"بچوں کی قربانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
* بچوں کی بلی کے حامیوں کا یہ بھی دعوٰی ہے ہر انسان کو زندگی میں کچھ نہ کچھ قربانی دینا ہی پڑتا ہے۔ یہ بھلے ہی بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے جسم سے خون کا بہنا ہو یا اس کے لیے ماں کا اپنی نیند چین کو قربان کرنا ہو۔ ایک باپ بھی اسی طرح اولاد کی خوشی کے لیے کئی قربانیاں دیتا ہے۔ کچھ لوگوں اس جذبہ ایثار کو بلی اور قربانی کے جواز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ <ref>[http://isha.sadhguru.org/blog/hi/yog-dhyan/kali-mandir-kyon-di-jaati-hai-bali/ काली मंदिर : क्याें चढ़ाई जाती है बलि?]</ref>
 
==بچوں کی قربانی کی تاریخ==
بچوں کی قربانی کی تاریخ ہزاروں سالوں سے چلتی آئی ہے۔ یہ کئی ملکوں کو تہذیبوں میں رائج رہی ہے۔ چوں کہ بچے عمومًا اپنا دفاع خود نہیں کرتے، اس لیے بالغوں کے مقابلے یہ عمل ان بچوں کے لیے سہل ہے۔ تاہم اس رسم و رواج میں ماں باپ کی کئی بار مرضی شامل رہی بھی اور کبھی کبھی یہ عمل جبری طور پر بھی انجام پایا ہے جس میں ماں باپ کی مرضی کا کچھ عمل دخل نہیں تھا۔ حالاں کہ بیشتر ممالک میں یہ رسم اب مفقود ہے، تاہم بھارت جیسے کچھ ممالک میں یہ رسم آج بھی گاؤں دیہاتوں اور قبائل میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی بچوں کی قربان گاہ کی دریافت [[2011ء]] میں پیرو میں ہوئی۔ اس مقام پر شاید 140 بچوں کو قربان کیا گیا تھا۔<ref>[http://www.dw.com/ur/140-%D8%B3%DB%92-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C/a-43577879 140 سے زائد بچوں کی قربانی]</ref> ماہرین کے مطابق قربان کیے جانے والے ان بچوں کی عمر پانچ سے 14 برس کے درمیان تھی۔ اور جن لاما کو قربان کیا گیا وہ 18 ماہ سے کم عمر کے تھے۔ اسی طرح کے شواہد قدیم [[میکسیکو]] میں ملے۔
 
==مزید دیکھیے==
35,188

ترامیم