"کوہاٹ سرنگ" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← دہشت گرد
م (خودکار درستی+ترتیب (9.7))
م (خودکار: خودکار درستی املا ← دہشت گرد)
1.89 کلومیٹر طویل اس ٹنل منصوبے کو 2003ء جون میں مکمل کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ اس سے جہاں کوہاٹ سمیت باقی جنوبی اضلاع کا پشاور سے فاصلہ کم ہوا وہیں بڑی گاڑیوں کو بھی سہولتیں ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے کوتل بائی پاس پر ان گاڑیوں کے لیے بہت مشکل حالات ہوتے تھے۔ اس ٹنل کی وجہ سے وقت اور جان ومال کی بھی بچت ہوئی ہے۔
 
24 فروری، [[2008ء]] کو دہشتگردوںدہشت گردوں نے اس ٹنل کے راستے سیکیورٹی فورسز کے لیے سپلائی لیکر جانے والے ٹرکوں کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا۔ یہ سپلائی جنوبی وزیرستان جا رہی تھی۔ 27 فروری کو فوج نے آرٹلری، ہیلی کاپٹرز اور ہیوی مشین گنوں کی مدد سے 24 دہشتگردوںدہشت گردوں کو مار کر ٹرکوں کو بازیاب کرا لیا۔ اس کے بعد سے ٹنل کا کنٹرول فوج کے پاس ہے۔
 
یہ ٹنل انڈس ہائی وے کا ایک اہم حصہ ہے جو کوتل بائی پاس کا متبادل اور شہروں کے درمیان میں فاصلے کم کرنے کا ذریعہ ،علاقے کی معیشت اور ٹریفک صورت حال کی بہتری میں بھی مددگار ہے۔
111,622

ترامیم