"سیدی علی رئیس" کے نسخوں کے درمیان فرق

31 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:تاریخ گجرات
م (خودکار درستی+ترتیب (9.7))
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:تاریخ گجرات)
'''سیدی علی رئیس''' (پیدائش: [[1498ء]] – انتقال: [[1563ء]]) ایک [[سلطنت عثمانیہ|عثمانی]] [[امیر البحر]] تھے۔
 
انہوں نے [[جنگ پریویزا]] ([[1538ء]]) میں ترک بحری بیڑے کے بائیں بازو کی قیادت کی تھی۔
 
بعد ازاں انہیں [[بحر ہند]] میں [[عثمانی بحریہ]] کے کماندار کی حیثیت سے ترقی دی گئی اور اس حیثیت سے ان کی [[1554ء]] میں گوا، ہندوستان کے قریب پرتگیزی بحریہ سے چند جھڑپیں بھی ہوئیں۔
 
سیدی علی رئیس کی اصل شہرت ان کے سفرنامے [[مراۃ الممالک]] ([[1557ء]]) کی وجہ سے ہے جو انہوں نے [[ہندوستان]] سے [[استنبول]] واپسی کے پیدل سفر کی روداد کے طور پر لکھا ہے۔ اس کے علاوہ [[جہازرانی|جہاز رانی]] اور [[فلکیات]] پر ان کی کتب [[مراۃ الکائنات]] اور [[کتاب المحیط: المحیط فی العلم الافلاک و البحور]] کے مشہور ہیں۔ ان کتب میں جہاز رانی کی تکنیک، سمت کے تعین کے طریقہ ہائے کار، وقت کے اندازے، [[قطب نما]] کے استعمال، ستاروں، [[شمسی تقویم|شمسی]] و [[قمری تقویم]]، ہوا اور [[سمندری رو|سمندری روؤں]] کے علاوہ عثمانی سلطنت کی حدود میں مختلف [[بندرگاہ|بندرگاہوں]]، ساحلی علاقوں اور [[جزیرہ|جزائر]] کے بارے میں معلومات بھی شامل ہیں۔ ان کی کتب [[اردو]] اور [[انگریزی زبان|انگریزی]] کے علاوہ [[عربی زبان|عربی]]، [[فارسی]]، [[فرانسیسی]]، [[اطالوی زبان|اطالوی]]، [[جرمن زبان|جرمن]]، [[یونانی زبان|یونانی]] اور [[روسی زبان]] میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں۔ یہ کتب عثمانی عہد کے بہترین ادبی شہپاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔
[[جنوری]] [[1563ء]] میں آپ استنبول میں انتقال کر گئے۔
 
[[زمرہ:تاریخ عراق]]
[[زمرہ:تاریخ عمان]]
[[زمرہ:تاریخ گجرات]]
[[زمرہ:تاریخ لیبیا]]
[[زمرہ:ترک شخصیات]]