"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

95 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
م
م (223.225.147.113 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم UrduBot کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔)
(ٹیگ: استرجع)
 
== پس منظر ==
تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند خاندان کا ناجائز فرد تھا جوکسی بنا پر راجا کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب و سرحد کے غیر مطمعین قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیاChaknia or Koutlia کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے [[شاہی خاندان]] کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔
جین مت کی روایتیں موریاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ موروں کے رکھوالے تھے۔ بدھ روایتیں کہتی ہیں کہ جب شاکیا کی شاخ موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ہے جہاں موروں کی بہتات تھی۔ وہاں انہوں نے ایک شہر بسایا اور چونکہ شہر کے محلات کی اینٹوں کا رنگ مور کی گردن جیسا تھا۔ اس لیے یہ لوگ مور کہلائے اور شہر کا نام موریا نگر مشہور ہوا۔ نندن گڑھ کے ستون سابچی کے سٹوپوں وغیرہ پر موروں کی تصویر کندہ ہیں۔ پاٹلی پتر میں موریا محل کے باغ مور پالے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل اس نتیجہ پر پہنچے کہ مور موریا خاندان کی قومی علامت تھا۔ یہاں تک جب گپتا دور میں [[مہا بھارت]] پر [[نظر ثانی]] کی گئی تو انہیں سنسکرت کا تلفظ میورا کا (یعنی مور قبیلہ) دے دیا گیا۔ (مور راکھا یعنی موروں کا رکھوالا) چندر گپت کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ نندا خاندان کا ناجائز لڑکا تھا اور اس کی ماں کے نام سے موریا خاندان کا نام پڑا۔
بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ یہ تمام روایات بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ تمام داستانیں فرضی ہیں ان میں زرہ پھر سچائی نہیں ہے موریا خاندان کا مور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مور ان کی خاندانی یا پسندیدہ علامت ہے۔ ستون پر کندہ اشوک کے شاہی فرمان نمبر 5 میں ان جانوروں اور پرندوں کی فہرست دی گئی جن کو مارنا منع ہے، لیکن ان میں مور شامل نہیں ہے۔ اشوک کی خوراک جو جانور شامل تھے ان میں کو بھی شامل تھا۔ یہ لوگ مور خور تھے نہ کہ مور کے محافظ۔ یہ کیسے ممکن ہے موروں کے رکھوالے کا بیٹا (چندر گپت) ایک ہزار میل دور ٹیکسلا جو شہزادوں کی عظیم درس گاہ تھی تعلیم پاتا تھا۔
یونانی تاریخیں میں کہیں بھی اس کی نشان دہی نہیں ہوتی ہے کہ موریاؤں کا تعلق نندا خاندان سے ہے۔ موریہ کون تھے؟ چانکیہ اس کے بارے میں اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں ایک لفظ نہیں کہتا ہے۔ پران موریہ حکمرانوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتی ہیں۔ ’مدرا راکش‘ سنسکرت کے ڈراما نگار وشاکھ دت نے موریاؤں کو انہیں شودر، ورشل اور کمینہ کہہ کر حقارت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے اور خود چندر گپتا کو کلاہن (مجہو الاصل) کہا ہے۔ جب کہ ’یوگ پران‘ نے انہیں بے دین بظاہر دین دار کہا ہے۔ وشنو پران کہتا ہے نندا کی نسل کے خاتمہ کے بعد موریا قابض ہوجائیں گے اور انہیں شودر کہا ہے۔ مارکنڈیا پران میں انہیں ہے اسور کہا گیا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس نفرت کا سبب کیا ہے۔ اس جانب ایک اشارہ ہے کہ معاشرے کے بارے میں بالعوم اور برہمنی رسوم کے بارے میں بالخصوص موریاؤں کا روئیہ ہے۔ موریاؤں نے تمام برہمنی رسومات ختم کر دیں۔ انہوں نے رسمی طور پر برہمنی مذہب کی مخالفت کی اور اس کے برعکس انہوں نے بیواؤں کی شادی کی حمایت کی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ موریا غیر ملکی تھے۔ اس لیے وہ برہمنوں کی بالا دستی کو نہیں مانتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے روایتی، سماجی مذہبی اور سیاسی نظریات کی مخالفت کرتے اور وہ [[ذات پات]] کو نہیں مانتے تھے۔
اور مزید ان کا کہنا ہے اس کی حقیقت وسط ایشیائی کلمہ ’مور‘ جس کے معنی تاج کہ ہے، یہ وہی کلمہ ہے جس کو موڈ بھی بولا جاتا یعنی وہ تاج جو دولہا شادی کہ موقع پہنتا ہے۔ کیوں وسط ایشا کہ لوگ کلمہ کو ڑ اور ڈ ساتھ بھی بھی بولتے ہیں، اس لیے اسے سنسکرت کو ’موڈ‘ سمجھا گیا، جس کے معنی مسرت اور خوشی کے ہیں۔ انہوں نے اس کلمہ پر تفصیلی بحث کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کڑٹس کہتا ہے سندھ میں پٹالا کے بادشاہوں نے بھی اس کلمہ کو اپنے ناموں کے ساتھ لگایا ہے اور یہ کلمہ وہی ہے جس کو یونانیوں نے موئز کہا ہے، یہ کلمہ وسطہ ایشیا میں بھی ایک قبیلہ کا نام تھا اور وہاں اب بھی موجود ہے اور اس کا نام بھی یہی ہے۔ موریا، خوتان ترکستان اور دیگر علاقوں کے علاوہ کشمیر کے بھی حکمران تھے۔ پاپا اول سے پہلے موریا راجستھان میں جتوڑ کے حکمران تھے، وہ خود مور راجا کی لڑکی کا بیٹا تھا۔ اس طرح مہرت راجا چتوڑ جس کا ذکر چچ نامہ میں ذکر ملتا ہے مور یا موری قبیلہ کی شاخ اور سندھ کے رائے ساسی کا رشتہ دار تھا۔ نیل گری کے پہاڑوں پر چند قدیم مجسموں کا حوالہ دیتے ہوئے فادر مٹز کہتا ہے کہ وہ موریا ری مان (موریا گھرانا کہلاتے تھے۔ وہ انہیں [[تار تار]] یا ازبک تسیلم کرتا ہے۔
== چندر گپت موریا ==
[[چندرگپت موریا]]سے تاریخ ہند کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو [[شمالی ہند]] کے اتحاد اور ہندو تمذن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو [[خلیج بنگال]] سے لیکر [[بحیرہ عرب]] تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء؁ تا 298ء؁ ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ سکندر کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔ سلوکس نے سکندر کے مفتوع علاقوں کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ سلوکس نے 305 ؁ ق م میں پاک وہند کی طرف قدم بڑھایا، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب کی سرزمین پر شکست کھانے کے بعد ایک شرمناک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ جس کے رو سے وہ نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل، قندھار، ہرات اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہو گیا۔ نیز تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لیے اس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ چندر گپت نے محض اس کی بات رکھنے کے لیے پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔
سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کیے ہیں۔ اس جنگ کے بعد موریا سلطنت کی سرحدیں مکران و افغانستان تک وسیع ہوگئیں۔ جین روایات کے مطابق چندر گپت نے آخری زمانے میں جین مت قبول کر لیا تھا اور اس نے تخت سے دست بردار ہوکر حکومت اپنے بیٹے بندو سار Bindusara کو سونپ دی تھی۔ مگر دوسری روایات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔
بندوسار 298 ؁ ق م میں تخت نشین ہوا۔ اس نے تقریباََ پچیس سال حکومت کی۔ بندو سار کے عہد کے حالات معلوم نہیں مگر اس کا لقب امیر گھاتا (دشمن کش) تھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک جنگجو حکمران تھا۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس نے دکن فتح کر لیا تھا۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر درست ہے کہ اشوک نے صرف کلنگا Kalinga کو ہی فتح کیا تھا۔ سلوکس نیکتر سے اس کے دوستانہ تعلقات تھے۔ سلوکس نے اپنے سفیر دیماکوس کو اس کے دربار میں بھیجا تھا۔
 
تاریخ کا [[طالب علم]] یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اگرچہ بندوسار اپنے دور کا ایک عظیم حکمران تھا مگر وہ اپنے عظیم باپ (چندر گپت) اورشان وشوکت والے بیٹے (اشوک ) کے درمیان دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
 
== اشوک ==
بندوسار کے بعد273 ؁ یا 273 ؁ق م میں اشوک Ashoka اس کا بیٹا جانشین ہوا۔ اس حالات خود اس کے لاٹوں اور کتبوں سے ملتے ہیں۔ اس کی تاجپوشی کی رسم چار سال کے بعد269 ؁ ق م میں ادا کی گئی۔ مگر اس کی حکومت کے ابتدائی چارسال کے حالات بالکل معلوم نہیں ہیں اور جو کچھ مذہبی کتابوں میں ملتے ہیں ان پر مذہبی رنگ غالب ہے۔ ان مذہبی روایات میں بتایا گیا ہے، کہ اشوک اپنے 99 بھائیوں کو قتل کرکے تخت حاصل کیا تھا۔ مگر دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی حکومت کے سترویں یا اٹھارویں برس تک اس کے بھائی زندہ تھے اور وہ ان کی خبر گیری کرتا تھا۔ پھر بھی یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ تخت نشینی کی عام روایات کے مطابق اسے اپنے بھائیوں جنگ کرنی پڑی ہو اور چند کا اسے خون بھی بہانا پڑا ہو، جیسا کہ اس کی پانچویں لاٹ سے پتہ چلتا ہے۔ غرض اس کی حکومت کے ابتدائی حالات کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ تخت نشینی کے بارہ سال تک وہ غیر اہم زندگی بسر کرتا تا رہا اور شاید اپنا وقت انتظامی امور پر توجہ دی اور 261 ق م میں مہاندی اور گوادری کے درمیان غیر آریائی ریاست کلنگاKulinga پر حملہ کر کے اس ریاست کو فتح کر لیا۔ اس طرح موریا کی توسیع [[جنوبی ہند]] تک ہو گئی۔
کلنگا کی فتح نے اشوک کے دماغ پر گہرا اثر دالا۔ کیوں کہ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ جنگی تباہ کاریاں دیکھ کر اشوک سخت متاسف ہوا اور اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ کبھی جنگ نہ کرے گا۔ اس واقع کے بعد اس نے اپنی بقیہ زندگی اخلاقی تعلیمات پھیلانے، برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں سے آشنا کرنے میں صرف کردی۔
اشوک نے دور دراز کے ملکوں مثلاََ لنکا، برما، سیام، سماٹرا، شام، مقدونیہ اور مصر میں اپنے مغلبین بھیجے۔ انہوں نے جنوبی ملکوں میں شاندار کامیابی حاصل کیں۔ اشوک نے بدھ کی اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے انہیں پتھروں کی سلوں کی پر کندہ کرا کر انہیں شاہراؤں پر نصب کروائے۔ اس کی تعلیمات جو بدھ سے ماخذ ہیں ان میں عدم تشد، جانداروں کی زندگی کی تحریم، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، ماں اور باپ اور استادوں کی تعظیم، راست گوئی، عام ہمدردی اور فیاضی پر ذور دیا گیا ہے۔ اس نے مختلف مقامات پر مسافر خانے، کنوئیں اور شفاخانے تعمیر کرائے۔ نیز جانوروں کو ہلاک کرنا ممنوع قرار دیا۔ اشوک نے اپنی حکومت کے چوبیسویں سال مقدس مقامات کی زیارت کی اور گوتم کی یاد میں لمبنی باغ قریب جہاں گوتم پیدا ہوا تھا ایک مینار نصب کرایا۔ علاوہ ازیں اشوک نے بدھ مت کے فرقوں کے اختلاف ختم کروانے کے لیے ایک مجلس منعقد کروائی۔
== مالیات ==
راجا قانون کے مطابق اپنی سلطنت کے تمام خشک و تر کا مالک تھا۔ کل مروغہ و غیر مروغہ زمین مالک تھا۔ اس لیے وہ کسانوں سے زرعی پیداوار کا ایک خاص حصہ بطور لگان وصول کرتا تھا اور اس کی آمدنی کا سب سے اہم حصہ یہی ہوتا تھا۔ زمین کے لگان کو بھاگ Bhaga کہتے تھے اور یہ پیداوار کا ایک چوتھائی یا ایک تہائی حصہ ہوتا تھا۔ اس لگان کے ساتھ آب پاشی کا محصول بھی عائد تھا۔ جس کی شرح پانچویں سے تیسرے حصہ پیداوار کے مابین تھی۔ بعض حالتوں میں دوسرے ابواب بھی زمین سے وصول کیے جاتے تھے۔ اس طرح تمام لگان ادا کرنے کے بعد کاشکاروں کے پاس بمشکل پیداوار کا نصف حصہ رہے جاتا تھا۔
مذکورہ لگان اور آبیانہ کے علاوہ مویشی، مکانات، سامان تجارت، آب کاری، نمک سازی [[کان کنی]] اور قمار خانے پر محصول عائد تھے۔ جن کو وصول کرنے کے لیے مختلف عمال مقرر تھے۔ دریا کے گھاتوں پر بھی حکومتی کشتیاں ہوتی تھیں جن کا کرایا سرکاری خزانے میں جمع ہوتا تھا۔
شہر کے اندر پیدائش اور موت پر محصول لگا ہوا تھا۔ یہ بھی حکومتی آمدنی کا ایک ذریعہ تھا۔ جرمانہ کی رقم بھی معقول ہوتی تھی۔ مجرمین سے زیادہ تر جرمانے ڈنڈ Dand وصول کیے جاتے تھے۔ ان محصولات کے علاوہ خراج کی آمدنی بھی تھی جو ماتحت ریاستوں سے وصول کی جاتی تھی۔ [[مال غنیمت]] جو جنگوں میں ہاتھ لگتا تھا اور نذرانے جو سردار مختلف مواقع پر راجا کی خدمت گذانتے تھے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے موقع پر غیر معمولی محصول لگادیا جاتا تھا۔
سرکاری محصول نقد و جنس دونوں صورتوں میں وصول کیے جاتے تھے۔ وصول میں بالعموم سختی برتی جاتی تھی۔ اکثر ایسے تذکرے اور حوالے ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کاشکاروں نے عاملوں کے ظلم و ستم اور لگان کی زیادتی سے تنگ آ کر زمین کو چھوڑ دیا اور جنگلوں کی طرف بھاگ گئے۔ بیگار کا عام رواج تھا، ہر اہل ہنر اور کاریگر کو مہینہ میں دو دن سرکاری کام کرنا پڑتا تھا۔ جس کی انہیں مزدوری نہیں ملتی ہے۔
== فوج ==
راجا کی عدالت کے بعد صوبوں اور ضلعوں کی عدالتیں تھیں۔ جہاں مہامانز Mahamatsa یعنی حاکم شہر اپارک Uparika یعنی صوبہ دار پرا دیواک Pradvavaka یعنی قاضی اور راجوک یعنی حاکم ضلع مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ عدالتی نظام انتظامیہ علاحدہ نہیں تھا۔ اس لیے اس کے اندر بے انتہا خرابیاں تھیں۔ اکثر تین یا پانچ قاضیوں پر مشتمل ایک مجلس عدلتی فرائض انجام دیتی تھی۔ مگر ایسی مجلسوں میں مقامی سیٹھ Seth اور کائستھ Kaystha ہوتے تھے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے تھے عدالتی بد عنوانیوں کے حوالے اور تذکرے ملتے ہیں۔ جن سے ظااہر ہوتا ہے کہ یہ محکمہ ابتدائی حالت میں تھا۔
دیہاتوں میں پنچایت ہی مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی، مگر لوگوں کو عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔ اشوک کے عہد تک منو سمرتی کی تالیف نہیں ہوئی تھی اور اس وقت تک دھرم سترہ پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس میں بھی ذات کی تفریق کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا تھا اور قانون کی نظر میں سب برابر نہیں تھے۔ پھر بھی اس میں شدت نہیں تھی۔ اشوک نے اس تفریق کو پسند نہیں کیا اور اس کے عہد میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حثیت وہ نہیں رہی جو دھرم شترہ اور دھرم شاستر میں تھی۔ اشوک نے حاکموں کو حکم دیا کہ عدالتی کارروائی میں مساوات کو ملحوظ رکھیں۔ اگرچہ اس پر عمل بہت کم ہوتا تھا۔
موریہ دور میں مختلف جرائم کی مختلف سزائیں جن میں جرمانہ، قطع اعضاء، جلاوطنی، جائداد کی ضبطی اور قتل کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہلاک کرنے کے مختلف طریقہ رائج تھے۔ مثلاً پھانسی، قتل، پانی میں ڈبو دینا اور جلا دینا۔ مگر اشوک کے دور میں یہ سزئیں برقرار رہیں۔ البتہ اس نے [[سزائے موت]] کے مجرموں کو انتی رعایت ضرور دی تھی کہ ان سزا پر تین دن کے بعد عمل کیا جاتا تھا۔
== تعمیرات و سنگ تراشی ==
موریا دور میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دور میں کثرت سے عمارتیں بنیں۔ مگر وہ زیادہ تر لکڑی کی تھیں اس لیے امتداد زمانہ سے ناپید ہوگئیں۔ صرف اشوک کی چند عمارتوں کے کھنڈر باقی رہے گئے ہیں۔ مگر ان تعمیرات کے سلسلے میں دو غیر ملکی سیاحوں مگھستیز اور فاہیان کے بیانات بے حال ملتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے پاٹلی پٹر بہت ہی بارونق شہر تھا اور یہاں معتدد عالیشان عمارتیں اور قلعے تھے۔ مگھستیز کے بیان کے مطابق یہ شہر نو 9 میل لمبا اور ڈیرھ میل چوڑا تھا اور اس کے کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ 64 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو 005 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔
فاہیان نے ان راہب خانوں اور اسٹوپوں کا بھی ذکر کیا جو اشوک نے اس شہر میں تعمیر کرائے تھے۔
اشوک کے عہد کے سنگ تراشی کے نمونے ستونوں اور غاروں کی شکل میں اب بھی موجود ہیں۔ برابر کے پہاڑ کے غار اشوک سنگ تراش کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی دیواریں اور فرش اتنے صاف اور اتنے چکنے ہیں کہ آئندہ بھی چمکتے رہیں گے۔ اس کے ستونوں میں سارتھ کا ستون خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے اوپر چار بڑے کوفناک شیروں کی شکلیں بنی ہوئی ہیں، جن کی پشت ایک طرف ہے اور وہ ہوشیار کھڑے ہیں۔ ان کے پاؤں کے نیچے دوسرے جانوروں کی چھوٹی شکلیں کھدی ہوئیں ہیں۔ اس طرح اشوک کے وہ ستون جو ایک چٹان سے تراشے گئے ہیں۔ سنگ تراشی کے بہترین نمونے ہیں۔ ان میں بعض پچاس فٹ اونچے اور پچاس ٹن وزنی ہیں۔
اشوک نے اپنے عہد میں کثرت سے اسٹوپے تعمیر کرائے ہیں۔ جن میں صرف نیپال کا اسٹوپہ اپنی اصل شکل میں رہ گیا ہے۔ اس کا داخلی حصہ خام انیٹوں سے اور بیرونی حصہ پختہ حصوں سے بنا ہوا ہے، نیز اس پر موٹی استرکاری ہے۔ سانچی [[ریاست بھوپال]] کے اسٹوپے کے متعلق لوگوں کا خیال کہ وہ اشوک کا تعمیر کردہ ہے۔ پہلے یہ چھوٹا سا تھا بعد میں اس کو وسیع کیا گیا۔ اس قطر 121 فٹ اور بلندی ستر 70 فٹ ہے۔ یہ ایک سنگین چار دیواری سے گھرا ہوا ہے، جس میں چار دروازے ہیں مذکورہ اسٹوپہ کے علاوہ چار اور اسٹوپے اس مقام پر ہیں جو بوعد میں تعمیر ہوئے۔
== زراعت ==
ہندی تہذیب زراعتی تہذیب ہے اس لیے موریہ دور میں اس کی ترقی ترویح کی طرف توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں چندر گپت کے ایک صوبہ دار پوشی گپتPosi gpta کا نام ملتا ہے جس نے کاٹھیاوار کے ایک مقام گرنار میں پھتروں کو کاٹ کر ایک خوبصورت جھیل بنوائی۔ جو سدرشن چھیل Sudarasana lake کے نام سے مشہور ہوئی۔
[[زمرہ:ہندوستان میں تیسری صدی قبل مسیح]]
[[زمرہ:بنگالی شاہی سلاسل]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]