"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے، علما)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
1854ء میں فینڈر اپنی بیوی کو جو انگلستان سے واپس آگئی تھی لانے کے لیے کلکتہ گیا۔ وہاں کلکتہ کے بشپ نے اس کا تقرر دوبارہ کر دیا کیونکہ اس سے پہلے اُس کا تقرر لوتھرن طریقہ پرہوا تھا۔ اوروہ واپس آگرہ آ گیا۔
 
جب چرچ مشنری سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیاکہ پشاور میں مشن قائم کیا جائے تو اُنہوں نے 1854ء میں فینڈر کو اورپادری رابرٹ کلارک (Robert Clark) کو وہاں بھیجا۔ ڈاکٹر فینڈر پشاور میں برسرِ بازار مسیحی کتب مقدسہ کی تعلیم دیتا اور مسیح مصلوب کی منادی کرتا تھا۔ ڈاکٹر فینڈر ہندوستانی واعظین کے ساتھ ہر شام کو بازاروں میں اور شارع عام پر اپنے مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ پشاور میں وہ تعلیم یافتہ اشخاص کے ساتھ اُردو اور فارسی میں کلام کرتا۔ افغانوں کے ساتھ پشتو میں اور مولوی صاحبان کے ساتھ عربی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ اُس کے علم ولیاقت کو دیکھ کر کسی مولوی کو مباحثہ کرنے کی جرات نہیں پڑتی تھی۔ فینڈر نے پشاور کے تمام علما کو میزان الحق بھیجی۔ بعض نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ بعض نے اُس کو ہاتھ لگانے سے انکار کر دیا۔ حافظ محمد عظیم نے عربی میں ذیل کا مکتوب بھیجا۔
"قسیس ڈاکٹر فینڈر صاحب۔ آپ کی مرسلہ کتابیں بغیر پڑھیں واپس کر رہا ہوں۔ خدائے اکبر نے ہم کو صراط مستقیم پر چلایا ہے اور ہمارا علمِ عقل اور مکاشفہ اندرونی اور بیرونی ثبوت پر قائم ہے۔ پس ہمیں گمراہ لوگوں کی جھوٹی کتابوں سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف میں وارد ہے کہ اُن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اوراُن کی آنکھوں پر پردہ چھاگیا ہے۔ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے"۔
 
== تصنیفات ==
فینڈر نے میزان الحق کے علاوہ ذیل کتب تصنیف کیں:
# طریق الحیات میں گناہ اورکفارہ پر مفصل بحث کی گئی ہے۔
# مفتاح الاسرار میں الوہیتِ مسیح اور مسئلہ تثلیث پر زبردست بحث کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں مولوی محمد ہادی نے جو لکھنؤ کے عالم تھے ایک رسالہ کشف الاستار لکھا جس کے جواب الجواب میں فینڈر صاحب نے 1847ء میں حل الاشکال کوتصنیف کیا جو 1884ء میں لدھیانہ سے شائع ہوئی۔
# مراسلات۔ اس رسالہ میں وہ خطوط درج ہیں جو فینڈر اور مولوی سید آل حسن نے ایک دوسرے کو ایک تحریری مناظرہ کے دوران میں 1844ء اور 1845ء میں لکھے تھے۔ مراسلات میں مناظرہ کے مضامین یہ تھے: تحریف بائبل، الوہیت مسیح اور تثلیث، رسالتِ محمدی۔ یہ مراسلات حل الاشکال کے ساتھ شائع کیے گئے۔
# اختتام دینی مباحثہ۔ اس میں فینڈر نے آگرہ کے مباحثہ کے مضامین کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس کے آخر میں ضمیمہ کے طورپر دوخط ہیں جواُس نے مولوی رحمت اللہ کو اور ڈاکٹر وزیر خان کو 1854ء میں اُن کی کتاب" رسالہ مباحثہ مذہبی" کے جواب میں لکھے تھے۔ یہ کتاب 1855ء میں سکندرہ میں چھپی۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
*History of the Church Missionary Society ,4 Volumes , by Engene Stock
*Report History of the PunjabChurch Missionary ConferenceSociety 1863.,4 (A.P.MissionVolumes Press, Ludhiana)by Engene Stock
* Report of the Punjab Missionary Conference 1863. (A.P.Mission Press, Ludhiana)
* غذائے روح از [[صفدر علی]]
* واقعات عمادیہ از [[عماد الدین لاہز]]
* Life of Bishop French 2Vol by Herbert Briks.
* Karl Gottlied Pfander (James Nisbet & Co. London) by Emily Headland.
 
[[زمرہ:1803ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1865ء کی وفیات]]
[[زمرہ:آذربائیجان میں پروٹسٹنٹ مبلغین]]
[[زمرہ:مسیحی علماء]]
[[زمرہ:اسلام کے مسیحی علماء]]
[[زمرہ:جرمن لوتھری مبلغین]]
[[زمرہ:بھارت میں جرمن تارکین وطن]]
[[زمرہ:ایشیا میں لوتھری مبلغین]]
[[زمرہ:بھارت میں جرمن تارکین وطن]]
[[زمرہ:بھارت میں لوتھری مبلغین]]
[[زمرہ:آذربائیجانجرمن میں پروٹسٹنٹلوتھری مبلغین]]
[[زمرہ:مسیحی علماء]]