"سب رس" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کی بجائے، سے، سے)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
== سنگ میل ==
 
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکا رہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔تھا۔ جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
 
== اسلوب ==
== نثر میں شاعری ==
 
سب رس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا غزل کے مصرعوں کی نثر بنادی گئی ہو اور اصل کتاب دیکھیں تو اس میں مقفی اور مسجع عبارت کی بنا پر شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اردو نثر میں اگر رنگین نگاری کا سراغ لگانا مقصود ہو تو نیاز فتح پوری اور یلدرم کی بجائے ملاوجہی تک جانا ہوگا ۔ہوگا۔ مثال کے طور پر:
 
” قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی۔ خدا بڑا، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک، ماں نہ باپ “
== مجموعی جائزہ ==
 
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ اردو نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو طے کیا ہے۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے ۔ہے۔ اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش ہے مگر بہترین کوشش ہے۔
 
[[زمرہ:اسالیب نثر]]