=== پرویز مشرف کا متنازع کردار ===
سابق پاکستانی جنرل و صدر [[پرویز مشرف]] کا کردار کارگل جنگ کے حوالے سے منتازعہ رہا ہے۔ پرویز مشرف نے بھارت کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کارگل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے سبب ہی کشمیر کے مسئلے پر بھارت پاکستان سے مذاکرات کے لیے رضامند ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے نئی دہلی کے روئیے میں تبدیلی آئی تھی اور وہ مذاکرات کے ذریعے [[کشمیر]] کے تنازعے کے حل کے لیے تیار ہوا تھا۔ <ref>[http://web.archive.org/web/20120206010617/http://www.voanews.com/urdu/news/musharraf-kargil-24july2009-51572872.html وائس آف امریکا]</ref>
 
بھارتی فوج کے سابق سربراہ [[وی پی ملک]] نے کہا کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کارگل جنگ کے بارے میں جھوٹ بولا۔ انھوں نے کہا کہ کارگل جنگ کے بارے میں پرویز مشرف نے مسلسل اپنے بیانات تبدیل کیے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مشرف نے کہا تھا کہ کارگل میں فوج کی بجائے مجاہدین لڑ رہے ہیں، اس کے بعد مشرف نے تسلیم کیا کہ کارگل جنگ فوج نے لڑی۔ کارگل کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے کے پرویز مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کارگل میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کو پاکستان نے تسلیم نہیں کیا اور ان کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ [http://www.urdupoint.com/muusharraf_in_sprim_cort/News43-10-99-103680.html اردو پوائنٹ]