"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

238 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
 
== قاتلان عثمان کون؟ ==
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج میں ایک تعداد باغیوں اور قاتلان عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی اس لیے وہ خود بھی بے بس تھے کہ ان سے کس طرح جان چھڑا سکیں۔ ان فوجیوں اور باغیوں کے بارے میں علی رضی اللہ تعالی عنہ کے الفاظ پڑھیے جو ـ"نہج البلاغہ "میں نقل ہوئے ہیں۔ "میں روز اول سے تمھاری غداری کے انجام کا انتظار کر رہا ہوں اور تمھیں فریب خوردہ لوگوں کے انداز سے پہچان رہا ہوں"(صفحہ 45)
"میں تو تم میں سے کسی کو لکڑی کے پیالہ کا بھی امین بناؤں تو یہ خوف رہے گا کہ وہ کنڈا لے بھاگے"(صفحہ 69)
"اپنے اصحاب کی سرزنش کرتے ہوئے(قوم)کب تک میں تمھارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کروں خد ا کی قسم ذلیل وہی ہوگا جس کے تم جیسے مددگار ہوں گے۔ خدا تمھارے چہروں کو ذلیل کرے۔"(صفحہ 119)
"خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ معاویہ مجھ سے درہم و دینار کا سودا کرلے کہ تم میں سے دس لے کر ایک دے دے۔(صفحہ 189)
اس طرح کے اقوال سے جو علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منسوب نہج البلاغہ میں بکھرے پڑے ہیں، کو پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنی فوج کے باغیوں سے تنگ تھے اور ان کا مکر و فریب اور ان کی بغاوت کو خوب جانتے تھے لیکن بے بس تھے۔
مورخوں نے ایک اور واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ جنگِ جمل سے قبل یا فوراً بعد کچھ مخلص مسلمانوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کی کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ان رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج میں آزادی سے پھر رہے ہیں اور وہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔ اس پر علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آدمیوں سے پوچھا کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کون ہیں؟ کم و بیش 12 ہزار آدمی اٹھ کر کھڑے ہوئے اور چلاچلا کر کہنے لگے "میں ہوں۔ میں ہوں۔"<ref>[http://ebooks.i360.pk/2013/11/06/jang-jamal-aur-jang-sufain-ka-yahudi/ جنگ جمل اور جنگ صفین کا یہودی پس منظر]</ref> یہاں اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ قاتلان عثمان کی گرفتاری کے لیے اپنی نیک دلی کے باوجود علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ آزادی حاصل نہیں تھی جو ایک حکمران کو حاصل ہونی چاہئیے۔
 
== حوالہ جات ==
گمنام صارف