"وزیر اعظم بھارت" کے نسخوں کے درمیان فرق

اضافہ مواد
(اضافہ مواد)
(اضافہ مواد)
 
دیگر تمام [[پارلیمانی نظام ]] کی طرح صدر کے فرائض زیادہ تر رسمی ہیں جب تک کابینہ اور مقننہ کہ دستور اور قانون کے پا بند ہیں اور ان پر عمل پیرا ہیں۔ بھارت کا وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہے اور اس کے پاس ہی سب سے زیادہ انتظامی اختیارات ہیں۔ صدر کی قانونہ ذمہ داری ، دفعہ 60 کے مطابق دستور اور قانون کی حفاظت کرنا اور اس کا بچاو کرنا ہے۔ آئین ہند میں وزیر اعظم کا تذکرہ صرف چار مقامات ( دفعہ 74، 75، 78، اور 366) پر کیا گیا ہے، حالانکہ وزیر اعظم کو [[لوک سبھا]] میں اکثریت حاصل ہوتی ہے اور وہ [[حکومت ہند]] میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
== تقرر، مدت اور برطرفی ==
=== اہلیت ===
دستور ہند کی دفعہ 84 رکن پارلیمان کی بنیادی اہلیت کو بتاتا ہے، اور دفعہ 75 وزرا کی کونسل کی اہلیت کو بتاتا ہے، ان دونوں دفعات کے مطابق بھارت کا وزیر اعظم کے لئے ضروری ہے کہ وہ :
* [[بھارت کا شہری]] ہو۔
* [[لوک سبھا]] یا [[راجیہ سبھا]] کا رکن ہو، اگر وہ دونوں میں سے کسی کا بھی رکن نہیں ہے حلف لینے کے بعد 6 ماہ کے اندر دونوں میں سے کسی کا رکن ہونا ضروری ہے۔
* اگر [[لوک سبھا کا رکن]] کے تو 25 سال اور اگر [[راجیہ سبھا کا رکن]] ہے تو 30 سال کونا ضروری ہے۔
* حکومت ہند یا کسی صوبائی حکومت کے تحت کسی نفع بخش عہدہ کا متحمل نہ ہو۔
اگر امیدوار وزیر اعظم منتخب ہوجا ہے تو اسے تمام حکومتی اور غیر حکومتی عہدہ سے استعفی دینا لازمی ہوگا، ایسا دستور کے تیسرے فہرست بند میں مذکور ہے۔
 
=== دفتر اور راز داری کا حلف ===
وزیر اعظم کو دفتر سنبھالنے سے قبل [[صدر بھارت]] کے سامنے دفتر اور رازداری کا حلف لینا ضروری ہے، ایسا تیسرے فحرست بند میں مذکور ہے۔
{{اقتباس| میں (نام) خدا کے نام سے حلف اٹھاتا ہوں/ اقرار صالح کرتا ہوں کہ میں بھارت کے آئین پر جو قانون کے بموجب طے پایا ہے اعتقاد رکھوں گا اور اس کا وفا دار رہوں گا، میں بھارت کے اقتدار اعلیٰ اور سالمیت کو برقرار رکھوں گا، میں و یونین کے وزیر کی حیثیت سے اپنے فرائض وفاداری اور دیانتداری سے انجام دوں گا اور میں ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ آئین اور قانون کے بموجب بلا خوب یا رعایت، عناد یا شفقت انصاف کروں گا۔| آئین ہند، تیسرا فہرست بند، حصہ 1}}
 
رازداری کا حلف:
{{اقتباس| میں (نام) خدا کے نام سے حلف اٹھاتا ہوں/ اقرار صالح کرتا ہوں کہ کسی امر کی جو یونین کے وزیر کی حیثیت سے میرے زیر غور لایا جائے یا میرے علم میں آئےکسی شخص یا اشخاص کو سوائے اس کے کہ ایسے وزیر کی حیثیت سے میرے فرائض کی مناسب انجام دہی کے لئے ضروری ہو براہ راست یا بلاواسطہ نہ اطلاع دونگا اور نہ ظاہر کرونگا۔| آئین ہند، تیسرا فہرست بند، حصہ 2}}
 
==== مدت اور برطرفی ====
وزیر اعظم صدر کی مرضی سے مطابق کام کرتا ہے، لہذا، ایک وزیر اعظم غیر معینہ مدت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک کہ اسے صدر کا اعتماد حاصل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کو لوک سبھا کا اعتماد حاصل ہونا بھی ضروری ہے۔
وزیر اعظم کا دور لوک سبھا کے دور سے پہلے بھی ختم ہو سکتا ہے اگر اس کے ارکان کی آسان اکثریت کا اعتماد اسے حاصل نہ ہو، اسے [[تحریک عدم اعتماد]] کہا جاتا ہے۔ <ref>{{Cite web|url=https://www.indiatoday.in/magazine/cover-story/story/19870515-under-the-constitution-does-the-president-have-the-right-to-remove-the-prime-minister-798837-1987-05-15|title=Under the Constitution, does the President have the right to remove the Prime Minister?|last=Gupta|first=Surajeet Das|last2=Badhwar|first2=Inderjit|date=15 مئی 1987|website=[[انڈیا ٹوڈے]]|publisher=[[Aroon Purie]]|issn=0254-8399|access-date=10 اپریل 2018}}</ref> وزرائے اعظم جیسے [[اندر کمار گجرال]]، <ref name=":9" /> [[ایچ ڈی دیوے گوڑا]] اور [[اٹل بہاری واجپائی]] اس میں ناکام ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے عہدہ سے استعفی بھی دے سکتا ہے۔ [[مورار جی دیسائی]] اپنے عہدہ سے استعفی دینے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔