"آئین پاکستان میں پچیسویں ترمیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
آئین پاکستان میں 25ویں آئین ترمیم 2018 میں منظور ہوئی جس کی وجہ سے آئینی طور پ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
 
[[آئین پاکستان]] میں 25ویں آئین ترمیم 2018 میں منظور ہوئی جس کی وجہ سے آئینی طور پاکستان کے سابقہ [[قبائلی علاقہ جات]] صوبہ [[خیبر پختونخوا]] میں شامل ہوئے۔ آئین ترمیم ایک طویل المدت مطالبے، تحریکوں اور قبائلی علاقوں کی پسماندگی کو سامنے رکھ کر کی گئی۔ ترمیم کے بعد اب قبائلی علاقہ جات باضابطہ طور پر [[پختونخوا]] کا حصہ ہیں۔ 25ویں آئینی رمیم نے ایف سی آر قانون جسے اکثریتی مقامی آبادی سابقہ انگریز حکمرانوں کا کالا قانون سمجھتی تھی، کو یکسر ختم کیا اور [[عدالت عظمی پاکستان]] اور [[پشاور عدالت عالیہ]] کا دائرہ اختیار سابقہ قبائلی علاقوں تک وسیع کیا۔
 
==مزید دیکھیے==
* [[آئین پاکستان]]
{{آئین پاکستان}}