"ذکر (اسلام)" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(مواد)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ آئی فون ایپ ترمیم)
'''ذکر''' سے مراد اللہ تعالی کو یاد کرنا ہے۔ اور یہ عبادات دین اسلام میں سے ایک عبادت ہے۔ قرآن مجید میں آتا ہے اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیا کرو (<ref>احزاب : ۴۱41-۴۲)42</ref> اس کے علادہ بھی بہت سی آیات میں ذکر کا حکم آیا ہے ۔ہے۔ حضرت ابی ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللهاللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حق تعالی کا فرمان ہے کہ میں بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کهکہ وہ میرے ساتھ گمان کرتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگروہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اس مجمع سے بہتریعنی فرشتوں کے مجمع میں تذکرہ کرتا ہوں اور اگر بندہ میری طرف ایک بالشت متوجہ ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ بڑھاتا ہے تو میں دو ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگروهاگروہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں (ہوں۔<ref>بخاری، مسلم، ترمذی</ref> رسول اکرم صلعم نے فرمایا کہ اللهاللہ تعالی کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت ایسی ہے جو مجالس فکر کی تلاش میں گھومتی پھرتی رہتی ہے۔ اور جب کبھی وہ فرشتے مجلس فکر کو پاتے ہیں تو اصحاب مجلس کے اندر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پیروں سے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ زمین اور پہلے انسان کے درمیان میں کی تمام کائنات ان سے بھر جاتی ہے اور جب وہ منتشر ہوتے ہیں تو فرشتے آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ عزوجل اپنے علم کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم کہاں سے آئے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم روئے زمین میں تیرے ایسے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح تکبیر، تہلیل اور حمد بیان کر رہے تھے (تھے۔<ref>مسلم</ref> نبی اکرم صلعم کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جونہیں کرتا،ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے کہ ذکر کرنے والا زندہ ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہمردہ۔<ref>مسلم، (مسلم ، بخاری ،مشکوةبخاری، )مشکوۃ</ref>
 
== ذکر کے فضائل ==
مشہور محدث حافظ ابن قیّم نے اپنے رسالہ" "الوابل الّصّیب” میں ذکر کے فضائل یہ بیان کئے ہیں:
[[زمرہ:اسلامی عقائد اور اصول]]
[[زمرہ:عربی الفاظ اور جملے]]