"احسان" کے نسخوں کے درمیان فرق

13 بائٹ کا ازالہ ،  3 سال پہلے
درستی بذریعہ خوب
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
(درستی بذریعہ خوب)
عام طور پر دوسروں سے بھلائی کے ساتھ پیش آنا احسان کہلاتا ہے۔
 
== احسان کا لفظی معنی ==
 
لفظِ احسان کا مادہ ’’ح - س - ن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔
 
امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے، جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے بھی پرکشش ہو۔<ref>راغب اصفہانی، مفردات القرآن : 119</ref>
== قرآن{{زیر}} مجید میں احسان کا مفہوم ==
 
قرآن مجید میں اکثر مقامات پر لفظ ’’احسان‘‘ کے ساتھ علم الاحسان کی اہمیت اور فضیلت کا بیان مذکور ہے۔
 
ارشاد باری تعالٰیٰ ہے :
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی سنگت اختیار کرو۔ ‘‘
 
ان آیات کریمہ میں پہلے تقویٰ کا بیان ہے تقویٰ کیا ہے؟ یہ دراصل شریعت کے تمام احکام، حلال و حرام پر سختی سے عمل کرنے کا نام ہے۔ اس سے پہلے ’امنوا‘ میں عقائد و ایمانیات کا ذکر بھی آ گیا یعنی ایمان و اسلام پر مبنی شریعت کے تمام احکام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ’’احسان‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو طریقت و تصوف کی طرف اشارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان نہ صرف شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کر کے اپنے باطنی احوال کو تقوی کے نور سے آراستہ کریں بلکہ اگر ان کو ایمان، اسلام اور احکام شریعت کی بجاآوری اور تقوی کے کمزور پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو انہیں چاہیے کہ سچے بندوں کی سنگت اختیار کر لیں جو صادقین اور محسنین ہیں اور یہی صاحبان احسان درحقیقت احسان و تصوف کی راہ پر چلنے والے صوفیائے کرام ہیں جو اللہ کے نہایت نیک اور مقرب بندے ہوتے ہیں۔ یہی وہ انعام یافتہ بندے ہیں جن کی راہ کو اللہ نے صراط مستقیم قرار دیا ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں سیدھے رستے کی نشان دہی کرتے ہوئے دعا کرنے کی تلقین فرمائی گئی۔ ارشاد ہوتا ہے۔
 
{{ٹ}}{{ع}}اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ.{{ڑ}}{{ن}} <ref>القرآن، الفاتحہ، 1 : 5، 6</ref>
’’(اسلام یہ ہے کہ) تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالٰیٰ کے سوا کوئی [[عبادت]] کے لائق نہیں اور [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، (اور یہ کہ) تو [[نماز]] قائم کرے اور [[زکوٰۃ]] ادا کرے اور تو ماہ [[رمضان]] کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو اس کے گھر کا [[حج]] کرے۔ ‘‘
 
اس کے بعد جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال [[احسان]] کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
 
{{ٹ}}{{ع}}الإحسان اَنْ تَعْبدَ اﷲَ کَانَّکَ تَرَاهُ، فإنْ لَمْ تَکنْ تَرَاهُ فَإنَّه يَرَاکَ۔{{ڑ}}{{ن}} <ref>{{ٹ}}{{ع}}بخاری، الصحيح : 34، رقم : 50، کتاب الايمان، باب بيان الايمان والاسلام والاحسان و وجوب الايمان<br/> مسلم، الصحيح : 65، رقم : 1، کتاب الايمان، باب سوال جبريل النبی عن الايمان والاسلام ولإحسان و علم اشاعة{{ڑ}}{{ن}}</ref>
 
== احسان کی جامع تعریف ==
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق [[احسان]] [[عبادت]] کی اس حالت کا نام ہے، جس میں بندے کو دیدار الٰہی کی کيفیت نصیب ہو جا ئے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس ہی جاگزین ہو جائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔
 
== امام نووی کا قول ==
43,445

ترامیم