"امین صفدر اوکاڑوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
م (خودکار: خودکار درستی املا ← دعا)
}}
{{دیوبندی}}
مشہور عالم '''دین محمد امین''' پورا نام مع القابات مولانا امین صفدر اوکاڑوی جنکی کی پیدائش اور علمی محققانہ طرز زندگی ایک مشہور [[عالم دین]] مولانا سید [[شمس الحق افغانی]] (فاضل دار العلوم دیوبند) کی دعاؤں کا ثمرہ ہے اور انہوں نے ہی آپ کا نام '''محمد امين''' تجویز کیا تھا اور بڑے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر آپ کے والد محترم '''ولی محمد''' سے فرمایا: "یہ لڑکا مولوی بنے گا، مناظر بنے گا!" چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سید صاحب کی دعا قبول فرمائی، آخر کار امین صفدر اوکاڑوی کو '''ماسٹر محمد امین''' سے مناظر اسلام، محقق حنفیت، وکیل [[اہل سنت]] والجماعت مولانا محمد امین صفدراوکاڑوی بنا دیا۔ تحقیق و‌تحریر میں امین صفدر اوکاڑوی چونکہ ایک مشہور عالم دین '''مولانا سرفراز خان صفدر''' (دیوبند [[مکتب فکر]] کے ہاں جنکے القابات امام اہل سنت اور پیر طریقت کے ہیں) سے متاثر تھے، اس لیے '''صفدر''' کہلاتے ہوئے ان کی جانب نسبت ظاہر کرتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں تاحال دو ہی صفدر گزرے ہیں، تقریر میں '''حضرت مولانا محمد امين صفدر اوکاڑوی''' اور تحریر میں '''حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ'''<ref>[http://www.ahnafmedia.com/conferences/itemlist/category/32-maulana-ameen-safdar-okarvi Maulana Ameen Safdar<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
== ولادت ==
 
== تعلیم ==
امین صفدر اوکاڑوی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں ہی حاصل کی، وہاں چونکہ [[اہل حق]] کا کوئی مدرسہ تھا نہ مسجد اس لیے عقیدہ توحید سے مناسبت کی وجہ سے ان کے والد نے انہیں [[غیر مقلد|غیر مقلدین]] کی مسجد میں تعلیم کے لیے حافظ [[محمد رمضان]] کے سپرد کر دیا، بعد ازاں [[غیر مقلد]] عالم دین مولانا عبد الجبار کنڈیلوی سے کچھ درسی کتب پڑھیں، جس کے نتیجے میں کافی عرصہ تک [[حنفی|احناف]] کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ [[پاکستان]] بنے کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ ضلع '''[[اوکاڑہ]]''' کے چک نمبر55/2-1میں ہجرت کرنے کے بعد مستقل سکونت اختیار کرلی۔
== رجوع حنفیت ==
1953ء میں [[احمدیہ|قادیانیوں]] کے خلاف [[تحریک ختم نبوت]] کے دوران مشہور عالم دین علامہ [[انور شاہ کشمیری]] کے شاگردِ رشید، مولانا محمد عبد الحنان (فاضل [[دار العلوم دیوبند]]) اور مولانا عبد القدیر (فاضل دیوبند) گرفتاری کے بعدجب اوکاڑہ آئے تو آپ کے استاذ مولانا عبد الجبار کنڈیلوی نے آپ کو ان سے بحث و‌مباحثہ کرنے کے لیے بھیج دیا۔ ان سے بحث میں نہ صرف آپ ہار بیٹھے بلکہ ان کی ناصحانہ باتوں کے اثر سے غیر مقلدیت سے حنفیت کی جانب رجوع کر لیا اور یوں وہ اپنے مسلک سے کو چھوڑکر اہل السنۃ والجماعۃ احناف میں شامل ہو گئے۔ اس بارے میں آپ کا اپنا مضمون "'''میں حنفی کیسے بنا؟'''" مطبوعہ مجموعہ رسائل صفدری قابل دید ہے۔
== بیعت و تحفظِ دین حنیف ==
مفتی بشیر احمد پسوری کی تلقین سے آپ عالم دین مولانا [[احمد علی لاہوری]] سے بیعت ہوئے اور ان کی خصوصی توجہات کا مرکز بنے۔ والدین کی تربیت، طبعی نفاست پسندی اور سب سے بڑھ‌ کر [[احمد علی]] لاہوری کی شفقت و‌محبت اور خصوصی تعلق نے آپ کی روحانیت میں نہ صرف کہ نکھار ہی پیدا کر دیا تھا بلکہ حنفیت کے میدان میں ایسا سکہ جمایا کہ تاحال مسلک حنفيہ کی ترویج و‌اشاعت اور تحفظ و‌خدمت کے میدان میں آپ کا ثانی نہیں ہے۔
 
== عشقِ رسول ==
فرق باطلہ۔..خصوصاً مرزائیوں اور عیسائیوں و‌روافض اور منکرین فقہ کے ساتھ کراچی سے خیبر تک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو سے زائد مناظرے کیے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر جگہ سرخرو کیا جس سے ہزاروں لوگ اہل باطل کے دام فریب سے نکلنے میں نہ صرف کامیاب ہی ہوئے بلکہ حضرت نے تعمیری تنقید کا ایک نیا اسلوب متعارف کروا کر معاشرے کو تقریب پسند اور تفرقہ باز جماعتوں کے گھناؤنے اثرات سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
== خدمت دین ==
مدارس عربیہ، علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن [[کراچی]] کی نشر و‌اشاعت کے مراکز اور اسلام کا قلعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دین حنیف کو یلغار باطل سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کو مدارس دینیہ کے اجرا، سرپرستی اور تعاون کا ذوق اپنے اکابر سے ورثہ میں ملا تھا، آپ نے اپنے گاؤں میں ذاتی زمین پر ایک مکتب قرانی تعمیر کروایا، خود مفتی احمد الرحمٰن صاحب کے حکم پر اسکول کی نوکری چھوڑ کر ایک طویل عرصہ تک جامعہ العلوم الاسلاميہ علامہ بنوري ٹاؤن [[کراچی]] میں درس و‌تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کے وصال کے بعد جامعہ خير المدارس ملتان کے رئيس حضرت مولانا قاری [[محمد حنیف]] صاحب جالندھری دامت بركاتہم کے بار بار اصرار پر ١٤١٤‌ھ میں ملتان تشریف لے گئے اور تاحیات جامعہ خير المدارس ملتان میں شعبہ تخصص فی الدّعوۃ والارشاد کے رئیس رہے۔ علاوہ ازین شعبان و‌رمضان کی سالانہ چھٹیوں میں ملک و‌بیرون ملک دیگر مدارس اسلامیہ میں دورہ پڑھانے اور وقتاً فوقتاً مناظروں اور جلسوں سے خطاب کے لیے تشریف لے جاتے۔
== اسلاف کی سرپرستی ==
حضرت اوکاڑوی اصول و‌فروع میں اپنے اکابر علما دیوبند پر اعتماد کو اس دور پرفتن میں ہر فتنہ کا علاج سمجھتے ہوئے ہمیشہ اس کی اہمیت و‌افادیت بیان فرماتے۔ اگرچہ تعمیری تنقید اور حنفیت کی تحقیق میں وہ مجتہدانہ شان کے مالک تھے تاہم عجز و‌انکسار کا پیکر مجسم تھے اور اپنی زندگی کے آخری دور میں سرفراز خان صفدر (گوجرانوالہ) کی تحقیقات اور علمی کاوشوں سے بڑی حد تک متاثر تھے۔ ان سے آپ کا بڑا گہرا روحانی تعلق بھی تھا۔ آپ اس دور کے نزاعی مسائل میں اپنے اکابر کی تحقیق کو حرف آخر سمجھتے اور تحقیق کے نام پر اس سے انحراف کو انتہائی بری نظر سے دیکھتے تھے۔ جناب عمر الدین قریشی صاحب سے چونکہ ان کی بچپن سے دوستی تھی اس لیے اکثر دونوں میں بے تکلفانہ گفتگو رہتی بلکہ امین صفدر اوکاڑوی اکثر عمر الدین قریشی کو مناظروں میں بھی ساتھ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ عمر الدین قریشی نے ان سے عرض کیا؛ "امین صاحب! کبھی جناب نے سوچا بھی ہے کہ اتنا بڑا منصب (کہ جہاں بڑے بڑے علما کرام و‌مفتیان عظام کے استاذ بنے بیٹھے ہیں) آپ کو کس وجہ سے ملا؟" تو برکلا فرمایا؛ "[[احمد علی لاہوری]] کی دعاؤں اور سرفراز خان صفدر کی شفقت، اپنے اکابر پر اعتماد اور علما کرام کی محبت سے !"
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]