"نوشہرہ (خیبر پختونخوا)" کے نسخوں کے درمیان فرق

م (خودکار: خودکار درستی املا ← ان کے)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
وزیرگڑھی میں شیخ عبد المنان عرف شیخ جی مبارک وزیرگڑھئی باباجی کے مریدین آج بھی نہ صرف علاقہ پبی بلکہ درہ آدم خیل ،لنڈی کوتل،اکبرپورہ ،خوشمقام تک موجود ہیں آپ 1800 کی صدی میں وزیر گڑھی آئے اور 1920کو اس فانی دنیا سے رحلت کر گئے ،شیخ جی مبارک کا مزار ان کے بنائی مسجد جامع مسجد محلہ شیخان وزیرگڑھی کے قریب قبرستان میں واقع ہے اور اس علاقے میں علم کی لگائی شمع آج مدرسہ قریۃ الہدیٰ کی صورت موجود ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر گڑھی دینی تعلیم میں اپنی اہمیت رکھتا ہے اور مردو خواتین قران پاک کی تعلیم سے روشناس ہیں۔ وزیرگڑھئی باباجی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ 18ویں صدی کے آواخر میں اپنے خاندان سمیت پشاور کے علاقہ ماشوخیل سے ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہوئے تھے اور انکی علمی و روحانی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے مکینوں نے اس خاندان کو انتہائی محبت دی اور وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے
== فوجی سنٹر ==
نوشہرہ دفاعی لحاظ سے کافی اہم ہے یہاں کئی قابل ذکر فوجی مراکز ہے جن میں سے کچھ اہم درجہ ذیل ہے
نوشہرہ فوجی ٹريننگ و تربيت گاہ اور ريلوے لوکو موٹو فيکٹری کي بنا پر بہت اعليٰ مقام رکھتا ہے۔ یہاں دو فوجی سنٹر [[انجینئرنگ سنٹر]] اور سپلائی سینٹر موجود ہیں
1 : SSG کمانڈو ٹریننگ سنٹر چراٹ
2 :PAF ایئرفورس اکیڈمی رسالپور
3 :آرمی انجینیرنگ کالج رسالپور
4 :ASC آرمی سپلائی کور نوشہرہ کینٹ
5 :AC آرمرڈ کور نوشہرہ کینٹ
 
اور ایک [[پاک فضائیہ]]کا ٹریننگ سینٹر ہے
 
يہاں صنعتوں کو مزيد فروغ دینے کے زریں مواقع موجود ہيں۔ اس ضلع نے افغان مہاجرين کو پناہ دينے ميں بہت اہم کردارادا کيا ہے۔ يہاں افغان مہاجرين کو آباد کرنے کيلئے بڑے بڑے کيمپ بنائے گئے ہيں۔ مضبوط صنعتي بنياد کے ساتھ ساتھ بہترين افرادي قوت اورسياحوں کي دلچسپي کے لیے تاريخي مناظر موجود ہيں۔ دريائے کابل نوشہرہ کے ساتھ بہتا ہے اور کنڈکے مقام پر دو درياؤں، [[دريائے کابل]] اور [[دريائے سندھ]] کا سنگھم ايک قابلِ ديد نظارہ پیش کرتا ۔
== تحصیل پبی ==
تحصیل پبی نوشہرہ کے بڑے تحصیلوں میں شمار ہوتی ہے جو کم و بیش 47دیہات پر مشتمل ہے علاقہ جات[[جلوزئی]] ،وزیرگڑھی ،امان کوٹ، تاروجبہ، [[اماخیل|اضاخیل،]] ڈاگ بہ سود،چراٹ ،ڈاگ اسمعیل خیل اہم مقامات میں سے ہیں ،زراعت کے لحاظ سے مشہور ہے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی اس علاقہ کے مکینوں کا اہم ذریعہ معاش ہے۔