"فتح مکہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

3,583 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
اضافہ
(اضافہ)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
|تذکرہ=
}}
'''فتح مکہ''' (جسے '''فتح اعظم''' بھی کہا جاتا ہے) عہد نبوی کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان المبارک سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا، اس غزوے کی بدولت مسلمانوں کو شہر مکہ پر فتح نصیب ہوئی اور اس کو اسلامی قلمرو میں شامل کرلیا گیا۔ اس غزوہ کا سبب قریش مکہ کی طرف سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ یعنی قریش مکہ نے اپنے حلیف قبیلہ بنو دئل بن بکر بن عبد منات بن کنانہ نے (اس کی ایک خاص شاخ جسے بنو نفاثہ کہا جاتا ہے) بنو خزاعہ کے خلاف قتل و غارت پر مدد کی تھی اور چونکہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا اس لیے اس حملے کو قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھی گئی جو مسلمانوں اور قریش کے درمیان ہوا تھا، یہ معاہدہ "صلح حدیبیہ" کے نام سے معروف ہے۔ اسی معاہدہ کی خلاف ورزی کے جواب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا؛ لشکر آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ مکہ پہونچ گیا اور بغیر کسی مزاحمت کے مکہ میں پر امن طریقے سے داخل ہو گیا سوائے ایک معمولی سی جھڑپ کے جس کا سپہ سالار [[خالد بن ولید]] کو اس وقت سامنا ہوا جب قریش کی ایک ٹولی نے [[عکرمہ بن ابی جہل]] کی قیادت میں مسلمانوں سے مزاحمت کی اور پھر خالد بن ولید کو ان سے قتال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بارہ کفار مارے گئے اور باقی بھاگ گئے، جبکہ دو مسلمان بھی کام آئے۔
[[رمضان]] [[8ھ]] ([[جنوری]] [[630ء]]) میں مسلمانوں نے مکہ فتح کیا۔ جنگ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ مسلمانوں کی ہیبت سے مشرکینِ مکہ ڈر گئے تھے۔ اس کے بعد مکہ کی اکثریت [[مسلمان]] ہو گئی تھی۔
 
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں داخل ہوئے اور لوگوں کو اطمینان ہو گیا تو کعبہ کے پاس آئے اور اس کا طواف کیا۔ اثنائے طواف کعبہ کے ارد گرد موجود بتوں کو اپنے پاس موجود تیر سے گراتے اور پڑھتے "جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" (ترجمہ: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے) اور پڑھتے "جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد" (ترجمہ: حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے، نہ دوبارہ کرنے کا) کعبہ میں بتوں کی تصویریں آویزاں اور ان کے مجسمے نصب تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بھی ہٹانے اور توڑنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کی گئی، جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلال بن رباح کو حکم فرمایا کہ کعبہ کے او پر چڑھ جائیں اور اذان دیں؛ بلال کعبہ کے اوپر چڑھے اور اذان دی۔
 
فتح مکہ کے بعد ایک کثیر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی جن میں سرفہرست سردار قریش و کنانہ ابو سفیان اور ان کی بیوی ھند بنت عتبہ ہیں۔ اسی طرح عکرمہ بن ابو جہل، سھیل بن عمرو، صفوان بن امیہ اور ابوبکر صدیق کے والد ابو قحافہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
 
== پس منظر ==