"مادہ بچہ کشی" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,804 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
اضافہ
(نیا مضمون)
 
(اضافہ)
'''مادہ بچہ کشی''' نوزائیدہ مادہ بچوں کے دانستہ قتل کا نام ہے۔ ایسا ممالک جن میں مادہ بچہ کشی کی اپنی نمایاں تاریخ ہے، وہاں [[جنسی انتخاب پر مبنی اسقاط حمل]] کو بھی ایک متصلہ موضوع ہونے کی وجہ سے موضوع نحث بنایا جاتا ہے۔ مادہ نو زائیدہ کشی کئی ملکوں میں ایک موضوع سخن بن چکا ہے۔ ان میں [[چین میں نو زائیدہ مادہ کشی|چین]]، [[بھارت میں نو زائیدہ مادہ کشی|بھارت]] اور [[پاکستان میں نو زائیدہ مادہ کشی|پاکستان]] شامل ہیں۔ یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ ان سماجوں میں عورتوں کو دیا گیا حقیر درجہ ماداؤں کو سماج میں قبول کرنے میں مانع ہے۔{{sfn|جونز|1999-2000}}
 
==بھارت میں مادہ بچہ کشی==
{{مزید دیکھیے|بھارت میں مادہ بچہ کشی}}
 
[[بھارت]] کے [[سماج]] میں عورتوں کی صورت حال سدھارنے اور [[جنسی تناسب]] میں توازن قائم کرنے کے مد نظر [[لوک سبھا]] میں ایک تاریخی تجویز تعارف کی گئی تھی۔ اس میں مادہ بچہ کشی کو غیر ضمانتی جرم بنانے کی وکالت کی گئی ہے۔ [[2014ء]] میں حکم ران [[انڈین نیشنل کانگریس|کانگریس]] کے ادھیر رنجن چودھری کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو جسے ‘‘کنیا ششو ہتیا نوارن ودھییک 2014ء ’’ یا مادہ بچہ کشی قانون 2014ء کے اغراض اور مقاصد میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کا جنم اب بھی غریب خاندانوں کی جانب سے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں یہ تجویز قانونی طور پر مروجہ مادہ بچہ کشی کے معاملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ یہ صحیح وقت ہے جب اس بز دلانہ فعل کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ لیکن کسی سخت قانون کی کمی میں اس قبیح رسم پر روک لگا پانا بہت شکل ہے۔
 
اسی وجہ سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ ایک ایسا قانون لایا جائے جس میں ان اشخاص کے لئے سخت سزا کی گنجائش ہو جو مادہ بچہ کشی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ قانون کی گنجائشوں میں کہا گیا ہے کہ اگر لڑکی کی موت کی ابتدائی تحقیق کے بعد کوئی شخص مادہ بچہ کشی کا خاطی پایا جاتا ہے تو اسے فی الفور حراست میں لیا جانا چاہیے۔
 
اس جرم کو غیر ضمانتی جرم بنائے جانے کے ساتھ ہی خاطیوں کے لیے دس سال کی قید اور ایک لاکھ روپیے کے جرما نے کی سزا کا امکان رکھا کیا گیا ہے۔ اسکے ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ایسے معاملوں میں مادہ بچہ کشی کی جانچ اور عدالت میں رپورٹ فائل کرنے کا کام لڑکی کی موت کی تاریخ سے تین مہینے کی میعاد کے اندر پورا کر لیا جانا چاہیے۔<ref>[https://www.prabhatkhabar.com/news/206314-female-infanticide-guilty-10-years-imprisonment-nonbailable-offense.html कन्या शिशु हत्या के दोषी पाए जाने पर हो सकती है 10 साल की कैद]</ref>
 
 
==حوالہ جات==
35,334

ترامیم