"قصور" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا ازالہ ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
قصورکا[[گنڈا سنگھ والا]]بارڈر مشہور ہے یہ انڈیا اور پاکستان کے بارڈر کو ملاتا ہے ،اس کا تقسیم [[ہند]] سے قبل قصور کے مضافاتی قصبات میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں پر[[پاکستان]] اور[[بھارت]] کی مشترکہ پرچم کشائی کی تقاریب ہوتیں ہیں،جب کہ اس بارڈر کے دوسری طرف بھارت کا شہر[[فیروزپور]]ہے اسی طرح ۱۹۶۵ء کی پاک [[بھارت]] جنگ میں فتح ہونے والابھارتی شہر [[کھیم کرن]] بھی ہے یہاں پر ایک بڑی ٹینکوں کی جنگ کے مقام کی وجہ سے ٹینکوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔
 
[[قصور جنکشن ریلوے اسٹیشن]] شہر کے [[شمال]] [[مغرب]] میں واقع ہے۔ تقسیم[[ہند]] سے پہلے قصور بذریعہ [[ریل]] [[امرتسر]]،[[فیروزپور]]سے ملا ہوا تھا مگر اب یہ [[ریلوے]]لائن ختم کر دی گئی ہے اور اس کازیادہ تعلق بذریعہ [[سڑک]] اور [[ریل]] لاہور شہر سے قائم ہے، یہاں کی زیادہ تر نقل و حمل حمل اور [[تجارت]] [[لاہور]]ہی سے منسلک ہے، لاہور سے [[کراچی]] جانے والے ریلوے ٹریک پر [[رائے ونڈ جنکشن ریلوے اسٹیشن]] سے قصور کے لیے ایک [[ریلوے لائن]]علحیدہ ہوتی ہے جو قصور شہر سے گزرتی ہوئی براستہ [[کھڈیاں خاص]] اور[[کنگن پور]] [[ضلع قصور]] سے نکل کر [[لودھراں]] جا پہنچتی ہے ،جبکہ 1910ء میں قصورسے [[لودھراں]] تک ریلوے ٹریک مکمل ہوا ۔ہوا۔ اس کے علاوہ 1883 ءمیں [[رائے ونڈ]] سے [[گنڈا سنگھ والا]]تک ریلوے لائن بچھائی گئی ۔گئی۔ قصورشہر کے مشرقی حصے سے [[فیروزپور]]روڈ گزرتی ہے جو[[لاہور]]سے شروع ہو کر براستہ [[گنڈا سنگھ والا]] [[فیروزپور]]تک جاتی ہے ،تقسیم[[ہند]] کے بعد یہ سڑک بین الاقوامی پاک [[بھارت]] سرحد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، یہ شاہراہ قصور شہر سے لاہور تک تقریباً 55 [[کلومیٹر]]اور بھارتی شہر [[فیروزپور]] تک 25 کلومیٹر ہے ۔
 
قصور کا[[عجائب گھر]] [[فیروزپور]]روڈ پر [[ضلعی کمپلیکس]] کے سامنے واقع ہے،جس کا قیام 1999ء میں عمل میں آیا،[[قصور عجائب گھر]] میں تاریخ کے مختلف ادوار اور ثقافت کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں، اس میں [[آثار قدیمہ]] کے متعلق [[چکوال]] سے دریافت شدہ پرانے درختوں اور ہڈیوں کے نمونے رکھے گئے ہیں ،جن کی عمر کا اندازہ 88 لاکھ سے ایک کروڑ سال تک کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ [[ہڑپہ]] اور [[چکوال]] کے دیگر تاریخی مقامات کی کھدائیوں سے ملنے والے پکی مٹی کے برتن، ٹھیکریاں، انسانی و حیوانی مورتیاں، اوزان کے پیمانے اور باٹ کے علاوہ [[گندھارا]] عہد کے متعلق بدھا اور [[ہندو]] دیوتاؤں کے مجسمے بھی رکھے گئے ہیں۔