"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
املا
(Muhammad Umair Mirza (تبادلۂ خیال) کی 3608643ویں ترمیم کی جانب واپس پھیر دیا گیا۔ (پلک))
(ٹیگ: رد ترمیم)
(املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ آئی فون ایپ ترمیم)
 
== پس منظر ==
حضرت عثمان اسلام کے تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ کے دور میں یہودیوں نے "منافقت " کا راستہ بڑے پرعزم طریقے اور منصوبہ بندی سے اختیار کیا۔ طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی [[عبداللہ بن سبا]] نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور درودورد و وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔
جب اس نے دیکھا کہ علی نبی {{درود}} کے بہت قریبی رشتہ دار ہیں اگر ان کے نام پر عثمان کے خلاف کام کیا جائے تو بڑا کامیاب ہوگا۔ عرب میں عبد ﷲ بن سبا اپنا کام نہ کرسکا کیونکہ یہاں صحابہ کی کافی بڑی تعداد موجود تھی اس لیے اس نے عراق کے علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن یہاں پر اب بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت تھی۔ وہاں جاکر عبد اﷲ بن سبا نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیا بات کہ نبی {{درود}} کے رشتہ دار یعنی علی تو یوں ہی بیٹھے رہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ ابھی وقت ہے کہ عثمان کو ہٹا کر علی کو خلیفہ بنادو۔ لیکن چونکہ بصرہ عراق میں صحابہ کی بہت ہی تھوڑی تعداد تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے کوئی عبد ﷲ بن سبا کی باتوں کا جواب نہ دے سکتا اگر وہ ہوتے تو کچھ جواب دیتے لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متاثر ہوکر عثمان کے خلاف ہوتے گئے۔ جب بصرہ کے گورنر عبد ﷲ بن عامر کو عبد ﷲ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی تو اس کو بصرہ سے نکال دیا اور یہ پھر کوفہ پہنچ گیا۔ وہاں سے بھی نکلوادیا گیا پھر یہ شام پہنچا لیکن وہاں معاویہ گورنر تھے جنھوں نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔ عبد ﷲ بن سبا کو چونکہ تمام اسلام دشمن لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لیے وہ اس کام کو چلانے کے لیے پروپیگنڈہ کرتا رہا۔ عبد ﷲ بن سبا شام سے نکالے جانے کے بعد مصر پہنچا اور وہاں کام شروع کیا اور ایک اچھی خاصی جماعت بنالی جو عثمان کے خلاف ہو گئے۔
عبد اللہ بن سباحجاز، بصرہ، کوفہ، شام، مصر میں لوگوں کو اپنے بناوٹی تقویٰ سے متاثر کر چکا تھا وہ خصوصاً ان لوگوں کی ٹوہ میں رہتاجنہوں نے موقع پرستی کے لیے اسلام کا لیبل اپنے اوپر لگا لیا تھا لیکن دراصل وہ اس کی جڑیں کاٹنے کے درپے تھے۔ جب اس نے ایسے بہت سے افراد جمع کرلیے تو اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا جو سادہ مگر دور رس اثرات کا حامل تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی وہ اس کے اشارے کے منتظر رہیں۔ اس نے ایک خط تیار کیا جو ہر علاقے میں اس کے معتمدینِ خاص کو دوسرے علاقوں کے معتمدینِ خاص کی طرف سے پہنچایا گیا۔ اس میں لکھا تھا "پیارے بھائی۔ آپ خوش قسمت ہیں آپ کے علاقے میں اسلام زندہ ہے۔ گورنر دیانت دار ہے، انتظامیہ منصف مزاج ہے جبکہ میرے علاقے میں اسلام مردہ ہوچکا ہے۔ کوئی شخص اس پر عمل پیرا نہیں۔ گورنر شرابی اور عورتوں کا رسیا ہے۔ انتظامیہ بدعنوان ہے۔ بہتری کا کوئی امکان نہیں۔"
اگلے روز نماز کے بعد علی رضی اللہ تعالی عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر اور بے گناہ خلیفہ کے بہیمانہ قتل پر دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ شاید سب سے پہلے چیخنے والے سبائی ایجنٹ ہی ہوں جنہوں نے کہا " صرف آپ ہی اس کے مستحق ہیں، کیونکہ آپ سب سے اچھے مسلمان ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کہنے والے سچے مسلمان ہی ہوں تاہم اس موقع پر کوئی اور نام سامنے نہ آیا اور لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کرنا شروع کردی۔ باغیوں نے دیکھا کہ بعض ممتاز اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم اس موقع پر خاموش رہے اور انہوں نے کسی قسم کی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ان میں زید رضی اللہ تعالی عنہ بن ثابت، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ، زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ اور صہیب رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے۔ باغیوں کو سب سے زیادہ خدشہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے تھا۔ اس لیے وہ ان دونوں کو بہ نوکِ شمشیر مسجد میں لائے اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت نہ کی تو وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ جب باغیوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ لا تعلق اور مصالحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ان سے بعد میں بیعت لے لیں گے۔ چنانچہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے جبر اور دباؤ کے تحت بیعت کی۔
 
== جنگ جمل کی وجوہات ==
عام لوگوں کو توقع تھی کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کا آغاز ہی قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی گرفتاری سے کریں گے مگر دن اور ہفتے گزرنے لگے اور ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ مدینہ کا کنٹرول عملی طور پر باغیوں کے ہاتھ میں تھا اور علی رضی اللہ تعالی عنہ باغیوں کی مرضی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے۔