"موت" کے نسخوں کے درمیان فرق

7 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
* اسی موضوع پر مقالہ دیکھیے بنام موت۔
[[تصویرفائل:Animated flower.GIF|leftبائیں|100px|thumbتصغیر|ایک پودے کے ذریعے زندگی سے موت کی جانب تشبہ کا عکس محرک [http://www.mtfoto.dk/malene]]]
کسی [[حیات|جاندار]] کے تمام تر [[حَيَوِی افعال]] کے خاتمے کو [[طب|طبی]] لحاظ سے '''موت''' کہا جاتا ہے۔ گویا عموما موت کے بارے میں یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ یہ {{ٹ}} [[حیات|زندگی]] {{ن}} کا ایک آخری مرحلہ ہے جو طبیعی یا حادثاتی طور پر حیات کو موقوف کردیتا ہے لیکن دراصل موت کی جانب سفر کا عمل زندگی کے آغاز کے ساتھ پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور اس بات کو جدید سائنسی تحقیق میں [[حیاتیات|حیاتیاتی]] اور طبی لحاظ سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے کہ تمام عمر انسان (اور تمام جانداروں) کے [[خلیہ|خلیات]] کے اندر ایسے کیمیائی تعملات جاری رہتے ہیں کہ جو آہستہ آہستہ موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اب تو طبیب اور سائنسداں یہاں تک جان چکے ہیں کہ زندگی کے لیے سب سے اہم ترین کیمیائی سالمے یعنی [[ڈی این اے|DNA]] میں موت کے لیے ایک طرح کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی شامل کی جاچکی ہے جو ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات گنتی رہتی ہے۔ (اس کے سائنسی ثبوت نیچے کسی بند میں ذکر کیے جائیں گے)
== موت کا عمل ==
مختصرا یوں کہ خلیات کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے [[کیمیائی عنصر|عناصر]] اور [[کیمیائی مرکب|مرکب]]ات کے ایک توازن کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ عناصر (جن میں چند؛ [[آکسیجن]]، [[نطرساز|نائٹروجن]]، [[فحم|کاربن]]، [[آبساز]] اور [[گندھک]] وغیرہ ہیں) جب تک خلیہ میں موجود [[آلہ|آلات]] کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں تو خلیہ کا استتباب بھی قائم رہتا ہے اور خلیہ کی جھلی کے اندر کی فضا یعنی خلیہ کے اندر اور بیرونی فضاء یعنی پلازمہ یا خون، کے درمیان مختلف کیمیائی عناصر اور مرکبات کا تبادلہ ضرورت کے تحت ہوتا رہتا ہے، جب تک یہ ہم آہنگی قائم رہتی ہے زندگی بھی اور جب [[جوہر|جوہروں]] اور عناصر کی یہ ترتیب بگڑ جائے تو خلیہ کی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی جاندار کی۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی [[حیاتی کیمیاء]] میں کبھی ایک شعر پڑھا تھا (شاعر پنڈت برج نارائن چکبست لکھنوی ہیں)، اس شعر کا اصل مقصد تو جو بھی ہو مگر اس شعر کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس قدر اچھے انداز میں آج کی جدید سائنس کے مطابق موت کی تشریح کی گئی ہے۔
<p align="center">
زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہور ترتیب <br />
موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا<br/>
چکبست لکھنوی
 
[[پستاندار]] (میمیلیا) جانداروں میں، لاش کے [[تَفکّک]] یعنی تعفن پیدا ہونے یا decomposition سے پہلے ایک اور عمل واقع ہوتا ہے جس کو [[صَمَل موت]] یعنی مرنے کے بعد جسم کا اکڑنا یا rigor mortis کہتے ہیں۔ لاش کے اس طرح اکڑ جانے کے عمل میں مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن میں [[ATP]] کا ناپید ہوتے چلے جانا اور [[حُماض لَبَنی]] (lactic acidosis) اہم ہیں (لبنی، دودھ کو کہتے ہیں اور حماض تیزابیت کو)۔ درج بالا دونوں کیمیائی عوامل کی وجہ سے [[عضلات]] (مسلز) بتدریج سخت ہوتے جاتے ہیں کیونکہ انکے [[ریشیچوں]] (fibrils) میں آزاد توانائی یا ATP باقی نہیں رہتا اور لبنی حماض کی وجہ سے پیدا شدہ تیزابیت ان کے عمومی کام کو روک دیتی ہے۔ عام طور پر صمل موت کا یہ عمل ہلاکت کے 2 تا 4 گھنٹے کے بعد شروع ہوتا ہے مگر مزید پہلے بھی واقع ہو سکتا ہے۔ 9 تا 12 گھنٹے بعد یا گرم آب و ہوا میں، یہ تبدیلی اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ صمل موت کا واقع ہونا، ماحول کے درجہ حرارت پر بھی منحصر ہوتا ہے اور موت سے پہلے اس جاندار کی عضلاتی حرکت کی نوعیت پر بھی۔
 
بعد از موت ایک اور تبدیلی [[ازرق موت]] (livor mortis) یعنی نیلے پن کا ظہور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ [[پس مرگ|موت کے بعد]] مختلف [[مصلی جھلی|مصلی جھلیوں]] سے [[ریشتحلیلہ|ریش تحلیلی]] ([[تحلیلہ|تحلیلی]] خامرے) نکلتے ہیں جو [[خون]] کو جمانے والے ایک [[لحمیات|لحمیہ یا پروٹین]] جس کو [[ریشیچہ گر]] (fibrinogen) کہا جاتا ہے کو تحلیل کر کے ختم کردیتے ہیں جس کی وجہ سے موت کے 30 تا 60 [[دقیقہ|منٹ]] بعد خون کے جمنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی اور یہ خون، [[ثقالت|کشش ثقل]] کی وجہ سے جسم کے نچلے حصوں میں جمع ہو کر[[جلد]] کی نیلگوں رنگت پیدا کر دیتا ہے، اسی وجہ سے اس کو ارزق موت کہا جاتا ہے کہ ارزق کے معنی نیلے کے ہوتے ہیں۔ یہ مظہر موت کے 2 گھنٹے بعد واضع دیکھا جاتا ہے اور 8 تا 12 گھنٹے تک اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔
=== وقت مرگ کا تعین کرنا ===
* [http://www.alcor.org/FAQs/ الکور آرگ کی انجمادیات کے بارے میں معلومات]
 
[[زمرہ:موت]]
[[زمرہ:بشری شماریات]]
[[زمرہ:حیات]]
[[زمرہ:حیاتیات]]
[[زمرہ:موت]]