"موسیقی اور اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
ابن ابی الحدید، واقدی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس ماجرا کے بعد رسول اللہ (ص) نے مسلمانوں سے فرمایا: آپ لوگوں کے لیے کونسی چیز رکاوٹ بنی، تاکہ اپنی جگہ سے اٹھـ کر اس مرتد کو قتل کر ڈالتے؟ عباد بن[7] بشر نے کہا: یا رسول اللہ قسم اس خدا کی جس نے آپ (ص) کو حق پر مبعوث فرمایا ہے، میں ہر طرف سے آپ (ص) کی جانب آتا تھا تاکہ شائد آپ (ص) ارشارہ فرماتے اور میں اس کا سر تن سے جدا کرتا، پیغمبر (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: "ہم اشارہ کے ذریعہ کسی کو قتل نہیں کرتے ہیں" یا یوں فرمایا: "پیغمبر کے لیے آنکھوں کی خیانت مناسب نہیں ہے "[8] واضح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حتی ان حالات میں بھی اس طریقہ کار سے پرہیز کی جو آپ کے مقاصد اور قدروں کے خلاف تھا ـ
 
2ـ عمروعاص کے مقابل میں حضرت علی (ع) کا رد عمل: اس مسئلہ کا ایک اور نمونہ یہ ہے کہ [[جنگ صفین]] میں جب عمروعاص کپڑے اتار کر ننگا ہوا تو حضرت علی (ع) اس کو قتل کرنے سے منصرف ہوئے ـ علامہ مجلسی (رح) اس سلسلہ میں "بحارالانوار" میں یوں نقل کرتے ہیں : ".... عمروعاص بھاگنے کی حالت میں تھا، علی علیہ السلام اس کا پیچہا کرتے ہوئے اس کے نزدیک پہنچے اور ایک ضرب لگائی جو اس کی زرہ پر لگ گئی اور وہ پشت کی طرف زمین پر گر پڑا اور جب اس نے دیکھا کہ اس کی جان خطرہ میں ہے تو اس نے کپڑے اتار دئے اور عریان ہو گیا، اس حالت میں امام علی علیہ السلام نے شرم و حیا کی وجہ سے منہ موڑ لیا اور اسے قتل کرنے سے منصرف ہو گئے ـ امام (ع) نے معاویہ کو مقابلہ کی دعوت دی، لیکن وہ علی(ع) سے مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوا، بسربن ارطاۃ حضرت (ع) سے مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آ گیا، علی (ع) نے اس پر ایسی کاری ضرب لگادی کہ وہ بھی پشت کے بل زمین پر گر گیا اور اس نے بھی عمروعاص کے مانند کپڑے اتار کر اپنے کو عریان کیا، علی (ع) اس کو بھی قتل کرنے سے منصرف ہو گئے اور اس کے بعد فرمایا: اے شام والو! افسوس ہو تم پر کہ نامردی کے ذریعہ اپنی جان بچانا جاہتے ہو، بیشک اس نامردی کے طریقہ کو عمروعاص نے تمھیں سکھایا ہے "[9]
 
مختصر یہ کہ فلم، سنگیت وغیرہ کے ذریعہ دین اور پیغمبر (ص) کی سیرت کی تبلیغ کرنا اگر حرام کام انجام دینے کا سبب بنے جیسے مرد اور عورتیں مخلوط ہوجائیں یا غنا اور حرام موسیقی سے استفادہ کیا جائے، تو اس صورت میں جائز نہیں ہے،[10] لیکن اگر اس طرح ہو کہ حرام شرعی کا سبب نہ ہو تو اس طریقہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ـ [[اسلامی جمہوریہ]] کا تجربہ اس سلسلہ میں بہترین نمونہ ہے ـ اس بنا پر صیحح نہیں ہے کہ انسان دینی، شرعی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرکے ان ہی قدروں کی ترویج و تبلیغ کرے، کیا عفت کی ترویج کرنا عفت و پاکی کو پامال کرکے صیحح ہے؟ کیا اخلاقی برایئوں کا مرتکب ہو کر اخلاقی فضائل کی ترویج کرنا صیحح ہے؟
 
اس بنا پر، مذکورہ بیانات سے واضح ہو گیا کہ اس راہ میں قانون وضابطہ صرف موجودہ وسائل پر منحصر نہیں ہوتا ہے، بلکہ ان وسائل کا احکام شرع کے مطابق ہونا معیار ہے اور واضح ہے کہ تبلیغ کے صیحح راستے بہت زیادہ ہیں ـ
4ـ "شنیدن موسیقی"، سؤال 1595 (سایٹ: 1590).
5ـ ملاکهای تشخیص موسیقی حلال و حرام در غرب، سؤال 1690 (سایٹ: 1859).
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]