"ابو طالب بن عبد المطلب" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
أبومُحّمَدْ (تبادلۂ خیال) کی ترامیم محمد شعیب کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (أبومُحّمَدْ (تبادلۂ خیال) کی ترامیم محمد شعیب کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔)
(ٹیگ: استرجع)
 
== قبولیتِ اسلام و ایمان ==
آپ نے [[اسلام]] قبول کیا یا نہیں، ایک متنازع موضوع ہے۔ آپ نے تاحیات اشاعت اسلام میں حضور {{درود}} کا ساتھ دیا اور ان کی [[بت پرستی]] کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی جبکہ سیرت ابن ہشام میں ان کے کلمہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ {{حوالہ درکار}} عبد المطلب کی وفات (578ء) کے بعد انہوں نے ہی حضور {{درود}} کی پرورش کی۔ آپ کی تقلید میں [[ابولہب]] کے سوا باقی تمام بنو ہاشم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پشت پناہ بنے رہے اور حضور اکرم {{درود}} کی خاطر بڑی سختیاں جھیلیں۔ [[خدیجہ بنت خویلد|خدیجہ بنت خویلد رض]] کے ساتھ رسول اللہ {{درود}} کا نکاح انہوں نے ہی پڑھایا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا۔<ref name="سیرت ابن ہشام"/>
سیرت ابن ہشام کے مطابق وفات کے قریب آپ نے کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا تھا۔<ref name="سیرت ابن ہشام"/> تاہم کئی مؤرخین ان کے قبول اسلام کو مستند نہیں سمجھتے اور رسول اللہ {{درود}} کا نکاح پڑھانے کو قبولیت اسلام کی دلیل نہیں سمجھتے۔ {{حوالہ درکار}}
ایمان ابو طالب پر علامہ [[صائم چشتی]] اور [[طاہرالقادری|طاہر القادری]] نے بڑے سکہ بند حوالوں کے ساتھ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو ایمان ابوطالب پر کیے جاتے ہیں۔ دونوں علما مسلک اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کتب کے مطابق عبد المطلب کے دس بیٹے تھے جن میں عبد اللہ آخری نمبر پر تھے اور سب بھائیوں میں بہت زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ ان کا انتقال حضور {{درود}} کے ولادت سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ جب ہاشمی خاندان میں آقا {{درود}} کی کفالت کا معاملہ اٹھا تو عبد المطلب نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان سب کے دلوں پر روحانی نظر دوڑائی اور ابو طالب کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے میرے بیٹے میں نے تیرے دل میں اپنے پوتے محمد {{درود}} کی محبت کو دیکھا ہے اس لیے اس کی کفالت تمہارے ذمے ہے اس دن سے ابوطالب نے محمد {{درود}} کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آقا {{درود}} کی پرورش شروع کردی۔ آپ کسی بھی وقت اپنے بھتیجے کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ آپ کی زوجہ [[فاطمہ بنت اسد]] بھی آقا {{درود}} سے والہانہ محبت کرتی تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان انتقال ہوا تو محمد {{درود}} ان کو دفن کرنے سے پہلے ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور اپنی نورانی چادر ان کے کفن کے ساتھ لپٹا کر ان کو دفن کیا گیا۔ جب آقا {{درود}} کا اس دنیا میں ظہور ہوا تو آقا درود کا نام محمد ({{درود}}) عبد المطلب اور ابو طالب نے تجویز فرمایا جبکہ آقا {{درود}} کا فرمان ہے کہ میرا نام محمد ({{درود}}) عرش معلیٰ پر نور کے ستر ہزار حجابات میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔
* آپ نے [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضور {{درود}}]] کا نکاح پڑھایا تھا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا تھا۔ اللہ کا نام وہ لوگ استعمال کرتے تھے جو دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔
* ان کی زوجہ [[فاطمہ بنت اسد]] نے اسلام قبول کیا تو ان کا نکاح فسخ نہ ہوا جبکہ اگر کسی مشرک یا کافر کی زوجہ اسلام قبول کرتی تو اس کی شادی فسخ ہو جاتی۔
* آپ نے [[علی بن ابی طالب|علی بن ابی طالب رض]] کو مسلمان ہونے پر کچھ نہ کہا حالانکہ وہ سن و سال میں چھوٹے تھے۔
* آپ کے اشعار جو [[سیرت ابن اسحاق]]، [[سیرت ابن ہشام]]، [[تاریخ الرسل والملوک|تاریخ طبری]] وغیرہ کے علاوہ عربی ادب میں عموماً ملتے ہیں، آپ کے ایمان پر سند ہیں۔
* حضور اکرم {{درود}} اسلام کے عمومی اعلان کے بعد بھی ابو طالب کے دسترخوان پر کھانا کھاتے جبکہ کسی مشرک و کافر کے ساتھ نہ کھاتے۔