"ناطق گلاؤٹھوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: خودکار درستی املا ← ہو گیا، پزیر، ہو گئی، دار العلوم، ہو گئے، غور و فکر، کر لیا، خط کتابت
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← ہو گیا، پزیر، ہو گئی، دار العلوم، ہو گئے، غور و فکر، کر لیا، خط کتابت)
 
== سوانح ==
ناطق [[11 نومبر]] [[1886ء]] کو [[کامٹی]] میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سیدابوالحسن تھا مگر ناطق گلاؤٹھوی کے نام سے شہرت پائی۔ [[ناگپور]] شہر میں ناطق کے آباؤ اجداد آباد تھے۔ اِن کے بزرگ [[احمد شاہ ابدالی]] کے ساتھ [[ہندوستان]] آئے تھے۔ ناطق کے دادا سید غلام غوث وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے اور اِسی سلسلے میں مدتوں [[میرٹھ]] میں مقیم رہے۔ پھر خانداان نے گلاؤٹھی، [[ضلع میرٹھ]] میں سکونت اِختیار کرلی اور یہاں اِس خاندان کی کافی بڑی جائداد اور زمینداری تھی۔ ناطق کے والد سید ظہورالدین نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا۔ وہ وسیع پیمانے پر لکڑی کا کاروبار کرتے تھے۔ اِسی سلسلے میں وہ [[کامٹی]] میں سکونت پذیرپزیر تھے کہ ناطق کی پیدائش ہوئی۔ ناطق کے والد سید ظہورالدین کا انتقال [[1905ء]] میں ہوا۔<ref>[[مالک رام]]: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 117/118۔ مطبوعہ [[دہلی]]</ref>
 
=== تعلیم ===
ناطق کی تعلیم اُس زمانے کے مطابق گھر پر ہی ہوئی۔ قدرتاً [[فارسی زبان]] اور [[عربی زبان]] پر خاص توجہ رہی۔ اُنہوں نے دونوں زبانوں کی تکمیل دارالعلومدار العلوم دیوبند میں کی۔آخری دورۂ [[حدیث]] شیخ الہند مولانا محمودالحسن دہلوی سے پڑھا۔ وہیں طب بھی اُن کے برخوردار حکیم احمد حسن عرف حکیم بڈن سے حاصل کی۔ بعد ازاں ناطق روزمرہ کے کام کاج کے لیے انگریزی زبان سے بھی اپنے طور پر واقفیت حاصل کرتے رہے۔
 
=== سخن گوئی ===
ناطق نے خالہ زاد بھائی سید معشوق حسین اطہرہاپوڑی کے مشورے سے سخن گوئی کا آغاز کیا مگر اُن سے صلاح و مشورہ نہیں لیا۔ شعرگوئی کے لیے ناطق نے بیان ویزدانی مرحوم (متوفی [[1900ء]]) کی شاعری کا انتخاب کیا جو اُساتذہ وقت میں درجہ خاص کے استاد تھے، لیکن چند ماہ بعد ہی وہ انتقال کرگئے۔ اِسی زمانے میں [[امیر مینائی]] بھی فوت ہوگئے۔ہو گئے۔ اتفاق سے ناطق کو [[داغ دہلوی]] کے دو دِیوان گلزارِ داغ اور آفتابِ داغ ہاتھ لگے۔ اُنہیں دیکھا تو یہ [[داغ دہلوی]] کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ تھوڑے ہی دِنوں میں [[داغ دہلوی]] سے خط و کتابت کے ذریعہ سے تلمذ اختیار کرلیا۔کر لیا۔ بعض اصحاب نے اُنہیں جلال لکھنوی کی شاگردی اختیار کرنے کا مشورہ دیا مگر وہ [[داغ دہلوی]] کی بجائے کسی کے شاگرد نہ ہوئے۔ناطق نے مشق سخن، غوروغور و فکر سے خود درجہ اُستادی حاصل کرلیا۔کر لیا۔
 
== وفات ==
ناطق کی اواخر عمر کسمپرسی میں گزری۔ اولاد میں چھ بچے ہوئے، تین بیٹیاں اور تین بیٹے مگر سب ناطق کی زندگی میں ہی چل بسے۔ چار بچے تو کمسنی میں ہی فوت ہوگئےہو گئے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک بیٹی گھربار والے ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔ صدمات ذہنی و جسمانی نے اُنہیں کہیں کا نہ چھوڑا، چھ مہینے تک بستر پر پڑے پڑے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے تھے۔ اعضا بیکار ہوگئےہو گئے اور حافظہ رخصت ہوگیا۔ہو گیا۔ نقل و حرکت تک معذور ہوچکے تھے۔ سلسل البول کا مرض لاحق ہوا اور حبس بول کے مرض کی شکایت پیدا ہوگئی۔ہو گئی۔ علاج کے لیے اسپتال داخل کروایا گیا۔ جب افاقہ ہوا تو گھر پر آگئے۔ گھر پر علاج جاری رہا مگر کمزور ہوگئےہو گئے تھے ۔[[26 مئی]] [[1969ء]] کی شام حالت تشویشناک ہوگئیہو گئی اور زبان بند ہوگئی۔ہو گئی۔ نصف شب کے وقت آخری ہچکی لی اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔ہو گئے۔<ref>[[مالک رام]]: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 120۔ مطبوعہ [[دہلی]]</ref>
 
== حوالہ جات ==
111,622

ترامیم