"طوفان" کے نسخوں کے درمیان فرق

67 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
== سائيکلون اور ہريکين ==
اخبارات و رسائل ميں امريکی طوفانوں کی خبروں کے ساتھ ہريکين اور سائيکلون کی اصطلاحات بھی سامنے آئيں۔ تائيوان کی طرف بڑھنے والے ”خانون“ نامی طوفان کو ٹائی فون لکھا گيا۔ آئيے پہلے آپ کو ان اصطلاحات کے معنی بتاتے ہيں
اردو ميں استعمال ہونے والا لفظ ”طوفان“ کئی زبانوں ميں تلفظ کی معمولی تبديلی سے اسی معنی ميں استعمال ہوتا ہے۔ طوفان کا لفظ عربی، فارسی اور اردو ميں ايک ہی معنی اور تلفظ رکھتا ہے۔ يونانی زبان ميں اسے Tuphon(طوفون)، چينی ميں Tai feng (تائی فينگ)، جاپانی ميں Taifu (تائی فو) اور [[پرتگالی زبان]] ميں Tufao (طوفاؤ) کہا جاتا ہے اور ان الفاظ کے معنی تيز ہوا، سيلاب يا طغيانی کے ہيں۔
اسپينی زبان کے لفظ Cyclone کا مطلب دائرہ يا Circle ہے۔ جبکہ ہريکين Hurricane کی وجہ�¿ تسميہ ايک دلچسپ روايت ہے جس کے مطابق قديم جزائر ہند (ويسٹ انڈيز وغيرہ) ميں طوفان برپا کرنے والے ديوتا کو Huracan کہا جاتا تھا۔ چنانچہ تباہ کن طوفان کو ہريکين کہا جانے لگا۔
موجودہ سائنسی زبان ميں ہريکين ايک خاص درجہ کے طوفان کو کہتے ہيں۔ ہر طوفان ہريکين نہيں ہوتا۔ طوفان کو سائيکلون بھی کہا جاتا ہے۔ سائيکلون کی شديد شکل ہريکين ہے۔ سائيکلون کی کئی اقسام ہوتی ہيں۔ ان ميں سے ہريکين کا سبب بننے والے طوفان کو ٹراپيکل سائيکلون کہتے ہيں۔
بحر اوقيانوس (اٹلانٹک اوشين) يورپ و افريقہ اور براعظم شمالی و جنوبی امريکہ کے درميان واقع ہے۔ اس سمندر ميں بننے والے اکثر طوفان ٹراپيکل سائيکلون ہوتے ہيں۔ يہ طوفان افريقہ سے خط استواءکی جانب بڑھنے والی گرم ہواؤں سے بنتے ہيں۔ سائنسدانوں نے گرم ہوائی طوفان يا ٹراپيکل سائيکلون کی شدّت کو سات درجوں ميں تقسيم کيا ہے۔
پہلے درجے ميں طوفان کی شدت 74 سے 95 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے جو عام سی گرج چمک پر مشتمل سائيکلون ہے۔ اگر سائيکلون ميں ہوا کی شدت 96 سے 110 کلوميٹر فی گھنٹہ ہوجاتی ہے تو اسے دوسرے درجہ کا طوفان کہا جاتا ہے۔ اس طوفان ميں عموماً ماہی گيروں کو کشتياں ساحلوں پر لگادينے کی تاکيد کی جاتی ہے اور پانی خشکی پرنہيں چڑھتا۔ تيسرے درجے کے سائيکلون کو ٹراپيکل ڈپريشن کہا جاتا ہے جو معتدل درجہ کا طوفان ہے۔ اس کی شدت 111 سے 130 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ اس طوفان ميں ہوا کی شدت سے بعض درخت زمين سے اُکھڑسکتے ہيں۔ چوتھے درجے کا سائيکلون ہريکين ميں شمار کيا جاتا ہے۔ اس ميں گرج چمک کے ساتھ 131 سے 155 کلوميٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں کے جھکڑ چلتے ہيں۔ يہ طوفان کچے مکانات، درختوں اور کمزور مکانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امريکہ ميں آنے والے کترينہ ہريکين کی شدت ابتداءميں پانچويں درجہ کی تھی۔ ايسے طوفان ميں ہواؤں کی شدت 155 سے 200 کلوميٹر سے زائد تک ہوسکتی ہے۔ يہ سائيکلون پورے پورے شہر مليا ميٹ کردينے کی صلاحيت رکھتا ہے۔ اِسے امريکہ کی خوش قسمتی کہئے کہ کترينہ اپنی پوری قوت کے ساتھ امريکی رياستوں سے نہيں ٹکرايا، بلکہ جنوب سے محض چُہوتا ہوا گزرا۔ 1970ءميں سابق [[مشرقی پاکستان]] (موجودہ بنگلہ ديش) ميں اِسی شدت کا ايک طوفان (190 کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سي) آيا تھا جس ميں ايک اندازے کے مطابق تقريباً دس لاکھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ گنيز بک آف ورلڈ ريکارڈ کے مطابق يہ اب تک معلوم تاريخ کا سب سے جان ليوا طوفان ہے۔
سائنسدانوں نے درجہ 6 اور 7 کے ہريکين کی شدّت کا اندازہ بھی لگايا ہے۔ اﷲ نہ کرے کہ کبھی نوعِ انسانی کو ان درجوں کے طوفانوں سے گزرنا پڑے۔ ايسے ہولناک طوفانوں کا تصور کرکے ہی روح تک کانپ اُٹھتی ہے۔
 
[[فائل:Soil profile.jpg|تصغیر|ہريکين کيسے بنتا ہي؟]]
جس طرح دريا کی سطح پر اگر کوئی اونچ نيچ ہو جائے تو پانی کی روانی ميں خلل پڑجاتا ہے اور اس جگہ بھنور يا گردباد پيدا ہوجاتے ہيں، اس طرح کرہ ہوائی ميں جب ہوائیں چلتی ہيں تو فضا ميں مختلف مقامات پر درجہ�¿حرارت ميں فرق آجانے کے باعث وہاں پر ہوا کے دباؤ ميں فرق پڑجاتا ہے۔ چنانچہ مختلف مقامات پر ہوا کے دباؤ ميں کمی و بيشی سے ہوا کی روانی ميں رکاوٹ واقع ہوکر فضا ميں بھنور سے پيدا ہونے لگتے ہيں، اس کے نتيجہ ميں ہر سمت کی ہوائيں اپنا رُخ بدل ليتی ہيں اور چاروں طرف سے کم دباؤ کے مرکز کی طرف بھنور کی شکل ميں چلنا شروع کرديتی ہيں۔ ہواؤں کے اس بھنور کو ہی سائيکلون يا ہريکين کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
سائنس دان بتاتے ہيں کہ جب ہوا گرم ہو تو يہ زمين سے اوپر کی جانب اُٹھتی ہے اور خالی جگہ پر فوراً ٹھنڈی ہوا آجاتی ہے تاکہ خلاءپورا ہو سکے۔ اس ہوائی چکر سے موسموں ميں توازن پيدا ہوتا ہے۔ افريقہ کے جنوبی علاقوں سے ہوا بحراوقيانوس کی طرف بڑھتی ہے تو افريقی موسم کی وجہ سے يہ ہوا گرم ہوتی ہے۔ سمندر کے ساتھ چلنے والی يہ ہوا بڑی مقدار ميں سمندری بخارات کی تبخير Evaporation کا سبب بنتی ہے۔ اس سے سمندر کا [[درجہ حرارت]] بھی بڑھ جاتا ہے۔ گرم ہواؤں ميں آبی بخارات اور سمندری پانی کی رگڑ سے اشتعال پيدا ہوجاتا ہے۔ ہوا کی رگڑ سے سمندر کی سطح پر ايک بھنور پيدا ہوتا ہے۔ مزيد رگڑ اس بھنور کو ايک بڑے ہيٹ انجن Heat Engine ميں تبديل کرديتی ہے۔ جتنی رگڑ بڑھتی جاتی ہے بھنور کی تيزی ميں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس بھنور کا انتہائی بالائی حصّہ پچاس ہزار فٹ تک چوڑا ہو سکتا ہے۔ بھنور ميں تبديل ہونے کے بعد يہ ہيٹ انجن ہريکين کی شکل اختيار کرليتا ہے۔ يہ ہريکين شديد اور تيز ہوائيں بننے کا سبب بنتا ہے، اِسی کی بدولت شديد عملِ تبخير Evaporation ہوتا ہے جس سے بادل بنتے ہيں۔ يہ طوفانی بھنور يا ہريکين شديد ہواؤں کے جھکڑ اور وسيع بادل بناتا ہے اور ان کی وجہ سے شديد گرج چمک کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ جس خطّے کی طرف اس ہريکين کا رُخ ہوجاتا ہے وہاں تاريکی چھا جاتی ہے اور شديد گھن گرج کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ سمندر ميں يہ بھنور بھونچال لے آتا ہے اور يوں اگر کوئی بدقسمت ساحلی علاقہ يا خشکی اِس کی راہ ميں آجائے تو پھر سمندری لہريں خشکی پر چڑھ دوڑتی ہيں۔
اس طرز کے سائيکلون بڑے سمندروں مثلاً بحراوقيانوس اور [[بحر الکاہل]] (پيسفک اوشين) ميں اکثر بنتے رہتے ہيں۔ يہ سائيکلون کرئہ ہوائی کے لیے مفيد ثابت ہوتے ہيں۔ اگر يہ سائيکلون صرف سمندروں تک محدود رہيں اور خشکی کی طرف نہ بڑھيں تو زمين کے کرئہ ہوائی کو توازن ميں رکھتے ہيں ليکن جب کبھی ان کا رُخ خشکی کی طرف ہو جائے تو اپنی شدت کے لحاظ سے يہ وہاں بعض اوقات خوفناک تباہی پھيلاتے ہيں۔
ايک رپورٹ کے مطابق لوزيانہ اور اس کی قريبی رياستوں پر قيامت برپا کردينے والا طوفان کترينہ پوری قوت سے نہيں ٹکرايا تا بلکہ ان رياستوں کو محض چُہوتا ہوا گزرا تھا، ليکن پھر بھی اس نے امريکہ کی معيشت کو زبردست نقصان پہنچايا اور امريکہ نے کسی بھی [[قدرتی آفت]] کے موقع پر پہلی مرتبہ دوسرے ممالک سے مدد کی اپيل کی۔ اس طوفان ميں بعض مقامات پر 230 کلوميٹر فیگھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی۔ اس شدت کی وجہ سے بہت سے لوگ ہوا ميں اُڑگئے۔
 
== اب ہم دنيا کے چند سمندروں ميں طوفانوں کے امکانات کا جائزہ ليتے ہيں ==
بحيرہ عرب:پاکستان اور جنوب مغربی بھارت بحيرہعرب کے ساحل پر واقع ہے۔ يہ سمندر قدرت کا عظيم تحفہ ہے جس ميں بہت کم ہی کوئی شديد طوفان بنتے ہيں۔ بحيرہعرب ميں جنوری، فروری، مارچ، اپريل، جولائی، اگست اور ستمبر ميں سائيکلون نہيں بنتے۔ جنوب مشرقی اور مرکزی بحيرئہ عرب ميں سائيکلون عموماً مئی، جون، اکتوبر، نومبر اور دسمبر ميں تشکيل پاتے ہيں۔ پاکستان بحيرئہ عرب کے شمال ميں واقع ہے۔ عام طور پر يہ سائيکلون شمال کی طرف نہيں بڑھتے يا شمال مغرب ميں بھارتی گجرات کی طرف بڑھتے ہيں ليکن راستے ميں ہی اکثر اپنی زيادہ تر قوت کھوديتے ہيں۔
خليج بنگال: بحيرہ عرب کے برعکس خليج بنگال کو سرکش سمندر کہا جاسکتا ہے۔ اس ميں جنوری سے مارچ تک شاذ و نادر ہی سائيکلون تشکيل پاتا ہے ليکن باقی مہينوں ميں طوفانوں کی امکانات زيادہ رہتے ہيں۔ جنوبی خليج بنگال ميں بننے والے سائيکلون مغربی يا مشرقی حصہ کی طرف بڑھتے ہيں۔ اس کے مشرق ميں بنگلہ ديش واقع ہے جو اکثر و بيشتر طوفانوں سے نبرد آزما ہوتا رہتا ہے۔ مغرب ميں [[سری لنکا]] واقع ہے۔ خليج بنگال سے اُٹھنے والا سائيکلون مغرب ميں چلے تو سری لنکا ميں [[تامل ناڈو]] کے ساحل سے ٹکراتا ہے۔ خليج بنگال کے سرکش طوفان بحيرئہ عرب کے امن پسند سمندر کی طرف بھی بڑھنے کی کوشش کرتے ہيں ليکن اس سمندر تک پہنچتے پہنچتے کمزور اور تقريباً بے اثر ہوجاتے ہيں۔ اس لیے بحيرہ عرب کے ساحلی شہروں کے لیے خطرہ نہيں بنتے۔ البتہ اپريل سے مئی تک خليج بنگال ميں تشکيل پانے والے سائيکلون بھارتی رياستوں آندھرا پرديش اور اڑيسہ کے لیے ضرور چيلنج بن سکتے ہيں۔
بحرِ اوقيانوس: بحر اوقيانوس کے آس پاس دنيا کے کئی اہم ممالک واقع ہيں۔ اس کے شمال مشرق ميں يورپ کے کئی ممالک اور جنوب مشرق ميں کئی افريقی ممالک واقع ہيں۔ جبکہ جنوب مغرب ميں ويسٹ انڈيز، برازيل اور کئی ديگر ممالک ہيں۔
ٹراپيکل بيلٹ پر ہونے کی وجہ سے امريکہ کے جنوب ميں، ميکسيکو اور کيربين ممالک ميں آنے والے سائيکلون کی تعداد زيادہ ہے۔ بحر اوقيانوس ميں سائيکلون عموماً جون سے نومبر تک اُٹھتے ہيں۔ اگست سے ستمبر تک طاقتور سائيکلون بنتے ہيں جنہيں بجا طور پر ہريکين کہا جاسکتا ہے۔ شمال مشرق ميں واقع يورپ کی طرف اُٹھنے والے سائيکلون عموماً زيادہ طاقتور نہيں ہوتے۔ اسی طرح کينيڈا اور امريکہ کے شمالی علاقوں ميں بھی طوفانوں کی زيادہ شدت نظر نہيں آتی۔ جيسا کہ پہلے بھی ہم نے بيان کيا تھا کہ عموماً امريکہ کی جنوبی رياستوں، ميکسيکو اور کيريبين ممالک ميں اُٹھنے والے طوفان زيادہ شديد ہوتے ہيں۔ حال ہی ميں امريکہ ميں تباہی پھيلانے والا کترينہ نامی طوفان بھی اسی حصّہ سے اُٹھا تھا۔
[[زمرہ:موسمی مخاطر]]
[[زمرہ:موسمیات کے بنیادی تصورات و مظاہر]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]