"عزالدولہ عبدالرشید" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
== عہد حکومت ==
[[سلطان]] [[مودود غزنوی]] نے عبدالرشید کو بست اور اسفرائن کے مابین ایک قلعہ میں قید کروا دیا تھا۔ [[بہاؤ الدولہ علی بن مسعود غزنوی]] کے بعد عبدالرزاق بن احمد حسن میمندی نے اثنائے سفر میں سلطان [[مودود غزنوی]] کے انتقال کی خبر سنی تو سیستان کی مہم کو ملتوی کرکے مگیاباد کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں چند دِن قیام کرکے آخر [[443ھ]] مطابق [[1051ء]] میں میمندی نے خواجہ ابوالفضل، رشید بن التونتاش اور توستگین وغیرہ کے مشورے سے اور سلطان [[مودود غزنوی]] کی وصیت کے مطابق عبدالرشید کو قیدخانے سے نکال کر [[سلطان]] مقرر کردیا۔ یہیں سے میمندی نے عبدالرشید اور دوسرے امراء کو ساتھ لیا اور [[غزنی]] کا سفر اختیار کیا۔ ابوالحسن نے جب عبدالرشید کی آمد کی خبر سنی تو وہ اِس قدر بدحواس اور خوفزدہ ہوا کہ بغیر کسی جنگ کے تاج و تخت چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ عبدالرشید نے میدان خالی پایا اور کسی روک ٹوک کے بغیر ہی تخت نشیں ہوا اور حکمرانی کرنے لگا۔ عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی سب سے پہلے عبدالرشید نے ابوالحسن کو گرفتار کرلیا اور اُسے وندیرود کے قلعہ میں قید کردیا۔ اُس کے بعد اُس نے علی بن الربیع کو جس نے مکملاً ہندوستان پر قبضہ کررکھا تھا اور سلاطین غزنویہ کے سامنے آنا پسند نہ کرتا تھا، کو اپنے پاس بلالیا اور اطمینان دِلایا۔ علی بن الربیع کے معاملے کو اِس خوش اسلوبی سے نباہ کرکے عبدالرشید نے [[ہندوستان]] کی طرف توجہ کی اور توستگین کو سپہ سالار بنا کر ایک زبردست لشکر کے ساتھ [[لاہور]] کی طرف روانہ کیا۔
 
== وفات ==