"فرسان الہیکل" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
ہیکل سلیمانی کی تعمیر [[داؤد علیہ السلام|حضرت داؤد علیہ السلام]] کے دور میں شروع ہوئی اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے [[سليمان علیہ السلام|حضرت سلیمان علیہ السلام]] کے دور میں بھی جاری رہی۔
 
آخرکار [[ہیکل سلیمانی]] کو گرا دیا گیا اور اسی جگہ پر [[یہودی]] بادشاہ [[ہرودس اول|ہرودس]] نے نئی [[عبادت گاہ]] تعمیر کی۔ ۷۰ء70ء میں [[رومی سلطنت|سلطنت روم]] نے اس دوسری [[ہیکل سلیمانی]] کو بھی گرا دیا۔ [[اطالیہ|رومیوں]] نے [[یہودی|یہودیوں]] کے خلاف ایک بڑا حملہ شروع کیا اور انھیں اس خطے سے نکال دیا۔
 
== فرسانیوں کی آمد ==
 
[[ملففائل:Templar Flag 6.svg|leftبائیں|upright|thumbتصغیر|فرسان الهيكل کا ایک جھنڈا]]
ہزاروں سال آئے اور چلے گئے، لیکن آج بھی [[مسجد اقصٰی|مسجد القصہ]] ویاں کھڑی ہے، جہاں کبھی [[ہیکل سلیمانی]] ہوا کرتا تھا۔ یہ علاقہ آج بھی گہرے یہودی راز سمیٹے ہوئے ہے۔ جب فرسانیوں نے، اس چوٹی پر رہنا شروع کیا، جہاں کبھی [[ہیکل سلیمانی]] ہوا کرتا تھا، تو اس کے ان پر گہرے اثرات مرتب یوئے اور انھوں نے اس کا جاننا
شروع کر دیا۔ ان تحقیقات نے انھیں ان [[باقیات]] تک پہنچادیا، جن میں کچھہ خفیہ روایات کے اثرات تھے اور یہ [[قدیم یہودی قوم|قدیم یہودیوں]] کے عقائد تھے۔
اپنی کتاب [[''مورل اینڈ دوگما'']] میں [[گریند ماسٹر البرٹ پائک]]، جو [[فریمیسنری]] میں ایک مشہور نام ہے، فرسانیوں کے صحیح مقاصد بیان کرتے ہیں:
 
”'''فرسانیوں کا ظاہری مقصد ان [[مسیحی|مسیحیوں]] کی حفاظت کرنا تھا، جو [[مقدس مقامات]] کی زیارت کے لیے آتے تھے، خفیہ مقصد [[ہیکل سلیمانی]] کی دوبارہ تعمیر تھا'''<ref>البرٹ پائک، مورل اینڈ دوگما، دی روبرٹ پبلیشر کمپنی، واچھنگٹن، ۱۸۷۱،1871، ص-۸۴84</ref>
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
<references/>
 
[[زمرہ:ایشیا میں 1119ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:1312ء کی تحلیلات]]
[[زمرہ:ایشیا میں 1119ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:بارہویں صدی میں مسیحیت]]
[[زمرہ:تاریخ بیت المقدس]]
[[زمرہ:1119ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:عالمی یہودی تنظیمیں]]
[[زمرہ:یہودی تنظیمیں]]
[[زمرہ:تنظیمیں]]
[[زمرہ:خفیہ تنظیمیں]]
[[زمرہ:عالمی یہودی تنظیمیں]]
[[زمرہ:یہودی تنظیمیں]]
[[زمرہ:یہودی و مسیحی مشترکہ تنظیمیں]]
[[زمرہ:بارہویں صدی میں مسیحیت]]