"ارتریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

87 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← دار الحکومت؛ تزئینی تبدیلیاں
م (خودکار: خودکار درستی املا ← دار الحکومت؛ تزئینی تبدیلیاں)
|cctld = [[er.|.er]]
|کالنگ_کوڈ = 291
}}
 
'''ارتریا''' (Eritrea)
(تلفظ: {{IPAc-en|ˌ|ɛr|ɨ|ˈ|t|r|eɪ|.|ə}} یا {{IPAc-en|ˌ|ɛr|ɨ|ˈ|t|r|i:|ə}};<ref name=":0">{{cite web|url=http://www.merriam-webster.com/dictionary/eritrea |title=Merriam-Webster Online |publisher=Merriam-webster.com |date=25 April 2007 |accessdate=2 May 2010| archiveurl = http://web.archive.org/web/20181224202206/https://www.merriam-webster.com/dictionary/Eritrea | archivedate = 24 دسمبر 2018 }}</ref> {{lang-ti|ኤርትራ}} ''{{transl|ti|ʾErtrā }}''; {{lang-ar|إرتريا}} ) [[براعظم]] [[افریقا]] کا ایک [[ملک]] ہے۔ اس کا [[دار الحکومت|دارلحکومت]] [[اسمارا]] ہے۔ اس کے مغرب میں [[سوڈان]]، جنوب میں [[ایتھوپیا]] اور جنوب مشرق میں [[جبوتی]] واقع ہیں۔ شمال مشرقی اور مشرقی طرف [[بحر احمر|بحرِ احمر]] کے ساحل ہیں جس کی دوسری طرف [[سعودی عرب]] اور [[یمن]] ہیں۔ ارتریا کا کل رقبہ 1٫17٫600 مربع کلومیٹر ہے اور کل آبادی کا تخمینہ 50 لاکھ ہے۔
== تعریف اور تاریخ ==
شمالی [[صومالیہ]]، جبوتی اور بحیرہ احمر کے سوڈان والے کنارے کے ساتھ ارتریا پرانے دور کی پُنت سرزمین کا حصہ تھا۔ اس سرزمین کا تذکرہ ہمیں 25صدی ق م میں ملتا ہے۔ قدیم پُنت قوم کے مصر کے [[فرعون|فرعونوں]]وں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔
 
دمت نامی سلطنت ارتریا اور شمالی ایتھوپیا میں 8ویں اور 7ویں صدی ق م میں آباد تھی۔ اس کا دارلحکومتدار الحکومت یِحا تھا۔ اس سلطنت نے [[آبپاشی]] کے لیے منصوبے بنائے، [[ہل]] کا استعمال، [[باجرہ|باجرے]] کی کاشتکاری اور لوہے کے [[اوزار]] اور [[اسلحہ|ہتھیار]] بنانے شروع کیے۔ 5ویں صدی میں دمت قوم کے زوال کے بعد اس علاقے میں کئی چھوٹی اقوام آباد رہیں۔
 
ارتریا کی تاریخ اس کی بحیرہ احمر کی ہمسائیگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے [[ساحل]] کی لمبائی 1,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ کئی سائنس دانوں کے خیال میں اسی علاقے سے ہی موجودہ انسان افریقہ کے براعظم سے نکل کر دنیا کے دیگر حصوں کو پھیلے تھے۔ [[سمندر]] پار سے آنے والے قابضوں اور نو آبادیاتی اقوام جیسا کہ [[یمن]] کے علاقے سے، [[سلطنت عثمانیہ|عثمانی ترک]]، [[گوا]] سے [[پرتگیزی زبان|پرتگالی]]، [[مصر|مصری]]،ی، [[انگریز]] اور 19ویں صدی میں [[اطالوی]] وغیرہ یہاں آتے رہے۔ صدیوں تک یہ حملہ آور ہمسائیہ ممالک سے بھی آتے رہے تھے جو مشرقی افریقہ میں ہیں۔ تاہم موجودہ ارتریا 19ویں صدی کے اطالوی حملہ آوروں سے ثقافتی طور پر زیادہ متائثر ہے۔
 
1869 میں نہر سوئیز کے کلھنے کے بعد جب یورپی اقوام نے افریقی سرزمین پر قبضے کر کے وہاں اڈے بنانے شروع کیے تو ارتریا پر [[اطالیہ|اٹلی]] نے حملہ کر کے قبضہ کیا۔ یکم جنوری 1890 کو ارتریا باقاعدہ طور پر اٹلی کی نوآبادی بن گیا۔ 1941 میں یہاں کی کل آبادی 7,60,000 تھی جن میں اطالوی باشندے 70,000 تھے۔ [[اتحادی افواج]] نے 1941 میں اطالویوں کو نکال باہر کر دیا اور خود یہاں قبضہ جما لیا۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت 1951 تک [[برطانیہ]] یہاں کا نظم و نسق سنبھالتا رہا۔ اس کے بعد ارتریا ایتھوپا سے مل گیا۔
 
بحیرہ احمر کے ساحل اور [[معدن|معدنیات]]یات کی وجہ سے ارتریا بہت اہم ہے۔ اسی وجہ سے اسے ایتھوپیا سے ملا دیا گیا تھا۔ 1952 میں ارتریا کو ایتھوپیا کا 14واں صوبہ بنا دیا گیا۔ ایتھوپیا نے اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لیے اپنی زبان کو زبردستی ارتریا کے سکولوں میں لاگو کر دیا۔ اس وجہ سے ارتریا میں 1960 کی دہائی میں آزادی کی تحریک چلی۔ اس تحریک کی وجہ سے 30 سال تک ارتریا اور ایتھوپیا کی حکومتوں کے درمیان مسلح لڑائی جاری رہی۔ یہ [[جنگ]] 1991 میں ختم ہوئی۔ [[اقوام متحدہ|اقوامِ متحدہ]] کی زیرِ نگرانی ہونے والے ریفرنڈم میں ارتریا کے لوگوں نے واضح اکثریت سے آزادی کا فیصلہ کیا اور ارتریا نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ 1993 میں اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔
 
[[تگرینا]] اور [[عربی زبان|عربی]] کو بڑی زبانیں مانا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بین الاقوامی معاملات میں انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے اور 5ویں سے آگے ہر جماعت میں اسے تدریسی زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ارتریا میں ایک ہی سیاسی جماعت ہے۔ 1997 کے آئین کے مطابق [[صدارتی جمہوریہ]] ہے اور [[یک ایوانی پارلیمان|یک ایوانی پارلیمانی]]ی جمہوریہ کا درجہ ملا ہوا ہے تاہم ابھی اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ 1998 میں ایتھوپیا کے ساتھ سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے مابین جنگ ہوئی جس میں 1,35,000 ایتھوپیائی جبکہ 19,000 ارتریائی فوجی ہلاک ہوئے۔
 
== سیاست اور حکومت ==
ارتریا کا نظام پیپلز فرنٹ فار ڈیمو کریسی اینڈ جسٹس نامی پارٹی چلاتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں حالانکہ [[آئین]] ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اجازت دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں کل 150 نشستیں ہیں جن میں سے 75 پر متذکرہ بالا جماعت کے اراکین ہیں۔ [[قومی انتخابات]] کا اعلان اور ان کی منسوخی مسلسل ہوتی رہی ہے اور ملک میں ابھی تک عام انتخابات نہیں ہو سکے۔
ملک میں قومی سیاست کے بارے آزاد ذرائع موجود نہیں۔ [[ستمبر]] [[2001ء|2001]] میں حکومت نے تمام نجی پرنٹ میڈیا پر پابندی عائد کر دی اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے بغیر مقدمے کے قید رکھا جا رہا ہے۔ 2004 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی وجہ سے ارتریا کو خصوصی فہرست میں شامل کیا ہے۔
 
 
== قومی انتخابات ==
2001 میں ارتریا میں انتخابات ہونے تھے لیکن کہا گیا کہ چونکہ ارتریا کا 20 فیصد رقبہ ایتھوپیا کے قبضے میں ہے جس کی آزادی تک انتخابات معطل رہیں گے۔
== علاقے اور اضلاع ==
ارتریا کو چھ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو آگے مزید اضلاع میں منقسم ہیں۔ آبی خصوصیات کی بنا پر علاقوں کو تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر ضلع کو اپنی زراعت پر پورا قابو رہتا ہے۔
== خارجہ تعلقات ==
ارتریا [[افریقی اتحاد|افریقن یونین]] کا حصہ ہے۔ تاہم ایتھوپیا اور ارتریا کے جھگڑوں میں یونین کے غیر عملی کردار کی وجہ سے ارتریا نے اپنا نمائندہ واپس بلا لیا ہے۔
 
== ایتھوپیا سے تعلقات ==
ایتھوپیا کی طرف سے سرحدوں کو نہ ماننا اس وقت ارتریا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
== جغرافیہ ==
ارتریا افریقہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کے شمال مشرق اور مشرق کی جانب بحیرہ احمر موجود ہیں۔ جنوب میں ایتھوپیا اور شمال مغرب میں سوڈان ہے۔
ملک کا بلند ترین مقام ایمبا سوئرا ہے جو سطح سمندر سے 3٫018 میٹر بلند ہے۔
 
بڑے شہروں میں دارلحکومتدار الحکومت اسمارا، بندرگاہ والا شہر اسیب، مساوا اور کیرین اہم ہیں۔
 
== ماحول ==
سرکاری طور پر ارتریا میں [[ہاتھی|ہاتھیوں]]وں کی بہت بڑی تعداد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ 1955 سے 2001 تک ہاتھیوں کے غول دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ سارے ہاتھی جنگِ آزادی کا شکار ہو گئے تھے۔ دسمبر 2001 میں دس نو عمر ہاتھیوں پر مشتمل کل 30 ہاتھیوں کا ایک غول غش دریا کے پاس دیکھا گیا تھا۔ اندازہ ہے کہ پورے ملک میں تقریباً 100 ہاتھی باقی بچے ہیں۔ [[جنگلی کتا|جنگلی کتے]] بھی اب ماضی کا قصہ بن گئے ہیں۔
 
2006 میں ارتریا نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنے سارے ساحل کو ماحولیاتی حوالے سے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 350 جزائر کے ساحل بھی اسی فہرست میں حکومتی حفاظت میں آ گئے ہیں۔
 
== معیشت ==
دیگر افریقی اقوام کی طرح ارتریا کی [[معیشت]] کا بھی زیادہ تر انحصار [[زراعت]] پر ہے اور آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت اور [[گلہ بانی]] سے وابستہ ہے۔ [[قحط سالی]] سے بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
2009 میں کل ملکی پیداوار 1.87 ارب ڈالر تھی۔
 
بقیہ آبادی افریقی ایشیائی اور اطالوی النسل ہے۔
 
آبادی میں سب سے جدید اضافہ بنی رشید قبائل ہیں جو سعودی عرب سے آئے ہیں۔
=== زبانیں ===
ارتریا میں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سرکاری زبان کا درجہ کسی کو حاصل نہیں بلکہ آئین کے مطابق ارتریا کی تمام زبانوں کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم عربی اور تگرینا زبان کو سرکاری کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی اور اطالوی بھی عام سمجھی جاتی ہے۔
 
=== مذہب ===
ارتریا میں دو اہم مذاہب ہیں جو عیسیائیت اور اسلام ہیں۔ دونوں مذاہب کو پچاس پچاس فیصد آبادی مانتی ہے۔ اکثر مسلمان سنی العقیدہ ہیں جبکہ رومن کیتھولک مسیحی مذہب کے پیروکاروں کا اہم عقیدہ ہے۔
=== صحت ===
ارتریا کی حکومت نے لڑکیوں کے ختنے پر پابندی لگا دی ہے اور کہا ہے کہ یہ تکلیف دہ عمل ہے اور اس سے بہت سارے خطرناک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اولاد پیدا کرنے کی شرح فی خاتون 5 بچے ہے۔ شیر خوار بچے انفیکشن سے سب سے زیادہ ہلاک ہوتے ہیں۔ ملیریا اور تپ دق عام ہیں۔ ایڈز کی شرح 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں 2 فیصد ہے۔ گذشتہ دہائی سے پیدائش کے وقت زچہ کی شرح اموات بہت گھٹی ہے۔
== ثقافت ==
ارتریا کا علاقہ تاریخی اعتبار سے دنیا میں تجارت کا مرکز ہے۔ اس وجہ سے بے شمار ثقافتیں ملک بھر میں دکھائی دیتی ہیں۔ دارلحکومتدار الحکومت اسمارا پر سب سے گہرا اثر اٹلی کا پڑا ہے۔
 
شہروں میں ماضی قریب میں بالی وڈ کی فلموں کی برآمد عام بات تھی۔ سینماؤں میں امریکی اور اطالوی فلمیں عام دکھائی جاتی تھیں۔ 1980 کی دہائی اور پھر آزادی کے بعد امریکی فلمیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
لباس کسی خاص انداز تک محدود نہیں اور خواتین عموماً شوخ اور بھڑکیلے رنگ پہنتی ہیں۔ مسلم قبائل میں عربی یعنی بنو رشید ہی برقعے کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
 
{{سامی موضوعات}}
 
[[زمرہ:ارتریا|ارتریا ]]
[[زمرہ:1933ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے]]
[[زمرہ:1993ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے]]
103,690

ترامیم