"این فرینک" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← اور
م (خودکار: خودکار درستی املا ← اور)
وہ [[فرینکفرٹ]]، [[جرمنی]] میں پیدا ہوئی۔ زیادہ تر وقت [[ایمسٹرڈم]]، [[نیدرلینڈز]] میں گزارا کیونکہ [[نازی]]وں نے جرمنی پر قابو پا لیا تھا اور مجبوراً اس کو کو اپنے خاندان کے ہمراہ ساڑھے چار برس کی عم میں نیدرلینڈز جانا پڑ گیا۔ اس طرح این فرینک نے سنہ 1941ء میں اپنی شہریت کھو دی اور وہ بے وطن ہو گئی۔ مئی 1940ء میں نیدرلینڈز پر جرمن قبضے کی وجہ فرینک خاندان ایمسٹرڈم میں محصور ہو کر رہ گیا۔ جب جولائی 1942ء میں یہودی آبادی پر مظالم بڑھ گئے تو فرینک خاندان پوشیدہ کمروں میں چھپ گیا، یہ کمرے اس عمارت کی کتاب کی الماری کے پیچھے تھے جہاں اس کے والد کام کیا کرتے تھے۔ اس وقت سے لے کر اگست 1944ء میں [[گسٹاپو]] کے ہاتھوں خاندان کے گرفتار ہونے تک این کے پاس ایک ڈائری تھی جو اس کو اس کے جنم دن پر بطور تحفہ ملی تھی اور وہ اس میں روزانہ لکھتی تھی۔ فرینک خاندان کی گرفتاری کے بعد انہیں نازیوں کے حراستی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ اکتوبر یا نومبر 1944ء میں این اور اس کی بہن [[مارگوٹ فرینک|مارگوٹ]] کو [[آوشویتز حراستی کیمپ|آشویتز]] سے [[برجن بیلسن حراستی کیمپ]] بھجوا دیا گیا جہاں وہ دونوں کچھ ماہ بعد (ممکنہ طور پر [[ٹائیفس]] سے) وفات پا گئیں۔ [[بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر|انجمن صلیب احمر]] کے مطابق وہ دونوں میں مارچ مریں، لیکن 2015ء کی تحقیق کے مطابق ان کے فروری میں مرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔<ref name="DeathResearch"/>
 
این کے والد [[اوٹو فرینک|اوٹا]] خاندان کے واحد فرد تھے جو زندہ رہے، وہ جنگ کے بعد ایمسٹرڈم واپس آئے اور این کی وہ ڈائری حاصل کر لی جو ان کی دوست [[میپ گیس]] نے محفوظ کر کے رکھی تھی۔ این کے والد نے کوششوں کے بعد سنہ 1947ء میں ڈائری کو شائع کر دیا۔ اس ڈائری کو ڈچ زبان کے اصلی نسخے سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا جس کا عنوان ”دی ڈائری آف اے ینگ گرل“ تھا،تھا اور اب تک اس کا 60 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
 
== حوالہ جات ==
102,783

ترامیم