"ریاست بھوپال" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
{{Infobox former country
|conventional_long_name = بھوپال<br/>Bhopal
|name = بھوپال<br/>Bhopal
|common_name = Bhopal
|continent = Asia
|empire = British Indian Empire
|government_type = بادشاہت
|year_start = 1723<ref>{{cite book | title=Merriam Webster's Geographical Dictionary, Third Edition | url=http://books.google.com/books?id=Co_VIPIJerIC&pg=PA141 | accessdate=10 May 2013 | year=1997 | publisher=Merriam-Webster | isbn=978-0-87779-546-9 | page=141 }}</ref>
|date_end = 1 جون
|year_end = 1949
|capital = [[بھوپال]]<br/>[[اسلام نگر, بھوپال|اسلام نگر]] (ایک مختصر مدت کے لیے)
|latd= |latm= |latNS= |longd= |longm= |longEW=
|national_motto = نصر من اللہ<ref>{{cite book | title = The golden book of India | author = Roper Lethbridge| authorlink = Roper Lethbridge | publisher = Aakar | edition = illustrated | year = 2005 | isbn = 978-81-87879-54-1 | page = 79 }}</ref>
|common_languages = [[فارسی زبان|فارسی]] (سرکاری), [[اردو-ہندی|ہندوستانی]]
|religion = [[اسلام]] اور [[ہندومت]]
 
== ہندوستان کی ازادی کے بعد ==
[[بھارت]] کے 15 اگست [[1947ء]] کو آزادی حاصل کرنے کے بعد، بھوپال الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے والی آخری ریاستوں میں سے ایک تھی۔ آخری نواب حمید اللہ خان نے مارچ 1948 میں ریاست بھوپال کو ایک علاحدہ اکائی کے طور پر برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نواب کے خلاف احتجای تحریک دسمبر [[1948ء]] میں ہوئی اور شنکر دیال شرما سمیت اہم رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ بعد ازاں سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور نواب بھوپال نے 30 اپریل [[1949ء]] کو انضمام کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے۔<ref name="SRBakshi_OPRalhan_2007">{{cite book | title = Madhya Pradesh Through the Ages | author = S. R. Bakshi and O. P. Ralhan | publisher = Sarup & Sons | year = 2007 | isbn = 978-81-7625-806-7 | page = 360 }}</ref>
 
نواب حمید اللہ خان کی سب سے بڑی بیٹی اور ممکنہ وارث [[پرنسز عابدہ سلطان|عابدہ سلطان]] نے تخت پر ان کا حق چھوڑ دیا اور [[1950ء]] میں [[پاکستان]] ہجرت کر گئیں۔ انہوں نے [[پاکستان]] کے محکمہ خارجہ میں بھی خدمات انجام دیں۔
 
لہذا، [[بھارت]] کی حکومت نے انہیں جانشینی سے خارج کر دیا گیا اور اس کی چھوٹی بہن بیگم ساجدہ سلطان کو خطاب عطا کر دیا۔ [[1995ء]] میں بیگم ساجدہ کے انتقال پر، خطاب ان کی سب سے بڑی بیٹی نوابزادی صالحہ سلطان بیگم کوعطا کر دیا گیا۔<ref>{{cite web | url = http://members.iinet.net.au/~royalty/ips/b/bhopal.html | title = Bhopal (Princely State) | accessdate = 2012-12-05 | publisher = World of Royalty | author = Henry Soszynski | date = 8 March 2012 }}</ref>
 
== تصاویر ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
{{ہندوستان کی نوابی ریاستیں}}
 
[[زمرہ:ہندوستان میں 1723ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:پشتون شاہی سلاسل]]
[[زمرہ:ریاست بھوپال]]
[[زمرہ:مدھیہ پردیش کی نوابی ریاستیں]]
[[زمرہ:ایشیاء کی سابقہ بادشاہتیں]]
[[زمرہ:پشتون شاہی سلاسل]]
[[زمرہ:تاریخ بھوپال]]
[[زمرہ:جنوبی ایشیا کے سابقہ ممالک]]
[[زمرہ:سابقہ زیر حمایت ریاستیں]]
[[زمرہ:مدھیہ پردیش کی نوابی ریاستیں]]
[[زمرہ:ہندستان کی مسلم نوابی ریاستیں|بھوپال]]
[[زمرہ:ہندستان کی نوابی ریاستیں|بھوپال]]
[[زمرہ:تاریخہندوستان بھوپالمیں 1723ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:ہندستان کی مسلم نوابی ریاستیں|بھوپال]]