"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

12 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
{{Infobox Former Country
|native_name = मौर्यसाम्राज्यम् ([[پراکرت]])
|conventional_long_name = سلطنتِ موریہ<br />Maurya Empire
|common_name = Maurya Empire<br/>Mauryan Empire
|continent = Asia
}}
 
[[ملففائل:Maurya Dynasty in 265 BCE.jpg|300px|leftبائیں|thumbتصغیر|'''[[سلطنت موريا]]'''، اشوک کے دور میں بام عروج پر۔]]
 
== پس منظر ==
تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند خاندان کا ناجائز فرد تھا جوکسی بنا پر راجہ کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب و سرحد کے غیر مطمعین قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیاChaknia or Koutlia کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔
جین مت کی روایتیں موریاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ موروں کے رکھوالے تھے۔ بدھ روایتیں کہتی ہیں کہ جب شاکیا کی شاخ موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ہے جہاں موروں کی بہتات تھی۔ وہاں انہوں نے ایک شہر بسایا اور چونکہ شہر کے محلات کی اینٹوں کا رنگ مور کی گردن جیسا تھا۔ اس لیے یہ لوگ مور کہلائے اور شہر کا نام موریا نگر مشہور ہوا۔ نندن گڑھ کے ستون سابچی کے سٹوپوں وغیرہ پر موروں کی تصویر کندہ ہیں۔ پاٹلی پتر میں موریا محل کے باغ مور پالے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل اس نتیجہ پر پہنچے کہ مور موریا خاندان کی قومی علامت تھا۔ یہاں تک جب گپتا دور میں مہا بھارت پر نظر ثانی کی گئی تو انہیں سنسکرت کا تلفظ میورا کا (یعنی مور قبیلہ) دے دیا گیا۔ (مور راکھا یعنی موروں کا رکھوالا) چندر گپت کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ نندا خاندان کا ناجائز لڑکا تھا اور اس کی ماں کے نام سے موریا خاندان کا نام پڑا۔
بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ یہ تمام روایات بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ تمام داستانیں فرضی ہیں ان میں زرہ پھر سچائی نہیں ہے موریا خاندان کا مور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مور ان کی خاندانی یا پسندیدہ علامت ہے۔ ستون پر کندہ اشوک کے شاہی فرمان نمبر ۵5 میں ان جانوروں اور پرندوں کی فہرست دی گئی جن کو مارنا منع ہے، لیکن ان میں مور شامل نہیں ہے۔ اشوک کی خوراک جو جانور شامل تھے ان میں کو بھی شامل تھا۔ یہ لوگ مور خور تھے نہ کہ مور کے محافظ۔ یہ کیسے ممکن ہے موروں کے رکھوالے کا بیٹا (چندر گپت) ایک ہزار میل دور ٹیکسلا جو شہزادوں کی عظیم درس گاہ تھی تعلیم پاتا تھا۔
یونانی تاریخیں میں کہیں بھی اس کی نشان دہی نہیں ہوتی ہے کہ موریاؤں کا تعلق نندا خاندان سے ہے۔ موریہ کون تھے؟ چانکیہ اس کے بارے میں اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں ایک لفظ نہیں کہتا ہے۔ پران موریہ حکمرانوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتی ہیں۔ ’مدرا راکش‘ سنسکرت کے ڈراما نگار وشاکھ دت نے موریاؤں کو انہیں شودر، ورشل اور کمینہ کہہ کر حقارت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے اور خود چندر گپتا کو کلاہن (مجہو الاصل) کہا ہے۔ جب کہ ’یوگ پران‘ نے انہیں بے دین بظاہر دین دار کہا ہے۔ وشنو پران کہتا ہے نندا کی نسل کے خاتمہ کے بعد موریا قابض ہوجائیں گے اور انہیں شودر کہا ہے۔ مارکنڈیا پران میں انہیں ہے اسور کہا گیا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس نفرت کا سبب کیا ہے۔ اس جانب ایک اشارہ ہے کہ معاشرے کے بارے میں بالعوم اور برہمنی رسوم کے بارے میں بالخصوص موریاؤں کا روئیہ ہے۔ موریاؤں نے تمام برہمنی رسومات ختم کر دیں۔ انہوں نے رسمی طور پر برہمنی مذہب کی مخالفت کی اور اس کے برعکس انہوں نے بیواؤں کی شادی کی حمایت کی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ موریا غیر ملکی تھے۔ اس لیے وہ برہمنوں کی بالا دستی کو نہیں مانتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے روایتی، سماجی مذہبی اور سیاسی نظریات کی مخالفت کرتے اور وہ ذات پات کو نہیں مانتے تھے۔
اور مزید ان کا کہنا ہے اس کی حقیقت وسط ایشیائی کلمہ ’مور‘ جس کے معنی تاج کہ ہے، یہ وہی کلمہ ہے جس کو موڈ بھی بولا جاتا یعنی وہ تاج جو دولہا شادی کہ موقع پہنتا ہے۔ کیوں وسط ایشا کہ لوگ کلمہ کو ڑ اور ڈ ساتھ بھی بھی بولتے ہیں، اس لیے اسے سنسکرت کو ’موڈ‘ سمجھا گیا، جس کے معنی مسرت اور خوشی کے ہیں۔ انہوں نے اس کلمہ پر تفصیلی بحث کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کڑٹس کہتا ہے سندھ میں پٹالا کے بادشاہوں نے بھی اس کلمہ کو اپنے ناموں کے ساتھ لگایا ہے اور یہ کلمہ وہی ہے جس کو یونانیوں نے موئز کہا ہے، یہ کلمہ وسطہ ایشیا میں بھی ایک قبیلہ کا نام تھا اور وہاں اب بھی موجود ہے اور اس کا نام بھی یہی ہے۔ موریا، خوتان ترکستان اور دیگر علاقوں کے علاوہ کشمیر کے بھی حکمران تھے۔ پاپا اول سے پہلے موریا راجستھان میں جتوڑ کے حکمران تھے، وہ خود مور راجہ کی لڑکی کا بیٹا تھا۔ اس طرح مہرت راجہ چتوڑ جس کا ذکر چچ نامہ میں ذکر ملتا ہے مور یا موری قبیلہ کی شاخ اور سندھ کے رائے ساسی کا رشتہ دار تھا۔ نیل گری کے پہاڑوں پر چند قدیم مجسموں کا حوالہ دیتے ہوئے فادر مٹز کہتا ہے کہ وہ موریا ری مان (موریا گھرانا کہلاتے تھے۔ وہ انہیں تار تار یا ازبک تسیلم کرتا ہے۔
موریہ دور میں مختلف جرائم کی مختلف سزائیں جن میں جرمانہ، قطع اعضاء، جلاوطنی، جائداد کی ضبطی اور قتل کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہلاک کرنے کے مختلف طریقہ رائج تھے۔ مثلاً پھانسی، قتل، پانی میں ڈبو دینا اور جلا دینا۔ مگر اشوک کے دور میں یہ سزئیں برقرار رہیں۔ البتہ اس نے سزائے موت کے مجرموں کو انتی رعایت ضرور دی تھی کہ ان سزا پر تین دن کے بعد عمل کیا جاتا تھا۔
== تعمیرات و سنگ تراشی ==
موریا دور میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دور میں کثرت سے عمارتیں بنیں۔ مگر وہ زیادہ تر لکڑی کی تھیں اس لیے امتداد زمانہ سے ناپید ہوگئیں۔ صرف اشوک کی چند عمارتوں کے کھنڈر باقی رہے گئے ہیں۔ مگر ان تعمیرات کے سلسلے میں دو غیر ملکی سیاحوں مگھستیز اور فاہیان کے بیانات بے حال ملتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے پاٹلی پٹر بہت ہی بارونق شہر تھا اور یہاں معتدد عالیشان عمارتیں اور قلعے تھے۔ مگھستیز کے بیان کے مطابق یہ شہر نو ۹9 میل لمبا اور ڈیرھ میل چوڑا تھا اور اس کے کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ 64 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو ۰۰۵005 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔
چینی سیاح فاہیان نے بھی اس شہر کو دیکھا۔ وہ بھی اس کی خوبصوری کا مداح تھا۔ اس کے عہد تک اشوک کا محل قائم تھا۔ وہ اس کے متعلق کہتا ہے کہ شاہی محلات اور ایوان شاہی شہر کے بیچوں بیچ قائم ہیں۔ اس کو ان طاقتوں (غیر بشری) نے تعمیر کرایا جو اشوک کا ملازم تھے۔ انہوں نے ہی اس کو پتھروں سے چنا تھا اور دیواریں اور دروازے کھڑے کیے تھے اور ایسی خوبصورت پچکاری کا کام تھا جو انسانی طاقت سے باہر تھا۔
فاہیان نے ان راہب خانوں اور اسٹوپوں کا بھی ذکر کیا جو اشوک نے اس شہر میں تعمیر کرائے تھے۔
اشوک کے عہد میں اس پر مزید کام ہوا اور بہت سی نالیاں تعمیر کیں گئیں۔ جس سے ارد گرد وسیع علاقہ کو پانی ملنے لگا۔
ترتیب معین انصاری
== ماخذ ==
* ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم
* بی ایس ڈاہیا۔ جاٹ
* وسینٹ اے سمتھ۔ قدیم تاریخ ہند
 
{| class="wikitable"
* [[مگدھ سلطنت]]
* [[تاریخ ہند]]
* [[چندرگپت موریا]]
== بیرونی روابط ==
* [http://www.allempires.com/article/index.php?q=mauryan_empire The Mauryan Empire] at [[All Empires]]
 
{{سلطنتیں}}
 
{{موضوعات بھارت}}
 
{{اترپردیش موضوعات}}
 
[[زمرہ:مگدھآہنی دور]]
[[زمرہ:افغانستان کی قدیم تاریخ]]
[[زمرہ:موریاایشیا سلطنتکے سابقہ ممالک]]
[[زمرہ:دوسریایشیاء صدیکی ق م کیسابقہ تحلیلاتبادشاہتیں]]
[[زمرہ:ہندوستانبھارت کی قدیم بادشاہتیںسلطنتیں اور مملکتیں]]
[[زمرہ:پاکستان کی قدیم تاریخ]]
[[زمرہ:مگدھ]]
[[زمرہ:تاریخ مغربی بنگال]]
[[زمرہ:تاریخ افغانستان]]
[[زمرہ:تاریخ بنگال]]
[[زمرہ:تاریخ مغربیبنگلہ بنگالدیش]]
[[زمرہ:تاریخ پاکستان]]
[[زمرہ:تاریخ بنگلہ دیشکولکتہ]]
[[زمرہ:ایشیاتاریخ کےمغربی سابقہ ممالکبنگال]]
[[زمرہ:بھارتتاریخ کی سلطنتیں اور مملکتیںہندوستان]]
[[زمرہ:چوتھی صدی قبل مسیح میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے]]
[[زمرہ:دوسری صدی ق م کی تحلیلات]]
[[زمرہ:سابقہ سلطنتیں]]
[[زمرہ:ایشیاء کی سابقہ بادشاہتیںمگدھ]]
[[زمرہ:آہنیموریا دورسلطنت]]
[[زمرہ:تاریخ ہندوستان]]
[[زمرہ:موریہ سلطنت]]
[[زمرہ:ہندوستان کی قدیم بادشاہتیں اور مملکتیں]]
[[زمرہ:تاریخ کولکتہ]]
[[زمرہ:چوتھی صدی قبل مسیح میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے]]
[[زمرہ:ہندوستان میں تیسری صدی قبل مسیح]]