"نماز جنازہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: خودکار درستی املا ← کے لیے، کر دے، ان کے، اس کو، اس ک\1، دعا
م (خودکار: ویکائی > تکبیر تحریمہ)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کے لیے، کر دے، ان کے، اس کو، اس ک\1، دعا)
# دوسری [[تکبیر تحریمہ]] کہے اور اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھے۔ اور دعا استفتاح نہ پڑھے پھر فاتحہ کی قراءت کرے۔
# تیسری تکبیر کہے اور نبی ﷺ پر درود بھیجے جیسے آخری تشھد میں پڑھا جاتا ہے۔
# چوتھی تکبیر کہے اور اپنے لیے میّت کیلئےکے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے اور دعا یہ ہے "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ"[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]
اور اگر میّت عورت ہو تو ضمیر مؤنث کو دعا میں لائے اور اگر میّت بچہ ہو یا سقط (پورا ہونے سے پہلے گر گیا) تو یہ دعا پڑھے" اللهم اجعله ذخرًا لوالديه، وفَرَطًا [الفرط: پہلا اور آگے] ، وأجرًا، وشفيعًا مجابًا"
 
# زیادہ صفیں بنانا، تین یا اس سے زیادہ
# آہستہ قراءت کرنا
# میّت کو اُٹھانا، اسکےاس کے ساتھ چلنا اور اس کو دفن کرنا
جب نماز جنازہ ختم ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ جلدی سے میّت کو اسکیاس کی قبر کی طرف اٹھایا جائے۔اور پیچھے چلنے والوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ بھی جنازہ اٹھانے میں شریک ہوں,اور میّت کو قبر میں اتارنے والے کے لیے مسنون ہے کہ یہ پڑھے " بسم الله، وعلى ملة رسول الله ", اسکواس کو لحد میں دائیں پہلو پر لٹائے اور اسکااس کا چہرہ قبلہ رخ کر دے پھر کفن کی گرہ کھول دے۔پھر مٹی کے ساتھ قبر کے سوراخ بند کردےکر دے,دفن میں حاضر ہونے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں تین دفعہ مٹی لے اور قبر پر ڈال دے پھر قبر کو مٹی کے ساتھ ڈھانپ دیا جائے اور قبر کو زمین سے ایک بالشت کی مقداربلند کیا جائے اور اس پر کنکریاں اور پتھر رکھ دیے جائیں اور پانی چھڑک دیا جائے اور قبر کے کسی ایک طرف پتھر رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے یا دونوں طرف تاکہ قبر کا پتہ چل سکے۔
 
== تعزیّت کرنا ==
میت کے اہل و عیال چونکہ غم زدہ ہوتے ہیں انکےان کے پاس تعزیت کے لیے جانا مستحب ہے تاکہ ان کے غم میں شریک ہو کر ان کے غم کو ہلکا کیا جاسکے اور انکو صبر کی تلقین کی جائے, تعزیت کسی بھی کلمات سے کی جا سکتی ہے جیسا کہ وہ یہ کہے کہ اللہ ہی کا تھا جو اس نے لے لیا اور اللہ ہی کے لیےہے جو وہ عنایت کرتا ہے۔ " اسکےاس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ پس آپ صبر کریں اور اپنا احتساب کریں "۔ [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]اور اگر کہے " أعظم الله أجرك، وأحسن عزاءك وغفر لميتك "وغیرہ۔
 
== جنازوں کے ساتھ عورتوں کا نکلنا ==
 
== قبروں کی زیارت کرنا ==
مُردوں کے لیے دعا اور نصیحت کی غرض سے قبروں کی زیارت کرنا مسنون ہے آپ ﷺ نے فرمایا " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ پس تم زیارت کرو بے شک وہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی ",اور قبر کی زیارت کے وقت یہ دعاءدعا منقولہ پڑھے " السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإِنا إِن شاء الله بكم لاحقون " <ref>[اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیاہے]</ref>
یا " السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين، وإِنا إِن شاء الله بكم للاحقون " <ref>[ اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیاہے]</ref> " أسأل الله لنا ولكم العافية "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]
اگر مُردوں کےلیے اپنے الفاظ میں مغفرت اور رحمت کی دعاءدعا کردی تو یہ بھی کوئی حرج نہیں ہے
 
 
111,622

ترامیم